لفظوں کا صحیح چناؤ: ’قضائے الٰہی‘ اور ’رضائے الٰہی‘ کا فرق
اردو زبان اور ہمارے معاشرتی رویوں میں بعض الفاظ کا غلط استعمال اس قدر جڑ پکڑ چکا ہے کہ اب وہ ہمیں غلط محسوس ہی نہیں ہوتے۔ خاص طور پر غم، وفات اور تعزیت کے مواقع پر بولے جانے والے جملے اکثر لسانی اور معنوی اعتبار سے درست نہیں ہوتے۔ ان میں سب سے نمایاں غلطی ‘قضا’ اور ‘رضا’ کے فرق کو نظر انداز کرنا ہے۔
قضا اور رضا: مفہوم کا فرق
کسی کے انتقال کی خبر دیتے وقت اکثر مساجد کے اعلانات یا عام گفت گو میں یہ کہا جاتا ہے کہ “فلاں شخص رضائے الٰہی سے وفات پا گیا ہے”۔ معنوی لحاظ سے یہ جملہ درست نہیں ہے۔
قضائے الٰہی: ‘قضا’ کے معنی تقدیر، فیصلے یا حکم کے ہیں۔ چوں کہ موت اللہ تعالیٰ کا ایک اٹل فیصلہ اور تقدیر ہے، اس لیے یہاں درست اصطلاح ‘قضائے الٰہی’ (اللہ کا فیصلہ) ہے۔
رضائے الٰہی: ‘رضا’ کے معنی خوشنودی، پسندیدگی یا مرضی کے ہیں۔ کسی انسان کا دنیا سے رخصت ہونا اللہ کی تقدیر تو ہے، لیکن اسے اللہ کی ‘خوشی’ یا ‘خوشنودی’ سے تعبیر کرنا مناسب نہیں۔
لہٰذا، صحیح جملہ یہ ہونا چاہیے کہ “فلاں شخص قضائے الٰہی سے وفات پا گیا ہے”۔
تعزیت اور حادثات میں الفاظ کا استعمال
موت یا کسی ناگہانی حادثے کی صورت میں اکثر لوگ پنجابی یا اردو میں یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ “اللہ دی ایہو مرضی سی” یا “اللہ کی اسی میں رضا تھی”۔ اگرچہ یہ الفاظ صبر کی نیت سے کہے جاتے ہیں، لیکن کسی کی تکلیف یا صدمے کو اللہ کی خوشنودی (رضا) سے منسوب کرنے کے بجائے مسنون طریقہ اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ایسے مواقع پر فلسفیانہ جملوں کے بجائے دعائیہ کلمات کا تبادلہ کرنا چاہیے، جو نہ صرف سنت ہے بلکہ متاثرہ شخص کے لیے تسلی کا باعث بھی بنتا ہے۔
موقع کی مناسبت سے بہتر دعائیہ کلمات
جب ہم کسی کی تعزیت کے لیے جائیں یا کسی کی عیادت کریں، تو ان الفاظ کا انتخاب کریں
وفات پر: “اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔”
حادثے یا بیماری پر: “اللہ آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، جلد صحت یابی دے اور مزید نقصانات سے محفوظ رکھے۔”
حاصلِ بحث
زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ عقیدے اور علم کی عکاس بھی ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ خاص طور پر حساس مواقع پر الفاظ استعمال کرتے وقت ان کے معنی و مفہوم کا ادراک رکھیں۔ ‘رضا’ اور ‘قضا’ کا درست فرق سمجھ کر ہم اپنی گفت گو کو باوقار اور معنوی طور پر درست بنا سکتے ہیں۔