اقبال اور مغربی تہذیب: تنقید، تحسین اور اعتدال

اقبال اور مغربی تہذیب: تنقید، تحسین اور اعتدال

علامہ محمد اقبال کی شاعری اور فلسفہ کسی ایک خطے یا قوم تک محدود نہیں، بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اقبال کے بارے میں عموماً یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ مغربی تہذیب کے سخت ترین ناقد تھے، لیکن حقیقت میں ان کا رویہ محض جذباتیت پر مبنی نہیں تھا بلکہ ایک گہرے فکری مطالعے کا نتیجہ تھا۔ انھوں نے مغرب کی مادہ پرستی پر چوٹ بھی کی اور ان کی عملیت پسندی کی تعریف بھی کی۔

مغربی تہذیب کی مادہ پرستی پر تنقید

اقبال کی مغربی تہذیب پر تنقید کی بنیادی وجہ وہاں کی بے لگام “مادیت پسندی” تھی۔ اقبال کا ماننا تھا کہ مغرب نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں بے پناہ ترقی کی لیکن اس دوران وہ اپنی روح کو فراموش کر بیٹھا۔ اقبال کے نزدیک جو تہذیب صرف مادے پر کھڑی ہو، وہ پائیدار نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے خبردار کرتے ہوئے فرمایا:

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا

تسخیرِ فطرت اور عمل کا پیغام

جہاں اقبال مغرب کی لادینیت کے ناقد تھے، وہیں وہ ان کی عملی جدوجہد اور “تسخیرِ فطرت” کے مداح بھی تھے۔ اقبال نے مشرقی نوجوانوں کو پیغام دیا کہ اگر تمہیں مغرب سے کچھ سیکھنا ہے تو ان کا “عمل” اور “تحقیق کا جذبہ” سیکھو۔ انھوں نے مسلمانوں کو جھنجھوڑا کہ کائنات کو مسخر کرنا دراصل مومن کا کام تھا ،جو مغرب نے کر دکھایا:

مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر

فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر

اندھی تقلید کی مخالفت

اقبال کا سب سے بڑا گلہ مشرقی اقوام سے یہ تھا کہ انھوں نے مغرب کی روح یا ان کے علم کو اپنانے کی بجائے ان کی ظاہری چمک دمک اور وضع قطع کی اندھی تقلید شروع کر دی۔ اقبال کے نزدیک اصل ترقی علم کی بنیاد پر ہوتی ہے، لباس یا طرزِ زندگی سے نہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

قوتِ مغرب نہ از چنگ و رباب

نے ز رقصِ دخترانِ بے حجاب

قوت افرنگ از علم و فن است

از ہمین آتش چراغش روشن است

(ترجمہ: مغرب کی قوت ناچ گانے یا بے حیا لڑکیوں سے نہیں، بلکہ علم و فن سے ہے اور اسی آگ سے ان کا چراغ روشن ہے۔)

عقل اور عشق کا ملاپ

اقبال کا فلسفہ عقل اور عشق کے امتزاج پر مبنی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مغرب کے پاس عقل تو ہے لیکن روحانیت (عشق) نہیں، جب کہ مشرق کے پاس روحانیت تو ہے لیکن اس نے عقل (سائنس) کو چھوڑ دیا ہے۔ وہ ایک ایسے انقلاب کے داعی تھے ،جہاں دونوں مل کر انسانیت کی فلاح کریں۔ اسی لیے انھوں نے فرمایا:

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں

عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

مغرب کی بے روح عقل پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا:

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق

عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

خلاصہ کلام

علامہ اقبال کا نظریۂ مغرب نفرت پر نہیں بلکہ اصلاح پر مبنی تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ مشرق سائنسی تجسس مغرب سے لے، اور مغرب اخلاقی اقدار مشرق سے حاصل کرے۔ ان کے نزدیک انسانی زندگی روح اور مادے کا مجموعہ ہے، اس لیے تہذیب کی ترقی کے لیے بھی  عقل اور عشق دونوں کا ساتھ ہونا ناگزیر ہے۔ اگر عقل کو عشق کی رہنمائی میسر آ جائے تو یہ دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔

Leave a Comment