اسلام اور لبرلزم: ایک فکری مطالعہ

اسلام اور لبرلزم: ایک فکری مطالعہ

انسانی تاریخ کے موجودہ موڑ پر جہاں سائنس اور ٹیکنالوجی نے حیرت انگیز ترقی کی ہے، وہیں فکری سطح پر بھی نئے نئے نظریات اور تصورات جنم لے رہے ہیں۔ موجودہ دور میں ایک عام تاثر یہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ شاید مذہب اور خاص طور پر اسلام، جدیدیت اور سائنسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ مغرب سے متاثر لبرل طبقہ اکثر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مذہب انسان کو قدیم روایات میں قید کر دیتا ہے اور اسے آزادانہ سوچ سے روکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے چودہ سو سال پہلے ان تمام مسائل کا حل فراہم کر دیا تھا۔ جن پر آج بحث ہو رہی ہے۔

مغربی جدیدیت کا مرکز

مغربی جدیدیت یا لبرل فکر چند بنیادی ستونوں پر کھڑی ہے: عقل پرستی، انفرادیت، انسانی حقوق اور لامحدود آزادی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عقلِ انسانی ہی کائنات کا سب سے بڑا فیصلہ کن عنصر ہے اور انسان اپنی ذات میں خود مختار ہے۔ لبرل طبقے کا خیال ہے کہ مذہب انسانی حقوق کو سلب کرتا ہے اور فرد کو معاشرتی و مذہبی زنجیروں میں جکڑ دیتا ہے۔ تاہم، اگر ہم اسلام کی روح کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے ان تصورات کو  زیادہ جامع اور متوازن انداز میں پیش کیا ہے۔

اسلام اور انسانی تکریم

جدیدیت پسند کہتے ہیں کہ “انسان ہی سب کچھ ہے”۔ اسلام نے بھی انسان کو ‘اشرف المخلوقات’ قرار دے کر اسے کائنات کا مرکز قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم کے مطابق انسان اللہ کا نائب ہے اور اسے ‘احسنِ تقویم’ یعنی بہترین شکل و صورت اور صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ لبرل فکر انسان کو خدا بنانا چاہتی ہے، جب کہ اسلام انسان کو اللہ کا بہترین نمائندہ بنا کر اسے اخلاقی حدود کا پابند کرتا ہے تاکہ وہ  درندگی کی طرف مائل نہ ہو اور معاشرے میں امن برقرار رہے۔

عقل اور غور و فکر کی دعوت

اسلام پر ایک بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ عقل کے استعمال سے روکتا ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قرآنِ کریم بارہا “افلا تعقلون” (کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟) اور “افلا تتفکرون” (کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟) کی دعوت دیتا ہے۔ اسلام اندھی تقلید کی بجائے کائنات کی نشانیوں میں تدبر کرنے کا حکم دیتا ہے۔ سائنسی دریافتیں دراصل ان حقائق کی تصدیق کر رہی ہیں۔ جن کا اشارہ صدیوں پہلے قرآن میں دے دیا گیا تھا۔

آزادی اور معاشرتی ذمہ داری

لبرلزم میں انفرادیت اور آزادی کا تصور بعض اوقات مادر پدر آزادی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اسلام فرد کی آزادی کا قائل ہے لیکن اسے دوسروں کے حقوق اور اخلاقیات سے مشروط کرتا ہے۔ اگر آزادی کا مطلب یہ ہو کہ انسان جو چاہے کرے، تو یہ معاشرے میں انارکی پھیلے گی۔ اسلام نے شریعت کے ذریعے ایک ایسا نظام دیا ہے، جہاں عورت کی عزت، جان و مال کا تحفظ اور معاشرتی نظم و ضبط یقینی بنایا جاتا ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تقسیم یہ واضح کرتی ہے کہ بندوں کے حقوق کی تلفی پر سخت گرفت ہوگی۔

اسلام میں عورت کا مقام اور جدیدیت

خواتین کے حقوق کے حوالے سے اسلام پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔ لبرل طبقہ حجاب کو قید سمجھتا ہے، جب کہ اسلام اسے تحفظ اور وقار کی علامت قرار دیتا ہے۔ اگر ہم تاریخِ اسلام کا مطالعہ کریں تو ام المومنین حضرت خدیجہؓ کی تجارت اور حضرت عائشہؓ کا علمی و سیاسی کردار اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اسلام نے عورت کو وہ حقوق دیے جن کا تصور مغرب میں ایک صدی پہلے تک نہیں تھا۔ شادی کے معاملے میں رضامندی، وراثت میں حصہ اور تعلیم کا حق، یہ تمام روشن خیال تصورات اسلام کی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہیں۔

جہاد اور انتہا پسندی کا فرق

آج کے دور میں ‘جہاد’ کو غلط رنگ دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں جہاد صرف ظلم کے خلاف اور حق کی سربراہی کے لیے ہے۔ ایک پرامن غیر مسلم کے خلاف جنگ کا کوئی حکم نہیں ہے۔ اسلام نے تو ‘جہادِ بن نفس’ یعنی اپنے نفس کی بری خواہشات کے خلاف جنگ کو سب سے افضل قرار دیا ہے۔ یہ وہ روحانی پہلو ہے جسے مادہ پرست دنیا سمجھنے سے قاصر ہے۔

حاصلِ کلام: اسلام ہی جدید ترین دین ہے

جدید سائنس آج یہ ماننے پر مجبور ہے کہ کائنات صرف مادے کا نام نہیں بلکہ یہ توانائی کا کرشمہ ہے۔ اسلام نے ہمیشہ سے مادیت کے ساتھ روحانیت کے امتزاج پر زور دیا ہے۔ مذہب صرف ظاہری عبادات یا مخصوص لباس کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک بہترین کردار اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام کا مطالعہ کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اسے تعصب کی عینک اتار کر قرآن و سنت کی اصل روشنی میں دیکھیں۔

مختصراً یہ کہ اسلام نہ صرف جدید ہے بلکہ یہ ہر دور کے مسائل کا حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن کا ترجمے کے ساتھ مطالعہ کریں اور اس کی آفاقی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں۔

Leave a Comment