تصورِ خدا اور وجودِ باری تعالیٰ: علامہ اقبال اور عقلی فلسفے کی روشنی میں

تصورِ خدا اور وجودِ باری تعالیٰ: علامہ اقبال اور عقلی فلسفے کی روشنی میں

انسانی تاریخ میں سب سے قدیم اور اہم ترین سوال “وجودِ خدا” کا رہا ہے۔ کائنات کی تخلیق سے لے کر آج کے جدید دور تک، انسان نے ہمیشہ یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا اس عظیم الشان نظام کا کوئی خالق ہے، یا یہ سب کچھ محض ایک اتفاق ہے۔ دورِ حاضر میں، جہاں مادیت پرستی کا غلبہ ہے، لادینیت کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ بہت سے نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ “خدا کہاں ہے؟”، “وہ سامنے کیوں نہیں آتا؟” اور “اگر اسے کسی نے نہیں بنایا تو وہ کیسے موجود ہے؟” ان سوالات سے گھبرانے یا سوال کرنے والے کو ڈانٹنے کی بجائے، اسلام ہمیں غور و فکر اور عقل کی بنیاد پر جواب تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ علامہ اقبال، جو ایک عظیم فلسفی اور مفکر تھے، انہوں نے ان سوالات کے جوابات نہایت گہرائی اور بصیرت کے ساتھ دیے ہیں۔

دہریت اور منکرین کے اعتراضات کا علمی جائزہ

منکر وہ شخص ہے جو کسی بھی بالاتر ہستی یا خدا کے وجود کا سرے سے انکار کر دیتا ہے۔ ان کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ کائنات خود بخود وجود میں آئی اور ارتقائی عمل کے ذریعے موجودہ شکل اختیار کی۔ تاہم، عقلِ سلیم اس بات کو تسلیم کرنے سے قاصر ہے کہ ایک سوئی جیسی معمولی چیز تو بغیر بنانے والے کے نہیں بن سکتی، تو یہ اربوں کہکشاؤں پر مشتمل کائنات بغیر کسی خالق کے کیسے چل رہی ہے؟

امام ابو حنیفہ کا ایک منکر کے ساتھ مشہور مکالمہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ آپ نے اسے ایک ایسی کشتی کی مثال دی جو بغیر ملاح کے سمندر کی موجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے خود بخود منزل پر پہنچ گئی۔ جب اس نے اسے ناممکن قرار دیا، تو امام صاحب نے فرمایا کہ اگر ایک چھوٹی سی کشتی بغیر چلانے والے کے نہیں چل سکتی، تو یہ سورج، چاند اور ستاروں کا عظیم نظام بغیر کسی ناظم کے کیسے رواں دواں ہے؟

علامہ اقبال کا تصورِ خدا: انائے مطلق

علامہ اقبال نے خدا کے وجود کو “مابعد الطبیعیات” کے تناظر میں دیکھا۔ اقبال خدا کو “انائے مطلق” یا “خودیِ مطلق” قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک خدا ایک مردہ قوت نہیں بلکہ ایک زندہ و جاوید ہستی ہے جو نہ صرف کائنات کو تخلیق کرتی ہے بلکہ اسے مسلسل ہدایت بھی فراہم کرتی ہے۔ اقبال کے فلسفے میں دو چیزیں بنیادی ہیں:

خلق: یعنی پیدا کرنے کا عمل۔

امر: یعنی کائنات کو چلانے کے لیے رہنمائی اور قوانین فراہم کرنا۔

اقبال کا مشہور واقعہ ہے کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ “کیا خدا ہے؟” تو انھوں نے مسکرا کر جواب دیا، “میں نے اسے دیکھا ہے”۔ یہ دیکھنا ظاہری آنکھوں سے نہیں بلکہ بصیرت اور کائنات کی نشانیوں کے مشاہدے سے تھا۔ قرآن پاک بھی بار بار انسان کو زمین کی سیر کرنے اور کائنات کے نظام میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے تاکہ وہ خالق تک پہنچ سکے۔اسی طرح اقبال کا ایک اور جواب جو انھوں نے ملحدین کو دیا وہ یہ تھا کہ’’ مجھے دنیا کے سب سے سچے(نبی ﷺ) انسان سے پتا چلا کہ خدا ہے‘‘۔جس کی صداقت کی گواہی دنیا خود دیتی ہے۔ جس کو کافروں نے بھی صادق اور امین کہا۔

عقلی دلائل: قوتِ ثقل اور توانائی کی مثال

اکثر لادین حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جو چیز نظر نہ آئے وہ موجود نہیں ہوتی۔ لیکن عقل خود اس نظریے کی تردید کرتی ہے۔ مثال کے طور پر “قوتِ ثقل” یا “توانائی” کو کسی نے نہیں دیکھا، مگر ان کے اثرات سے ان کے وجود کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اگر ہم کششِ ثقل کو دیکھے بغیر مان لیتے ہیں، تو پھر اس کائنات کے خالق کو اس کی نشانیوں کے ذریعے ماننے میں کیا رکاوٹ ہے؟ قوتِ ثقل کا وجود اس کے اثر (چیزوں کا نیچے گرنا) سے ثابت ہے، اسی طرح خدا کا وجود اس کی تخلیق (انسان، درخت، پتھر، سیارے) سے ثابت ہے۔

نظریہ ارتقاء اور اس کے تضادات

نظریہ ارتقاء، جو لادینوں کی بنیادی دلیل رہا ہے، اب خود علمی حلقوں میں تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔ اگر انسان مچھلی سے بندر اور بندر سے انسان بنا، تو یہ ارتقاء اب کیوں رک گیا ہے؟ ہزاروں سالوں سے انسان اسی شکل میں کیوں موجود ہے؟ بندر اب انسان کیوں نہیں بن رہے؟ یہ سوالات ثابت کرتے ہیں کہ انسان کی تخلیق ایک خاص منصوبے اور الٰہی حکم کے تحت ہوئی ہے، نہ کہ محض ایک حادثاتی عمل کے نتیجے میں۔

تخلیقِ انسانی اور کائنات کا توازن

انسانی جسم کے پیچیدہ نظام پر غور کریں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ آنکھ کی ساخت، دماغ کے کھربوں خلیات اور دل کا دھڑکنا، یہ سب ایک عظیم خالق کی گواہی دیتے ہیں۔ ایک ہی مٹی سے طرح طرح کے پھل پیدا ہونا، جن کے ذائقے اور رنگ الگ ہیں، کیا یہ خود بخود ہو سکتا ہے؟ ایک گائے جو گھاس کھاتی ہے اور گوبر و خون کے درمیان سے سفید شفاف دودھ نکالتی ہے، یہ محض کیمیائی عمل نہیں بلکہ قدرت کا عظیم کرشمہ ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ انسان کبھی خدا نہیں ہو سکتا اور خدا کبھی انسان نہیں ہو سکتا۔ انسان “مخلوق” ہے جس میں مٹی اور روح کا امتزاج ہے، جب کہ خدا “خالق” اور “نور” ہے۔

قرآن پاک: ابدی معجزہ اور خدا کا کلام

خدا کے وجود کا ایک بڑا ثبوت قرآن مجید ہے۔ چودہ سو سال پہلے نازل ہونے والی یہ کتاب آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ انسانی نظریات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، ایک مفروضہ دوسرے کو غلط ثابت کر دیتا ہے، لیکن قرآن میں بیان کردہ حقائق آج کی جدید تحقیق بھی غلط ثابت نہیں کر سکی۔ چاہے وہ انسانی تخلیق کے مراحل ہوں یا سمندروں کے درمیان پردہ، قرآن کی سچائی خدا کے وجود کی سب سے بڑی عقلی دلیل ہے۔ اگر یہ انسانی کلام ہوتا تو وقت کے ساتھ اس میں تضادات پیدا ہو جاتے۔

حاصل بحث

خلاصہ یہ کہ خدا کا وجود کسی تجربہ گاہ کے تجربے کا محتاج نہیں، بلکہ یہ کائنات کا سب سے بڑا سچ ہے۔ علامہ اقبال کے بقول، خدا کو ڈھونڈنے کے لیے اپنی خودی کو پہچاننا ضروری ہے۔ جب انسان اپنے اندر جھانکتا ہے اور کائنات کے نظام میں تدبر کرتا ہے، تو اسے کائنات کے ذرے ذرے سے “اللہ” کی صدا سنائی دیتی ہے۔ خدا سامنے اس لیے نہیں آتا کیوں کہ وہ ہماری بصارت کی قید سے بالا تر ہے، لیکن وہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ جو اسے سچے دل سے پکارتا ہے، وہ اسے اپنی زندگی کے معاملات اور اپنے دل کے اطمینان میں پاتا ہے۔

Leave a Comment