پیسہ اور سکون: ایک ادھورا سچ

پیسہ اور سکون: ایک ادھورا سچ ( ایک نئی اور حقیقت پسندانہ نظر)

ہمارے معاشرے میں ایک جملہ بہت تواتر کے ساتھ دہرایا جاتا ہے کہ “پیسے سے سکون نہیں خریدا جا سکتا”۔ عام طور پر یہ بات اس لیے کہی جاتی ہے تاکہ انسان قناعت پسندی اختیار کرے، لیکن اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ نظریہ بڑی حد تک ادھورا اور کسی حد تک گمراہ کن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیسہ بذاتِ خود ایک طاقتور وسیلہ ہے، جو نہ صرف آپ کی زندگی میں آسانی لاتا ہے بلکہ آپ کو وہ ذہنی سکون فراہم کرتا ہے جو وسائل کی کمی کی صورت میں ناممکن ہے۔

جدید دور کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے لے کر اعلیٰ ترین خوابوں تک، ہر چیز کا دارومدار پیسے پر ہے۔ جب ایک انسان کے پاس اتنے وسائل ہوں کہ وہ اپنی اور اپنے گھر والوں کی صحت، تعلیم اور خوراک کی بہتر سہولیات فراہم کر سکے، تو اسے وہ ذہنی اطمینان حاصل ہوتا ہے جسے ہم ‘سکون’ کہتے ہیں۔ اس کے برعکس، غربت اور معاشی تنگی انسان کو مسلسل تناؤ اور بے چینی میں مبتلا رکھتی ہے۔ لہٰذا، زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی کوشش کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ زندگی میں توازن پیدا کرنے کے لیے ضروری بھی ہے۔

 

اسلام دینِ فطرت ہے، جو رہبانیت (دنیا چھوڑ دینے) کی نفی کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں مال و دولت کو اللہ تعالیٰ نے “فضل” اور “خیر” سے تعبیر کیا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

پھر جب نماز پوری کرلی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل سے (حصہ) تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (الجمعہ: 10)

ایک اور مقام پر فرمایا گیا:۔

ترجمہ “اور اللہ نے جو تمہیں دے رکھا ہے اس سے آخرت کا گھر تلاش کرو اور دنیا میں سے اپنا حصہ نہ بھولو۔” (القصص: 77)

سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیک آدمی کے لیے حلال مال کیا ہی اچھی چیز ہے۔“  (مسند الشهاب/حدیث: 1315)

اسی طرح  تاریخ کے کامیاب ترین افراد نے بھی دولت کی اہمیت کا اعتراف کیا ہے:

ارسطو کا ماننا تھا کہ فضیلت اور نیکی کی زندگی گزارنے کے لیے بیرونی وسائل (دولت) کا ہونا ضروری ہے، کیوں کہ ان کے بغیر انسان کئی خیر کے کاموں سے محروم رہ جاتا ہے۔

مارگریٹ تھیچر نے ایک بار کہا تھا: “کسی کے پاس صرف نیک جذبات ہونا کافی نہیں، نیک سامری (Good Samaritan) کے پاس دولت بھی تھی، تبھی وہ دوسروں کی مدد کر سکا تھا۔”

بل گیٹس کا ایک قول بہت مشہور ہے کہ: “غریب پیدا ہونا تمہارا قصور نہیں، لیکن غریب مر جانا تمہارا قصور ہے۔” 

یہاں یہ نکتہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ ہر پیسے میں سکون نہیں ہوتا۔ سکون کا تعلق پیسے کی مقدار سے زیادہ اس کے حصول کے ذریعے سے ہے۔ اگر دولت حرام طریقے، دھوکہ دہی یا دوسروں کا حق مار کر کمائی گئی ہو، تو وہ کروڑوں میں ہو کر بھی انسان کو بے سکون رکھتی ہے۔ لیکن اگر وہی پیسہ حلال طریقے، محنت اور دیانت داری سے کمایا جائے، تو وہ گھر میں برکت اور دل میں اطمینان لاتا ہے۔

پیسے کا سب سے خوب صورت پہلو یہ ہے کہ یہ آپ کو دوسروں کے کام آنے کے قابل بناتا ہے۔ ایک امیر شخص ہسپتال بنوا سکتا ہے، غریب بچوں کی تعلیم کا خرچہ اٹھا سکتا ہے اور بیواؤں کی کفالت کر سکتا ہے۔ جب آپ کسی کی ضرورت پوری کرتے ہیں، تو جو خوشی اور دلی سکون آپ کو ملتا ہے، وہ دنیا کی کسی دوسری چیز میں نہیں۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ پیسہ کمائیے تاکہ آپ لینے والے نہیں بلکہ دینے والے ہاتھ بن سکیں۔جس طرح ایک حدیث نبوی ﷺ ہے ’’  اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہاتھ ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے۔‘‘

اس لیے یہ کہنا کہ پیسے سے سکون نہیں ملتا، ایک ایسی بات ہے جو انسان کو مادی ترقی سے روکنے کے لیے کہی جاتی ہے۔ درست بات یہ ہے کہ “حرام کے پیسے میں سکون نہیں ہوتا”۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی تمام تر توانائیاں حلال رزق کمانے میں لگائیں، کیوں کہ معاشی خود مختاری ہی عزتِ نفس اور حقیقی سکون کا راستہ ہے۔

Leave a Comment