اپنے مستقبل کا حال جانیے: ذہنی تخلیق سے عملی کامیابی تک
انسان ہمیشہ سے اپنے مستقبل کے بارے میں متجسس رہا ہے۔ قدیم زمانے سے لے کر آج کے جدید دور تک لوگ اپنے کل کی جھلک دیکھنے کے لیے ستاروں کی چال، ہاتھ کی لکیریوں اور نجومیوں کا سہارا لیتے آئے ہیں۔ اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا یہ لکیریں واقعی بتا سکتی ہیں کہ ہم کیسی زندگی گزاریں گے؟ کیا مستقبل کا حال جاننا ممکن ہے؟ جدید تحقیق اور انسانی نفسیات کے ماہرین اس کا جواب ایک مختلف زاویے سے دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، مستقبل کا حال جاننا نہ صرف ممکن ہے، بلکہ آپ خود اپنے مستقبل کے معمار بھی بن سکتے ہیں۔
ہر چیز کی دو بار تخلیق
جدید ریسرچ کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز کی پیدائش دو بار ہوتی ہے۔ پہلی تخلیق انسان کے دماغ میں ہوتی ہے جسے “ذہنی تخلیق” کہا جاتا ہے، اور دوسری تخلیق مادی دنیا میں ہوتی ہے جسے “جسمانی یا عملی تخلیق” کہتے ہیں۔
اس کی سادہ سی مثال ایک عمارت کی ہے۔ جب کوئی عمارت تعمیر کی جاتی ہے، تو وہ پہلے معمار کے ذہن میں ایک نقشے کی صورت میں وجود پاتی ہے۔ پھر اسے کاغذ پر منتقل کیا جاتا ہے اور آخر کار اینٹ اور گارے سے اسے عملی شکل دی جاتی ہے۔ اگر ذہن میں نقشہ واضح نہ ہو تو عمارت کبھی بھی درست انداز میں تعمیر نہیں ہو سکتی۔ بالکل اسی طرح، اگر آپ اپنے مستقبل کو عملی طور پر کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں، تو پہلے اس کی ایک واضح تصویر آپ کے ذہن میں لازمی ہونی چاہیے۔
منفی سوچ اور مستقبل پر اثرات
بدقسمتی سے، ہم میں سے اکثر لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں نجومیوں سے تو پوچھتے ہیں، لیکن اپنے اندر جاری منفی سوچ پر غور نہیں کرتے۔ جب ایک انسان مسلسل یہ سوچتا ہے کہ “میں اچھی تعلیم حاصل نہیں کر سکتا،” “میں بڑا انسان نہیں بن سکتا،” یا “میں دولت مند نہیں ہو سکتا،” تو وہ دراصل اپنے ذہن میں ایک ناکام مستقبل کا نقشہ تیار کر رہا ہوتا ہے۔
قانونِ فطرت یہ ہے کہ جو تصویر آپ کے ذہن میں دھندلی یا منفی ہوگی، اس کی عملی شکل بھی ویسی ہی ہوگی۔آپ اپنے مستقبل کو صرف اسی حد تک واضح اور کامیاب بنا سکتے ہیں، جتنا اسے آپ اپنے تخیل میں واضح دیکھ سکیں گے۔
تصور اور تخیل کی طاقت
مستقبل کا حال جاننے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ خود یہ فیصلہ کریں کہ آپ کیا بننا چاہتے ہیں۔ حضرت واصف علی واصفؒ کا قول ہے کہ “تقدیر وہ لمحہ ہے جس لمحے میں آپ فیصلہ کرتے ہیں”۔ کامیابی کا سفر اس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ یہ تصور کرنا شروع کرتے ہیں کہ مستقبل میں آپ کس شعبے میں ہوں گے، آپ کی شخصیت کیسی ہوگی، آپ کا لباس کیسا ہوگا اور آپ لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش آئیں گے؟
یہ وہ خواب نہیں ہیں جو سوتے میں دیکھے جاتے ہیں، بلکہ یہ وہ منزلیں ہیں جنہیں جاگتی آنکھوں سے دیکھا اور محسوس کیا جاتا ہے۔ جب تک کوئی چیز آپ کے تخیل (سوچ) میں نہیں آئے گی، آپ اسے حقیقت میں حاصل نہیں کر سکیں گے یعنی آپ کے دماغ میں آپ کے مستقبل کی ایک واضح تصویر ہونا بہت ضروری ہے، جس پر آپ کو پختہ یقین ہو کہ آپ وہ بن جاؤ گے۔
عملی قدم اور مثبت گمان
صرف سوچنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اس ذہنی نقشے پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ جس طرح ایک عمارت کے نقشے کے بعد اس کی تعمیر شروع ہوتی ہے، اسی طرح آپ کو بھی اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے آہستہ آہستہ کوششیں شروع کرنی ہوں گی۔
اسلامی تعلیمات میں بھی “حسنِ ظن” یعنی اچھا گمان رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اپنے مستقبل کے بارے میں ہمیشہ اللہ سے اچھی امید رکھیں۔ اگر آپ کے ہاتھ میں کامیابی کی لکیر نہیں بھی ہے، تب بھی آپ کا مستقبل حسین ہو سکتا ہے، بشرطیکہ آپ نے اسے اپنی ذہنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہو اور اس پر یقین کر لیا ہو۔
اس لیےمستقبل کا حال جاننے کے لیے کسی نجومی کو ہاتھ دکھانے کی ضرورت نہیں، بلکہ اپنے ذہن کے آئینے میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ اپنے تخیل میں ایک بہترین شخصیت بن سکتے ہیں، تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو عملی طور پر وہ بننے سے نہیں روک سکتی۔ جب آپ کامیاب ہوتے ہیں، تو نہ صرف آپ کا اپنا مستقبل سنورتا ہے بلکہ آپ دوسروں کے لیے بھی ایک مشعلِ راہ بن جاتے ہیں، کیوں کہ ایک کامیاب انسان ہی معاشرے کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔