پیسہ اور سکون: ایک ادھورا سچ

پیسہ اور سکون: ایک ادھورا سچ ( ایک نئی اور حقیقت پسندانہ نظر) ہمارے معاشرے میں ایک جملہ بہت تواتر کے ساتھ دہرایا جاتا ہے کہ “پیسے سے سکون نہیں خریدا جا سکتا”۔ عام طور پر یہ بات اس لیے کہی جاتی ہے تاکہ انسان قناعت پسندی اختیار کرے، لیکن اگر گہرائی سے جائزہ لیا … Read more

علامہ اقبال کا فلسفہِ بے خودی اور اجتماعی بقا

علامہ اقبال کا فلسفہِ بے خودی اور اجتماعی بقا (فرد سے ملت تک کا سفر) علامہ محمد اقبال کی شاعری اور فکر کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو دو بنیادی اصطلاحات سامنے آتی ہیں: “خودی” اور “بے خودی”۔ جہاں خودی انسان کو اپنی ذات کی پہچان، خود شناسی اور انفرادی بلندی کا درس دیتی … Read more

فلسفہِ خودی اور دورِ جدید

 فلسفہِ خودی اور دورِ جدید :  کیا ہم اپنی اصل حقیقت بھول چکے ہیں؟ علامہ محمد اقبال کا “تصورِ خودی” محض ایک فلسفیانہ اصطلاح نہیں بلکہ ایک زندہ  وجاوید پیغام ہے جو انسان کو مٹی کے ڈھیر سے اٹھا کر ستاروں پر کمند ڈالنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اقبال کے نزدیک خودی انسانی وجود کا … Read more

اقبال کی خودی کا قتل اور ہمارا کردار؟

اقبال کی خودی کا قتل اور ہمارا کردار؟ علامہ محمد اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کو جس “خودی” کا درس دیا تھا، وہ محض شاعری نہیں بلکہ ایک زندہ جاوید فلسفہ تھا۔ خودی کا مطلب اپنی ذات کو پہچاننا، اپنے اندر چھپے ہوئے جوہر کو نکھارنا اور اللہ کے سوا کسی بھی غیر کے سامنے … Read more

دین و سیاست کا لازمی ربط

دین و سیاست کا لازمی ربط : فکر اقبال کی روشنی میں عام طور پر ہمارے معاشرے میں یہ فکری کج روی پائی جاتی ہے کہ مذہب اور سیاست دو الگ الگ خانوں کے نام ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دین محض تسبیح و مصلے کا نام ہے، جب کہ سیاست جوڑ توڑ، … Read more

تصورِ خدا اور وجودِ باری تعالیٰ: علامہ اقبال اور عقلی فلسفے کی روشنی میں

تصورِ خدا اور وجودِ باری تعالیٰ: علامہ اقبال اور عقلی فلسفے کی روشنی میں انسانی تاریخ میں سب سے قدیم اور اہم ترین سوال “وجودِ خدا” کا رہا ہے۔ کائنات کی تخلیق سے لے کر آج کے جدید دور تک، انسان نے ہمیشہ یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا اس عظیم الشان نظام … Read more