انسانی زندگی پر مثالی شخصیات (رول ماڈلز) کے اثرات : تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ
انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر موڑ پر، خواہ وہ بچپن ہو یا جوانی، کسی نہ کسی شخصیت سے متاثر ہوتا ہے۔ یہ تاثر رفتہ رفتہ اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ انسان شعوری یا لاشعوری طور پر اس شخصیت کی نقل کرنے لگتا ہے۔ موجودہ دور میں، جہاں سوشل میڈیا نے انسانی ذہنوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، ‘رول ماڈل’ یا ‘مثالی شخصیت’ کے انتخاب کا مسئلہ ایک سنگین علمی اور نفسیاتی چیلنج بن کر ابھرا ہے۔
مثالی شخصیت کی ضرورت اور عصرِ حاضر کے تقاضے
ایک کامیاب اور خوش گوار زندگی گزارنے کے لیے ہر انسان کو کسی نہ کسی نظریاتی یا عملی رہبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ قدیم دور میں یہ انتخاب خاندان کے بزرگوں، اساتذہ یا مذہبی پیشواؤں تک محدود تھا، لیکن آج کی ڈیجیٹل دنیا میں ہر روز نئے چہرے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں المیہ یہ ہے کہ لوگوں کے آئیڈیل یا رول ماڈلز روزانہ کی بنیاد پر بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی ہم کسی فلمی ستارے کی چکا چوند سے متاثر ہوتے ہیں تو کبھی کسی کامیاب کاروباری شخص کی دولت ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اس دوڑ میں ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ جس شخصیت کی ہم پیروی کر رہے ہیں، اس کا پس منظر، اس کی جدوجہد اور اس کے اخلاقی معیارات کیا ہیں۔
ظاہری چکا چوند بمقابلہ حقیقی مہارت
عموماً دیکھا گیا ہے کہ نوجوان نسل کسی کی ظاہری وضع قطع، لباس یا پروٹوکول کو دیکھ کر اسے اپنا رول ماڈل بنا لیتی ہے۔ اگرچہ صفائی ستھرائی اور اچھے لباس کی حد تک کسی کی پیروی کرنا برا نہیں، لیکن اگر محض کسی کی نمود و نمائش سے متاثر ہو کر کوئی شخص اپنا بنیادی شعبہ یا زندگی کا مقصد ہی تبدیل کر لے، تو یہ یقینی طور پر ناکامی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔
حقیقی رول ماڈل وہ ہونا چاہیے جس سے آپ کوئی ہنر، کوئی مہارت یا کوئی اعلیٰ اخلاقی صفت سیکھ سکیں۔ ایک انسان کی زندگی میں ایک سے زائد رول ماڈلز ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ فنِ خطابت سیکھنا چاہتے ہیں تو آپ ضیاء محی الدین جیسی شخصیت کو اپنا رہنما بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ کسی خاص سائنسی شعبے، جیسے فزکس یا کیمسٹری، میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس شعبے کے ماہرین آپ کے لیے مشعلِ راہ بن سکتے ہیں۔ غرض یہ کہ دنیاوی علوم اور مہارتیں سیکھنے کے لیے اس شعبے کے کامیاب ترین افراد کی پیروی کرنا ایک مثبت عمل ہے۔
کمال اور نقص کا توازن
تحقیقی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو کوئی بھی عام انسان ہر پہلو سے مکمل نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ اپنے پیشہ ورانہ شعبے میں تو کمال رکھتے ہیں لیکن ان کی نجی زندگی یا اخلاقی رویے مثالی نہیں ہوتے۔ کوئی بہت بڑا سیاست دان ہو سکتا ہے جو سیاست کے میدان میں تو ماہر ہو، مگر اس کی ذاتی زندگی قابلِ تقلید نہ ہو۔ اسی طرح ایک بہترین استاد اپنے علم میں تو بے مثال ہو سکتا ہے لیکن ممکن ہے کہ وہ زندگی کے دیگر معاملات میں کامل نہ ہو۔ اس لیے محققین کا ماننا ہے کہ کسی بھی شخصیت کی اندھی تقلید کی بجائے اس کی صرف ان خوبیوں یا مہارتوں کو اپنایا جائے جو تعمیری ہوں۔
سیرتِ طیبہﷺ: کائنات کا بہترین نمونہ
جب ہم ایک ایسی شخصیت کی تلاش کرتے ہیں جو زندگی کے ہر شعبے میں، خواہ وہ اخلاقیات ہوں، تجارت ہو، معاشرت ہو یا سیاست، ہمیں مکمل رہنمائی فراہم کرے، تو کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ مبارکہ سامنے آتی ہے۔ قرآنِ کریم نے واضح طور پر اعلان فرمایا کہ “تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ (اسوۂ حسنہ) موجود ہے”۔
ایک محقق کے لیے یہ بات نہایت اہم ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کے تمام پہلو دستاویزی شکل میں محفوظ ہیں اور رہتی دنیا تک کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپ ﷺ کی دیانت، سچائی، عدل اور لوگوں کے ساتھ لین دین کے معاملات ایسے ہیں جن کی تعریف غیر مسلم مفکرین نے بھی کی ہے۔ علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو اپنے اشعار میں بڑے خوب صورت انداز میں بیان کیا ہے ۔
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر
وہی قُرآں، وہی فُرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ
عصرِ حاضر کا مسلمان اور عملی تضاد
بدقسمتی سے آج کے مسلمان نے ظاہری علامتوں کو تو اپنا لیا ہے، مگر اس عملی روح کو فراموش کر دیا ہے جس کی بنیاد پر آپ ﷺ ‘صادق اور امین’ کہلائے۔ ہم اکثر اس بحث میں تو پڑے رہتے ہیں کہ لباس کی وضع قطع کیسی ہو، لیکن جب بات عملی زندگی میں دیانت داری اور حسنِ سلوک کی آتی ہے، تو ہم اپنے رول ماڈل کی تعلیمات سے دور نظر آتے ہیں۔
کامیابی کا سنہرا اصول یہ ہے کہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سوچا جائے کہ اگر اس مقام پر نبی کریم ﷺ ہوتے تو وہ کیا طرزِ عمل اختیار فرماتے۔ یہ سوچ انسان کو فکری انتشار سے بچاتی ہے اور ایک واضح سمت عطا کرتی ہے۔
غیر مسلموں سے علم کا حصول
اسلام ایک وسیع النظر مذہب ہے۔ آپ ﷺ نے فتحِ مکہ کے موقع پر مشرکینِ مکہ کے قیدیوں کو یہ ذمہ داری، دی کہ وہ مسلمانوں کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں اور یہی ان کی رہائی کا فدیہ ہو گا۔ اس سے یہ علمی نکتہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیاوی علوم اور مہارتیں سیکھنے کے لیے اگر کسی غیر مسلم کو بھی استاد یا اس خاص فن کے لیے رول ماڈل بنایا جائے تو اس میں کوئی شرعی یا اخلاقی برائی نہیں ہے۔ علم مومن کی گمشدہ میراث ہے، وہ جہاں سے ملے اسے حاصل کرنا چاہیے۔
حاصلِ بحث
رول ماڈل کا انتخاب محض ایک جذباتی فیصلہ نہیں بلکہ یہ آپ کی آنے والی زندگی کے رخ کا تعین کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو ایسے سانچوں میں ڈھالیں کہ ہم صرف دوسروں کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہی نہ رہیں، بلکہ خود بھی ایک ایسی مثالی شخصیت بن کر ابھریں کہ آنے والی نسلیں ہمیں اپنا رول ماڈل بنا سکیں۔ حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ انسان دوسروں کے لیے خیر اور رہنمائی کا ذریعہ بنے۔