زندگی کیا ہے؟ ایک فکری، فلسفیانہ اور اسلامی تجزیہ

زندگی کیا ہے؟ ایک فکری، فلسفیانہ اور اسلامی تجزیہ

زندگی ایک ایسا بنیادی سوال ہے جو انسان کے شعور کے آغاز ہی سے اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ انسان جب اپنے وجود پر غور کرتا ہے تو سب سے پہلے یہی سوال اس کے سامنے آتا ہے کہ زندگی کیا ہے، اس کا مقصد کیا ہے اور اس کا درست استعمال کیسے ممکن ہے۔ زندگی محض سانس لینے، کھانے پینے یا وقت گزارنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک بامقصد، شعوری اور اخلاقی سفر ہے جس میں انسان اپنے خالق، اپنی ذات اور اپنے معاشرے سے تعلق قائم کرتا ہے۔

لغوی اعتبار سے زندگی کو عربی زبان میں ’’حیات‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے معنی زندہ ہونے، حرکت کرنے اور نشوونما پانے کے ہیں۔ فلسفیانہ طور پر زندگی وہ کیفیت ہے جس میں انسان شعور، ارادہ اور اختیار کے ساتھ فیصلے کرتا ہے۔ یونانی فلسفی سقراط کے نزدیک زندگی کی اصل قدر خود احتسابی میں ہے، جبکہ افلاطون نے زندگی کو روح کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیا۔ ارسطو کے نزدیک زندگی کا مقصد ’’خیرِ اعلیٰ‘‘ کا حصول ہے، یعنی وہ اخلاقی کمال جس سے انسان حقیقی سعادت تک پہنچتا ہے۔

مغربی جدید فلسفہ میں زندگی کو زیادہ تر فرد کی آزادی اور ذاتی معنی سے جوڑا گیا ہے۔ ژاں پال سارتر کے مطابق زندگی بذاتِ خود کسی مقصد کے بغیر ہے اور انسان اپنے اعمال سے اسے معنی دیتا ہے۔ نطشے نے زندگی کو قوت اور غلبے کی علامت سمجھا۔ تاہم ان تصورات میں زندگی ایک محدود، فردی اور بعض اوقات اخلاقی انتشار کا شکار ہو جاتی ہے، کیونکہ یہاں کسی آفاقی مقصد کا تعین نہیں ملتا۔

اسلام زندگی کو ایک جامع اور متوازن تصور کے طور پر پیش کرتا ہے۔ قرآنِ مجید کے مطابق زندگی محض دنیا تک محدود نہیں بلکہ آخرت سے جڑی ہوئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ
’’وہی ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون بہتر عمل کرتا ہے‘‘ (سورۃ الملک: 2)۔
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ زندگی ایک امتحان ہے اور اس کا معیار ’’اچھا عمل‘‘ ہے، نہ کہ محض کامیابی یا طاقت۔

قرآن زندگی کو صرف جسمانی وجود نہیں بلکہ روحانی بیداری کے ساتھ تعبیر کرتا ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا گیا:

اَوَ مَنۡ کَانَ مَیۡتًا فَاَحۡیَیۡنٰہُ وَ جَعَلۡنَا لَہٗ نُوۡرًا

’’کیا وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کے لیے نور بنا دیا‘‘ (سورۃ الانعام: 122)۔
یہاں زندگی سے مراد ہدایت، شعور اور اخلاقی روشنی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل زندگی وہ ہے جو انسان کو مقصد اور سمت عطا کرے۔

نبی کریم ﷺ نے زندگی کو عملی، متوازن اور ذمہ دارانہ انداز میں گزارنے کی تعلیم دی۔ ایک حدیث میں فرمایا:
’’عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی تیاری کرے‘‘ (ترمذی)۔
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ زندگی کی کامیابی دنیاوی لذتوں میں نہیں بلکہ آخرت کی تیاری میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے زندگی کے ہر پہلو,عبادت، معاملات، اخلاق اور معاشرت میں اعتدال کو ضروری قرار دیا۔

اسلامی مفکرین نے زندگی کی حقیقت کو گہرے فکری انداز میں بیان کیا ہے۔ امام غزالیؒ کے نزدیک زندگی کی اصل روح دل کی اصلاح اور اللہ کی معرفت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جو زندگی خدا کی یاد سے خالی ہو، وہ حقیقت میں زندگی نہیں بلکہ غفلت ہے۔ مولانا جلال الدین رومیؒ زندگی کو عشقِ الٰہی کا سفر قرار دیتے ہیں، جہاں انسان اپنی انا کو فنا کر کے حقیقت تک پہنچتا ہے۔

علامہ محمد اقبالؒ نے زندگی کو سب سے زیادہ متحرک اور انقلابی انداز میں پیش کیا۔ اقبال کے نزدیک زندگی جمود نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی خودی کی تعمیر، آزادیِ فکر اور اخلاقی جرات سے عبارت ہے۔ اقبال کے نزدیک وہ زندگی بے کار ہے جو انسان کو غلامی، خوف اور بے عملی میں مبتلا رکھے۔ ان کا تصورِ خودی زندگی کو مقصد، وقار اور سمت عطا کرتا ہے۔

تھے تو آباءوہ تمھارے ہی، مگرتم کیا ہو ؟
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو

*****

حیات شعلہ مزاج و غیور و شور انگیز

 سرشست اس کی ہے مشکل کشی، جفا طلبی

*****

گریز کشمکشِ زندگی سے، مردوں کی

اگر شکست نہیں ہے تو اور کیا ہے شکست!

*****

 

جس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگی

روح امم کی حیات کشمکش انقلاب

اسلامی تصورِ حیات کے مطابق زندگی کا مقصد اللہ کی عبادت، انسانیت کی خدمت اور عدل و اخلاق کا قیام ہے۔ قرآنِ مجید میں فرمایا گیا:

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ
’’میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا‘‘ (سورۃ الذاریات: 56)۔
یہ عبادت صرف نماز اور روزے تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل جو نیتِ صالح کے ساتھ ہو، عبادت بن جاتا ہے۔ اس طرح زندگی کا ہر لمحہ بامقصد ہو جاتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ زندگی نہ تو محض مادی وجود ہے اور نہ ہی بے مقصد آزادی۔ زندگی ایک امانت، ایک امتحان اور ایک ذمہ داری ہے۔ جو زندگی شعور، اخلاق اور خدا سے تعلق سے خالی ہو، وہ حقیقی زندگی نہیں۔ اسلام نے زندگی کو وہ معنی دیے ہیں جو انسان کو دنیا میں باوقار اور آخرت میں کامیاب بناتے ہیں۔ یہی زندگی کی اصل حقیقت اور اس کا اعلیٰ مقصد ہے۔

Leave a Comment