سوشل میڈیا: آپ کی زندگی کا قاتل؟

سوشل میڈیا: آپ کی زندگی کا قاتل؟ زندگی کی بربادی یا ذہنی دباؤ کا جال؟ (خود کو کیسے بچائیں؟)

آج کے دور میں ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ ہماری زندگی کا لازمی حصہ  ہیں مگر اس کا حد سے زیادہ استعمال ہمیں ایک ایسے ذہنی قید خانے میں دھکیل رہا ہے، جہاں سے واپسی کا راستہ  ناممکن ہے۔ سوشل میڈیا، جو بظاہر لوگوں کو آپس میں جوڑنے کا ذریعہ تھا۔ اب ہمارے ذہنی سکون اور حقیقی زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

ہم صبح سے شام تک موبائل فون کی دنیا میں گم رہتے ہیں۔ ریلز اور شارٹ ویڈیوز کو سکرول کرتے کرتے گھنٹوں گزر جاتے ہیں اور ہمیں وقت کا احساس تک نہیں ہوتا۔ یہ سکرولنگ بظاہر ایک تفریح ہے، لیکن پس  پردہ یہ ہمارے اعصاب کو تھکا رہی ہے۔ اس  کےمسلسل استعمال کے نتیجے میں ہم چڑچڑے پن کا شکار ہو رہے ہیں۔ جب گھر والے یا دوست ہمیں پکارتے ہیں، تو ہم ان پر غصہ کرتے ہیں کیوں کہ ہماری توجہ اس فیک دنیا میں مرکوز ہوتی ہے۔

ہم ہوٹلوں، پارکوں یا کسی بھی خوب صورت جگہ پر جاتے ہیں تو وہاں کے لمحات کو جینے کی  بجائے، سارا وقت تصاویر بنانے اور ویڈیوز ریکارڈ کرنے میں گزارتے ہیں۔ مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اسے سوشل میڈیا  پر اپ لوڈ کیا جائے،  اور   یوں ہم “لائیک” اور “کمنٹس” کے چکر میں قید ہو جاتے ہیں۔ اس دوڑ میں ہم اپنی اصل زندگی سے ‘لاگ آؤٹ’ ہو چکے ہیں اور ایک ایسی ورچوئل دنیا میں ‘لاگ ان’ ہیں جو محض دکھاوا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہم دوسروں کی چکا چوند زندگی دیکھتے ہیں۔ کسی کا شاندار لباس، کسی کا خوب صورت گھر، مہنگی گاڑیاں اور بیرون ملک سفر، یہ سب دیکھ کر ہم لاشعوری طور پر اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرنے لگتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ شاید سب خوش ہیں، سوائے ہمارے۔ یہی موازنہ رشتوں میں بھی زہر گھولتا ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ   لوگ  اپنے والدین یا بہن بھائیوں کو مہنگے تحائف دے رہا ہے یا بڑی دھوم دھام سے سالگرہ منا رہا ہے، تو ہمیں اپنے رشتے ادھورے لگنے لگتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اسکرین پر نظر آنے والی ہر چیز حقیقت نہیں ہوتی  بلکہ اکثر یہ صرف ایک پہلو ہوتا ہے، جسے دکھانے کے لیے سجایا گیا ہوتا ہے۔

جب ہمیں کسی پوسٹ پر لائیک ملتا ہے، تو ہمارا دماغ ایک کیمیکل ’’ ڈوپامین‘‘ خارج کرتا ہے جو ہمیں عارضی خوشی دیتا ہے۔ ہم اس عارضی خوشی کے غلام بن جاتے ہیں۔ اس  عادت کی وجہ سے ہم کسی بھی تعمیری کام پر توجہ نہیں دے پاتے۔ طلبہ اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے اور ملازمین  کا اپنے کام  میں دل نہیں لگتا۔ ہماری توجہ کو بڑی بڑی  کمپنیاں خرید چکی ہیں اور ہم اپنا قیمتی وقت مفت میں، ان کے حوالے کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کا سب سے بڑا نقصان ہماری نیند پر ہوتا ہے۔ رات گئے تک موبائل کا استعمال نہ صرف آنکھوں کو متاثر کرتا ہے، بلکہ ہماری نیند کا دورانیہ بھی کم کر دیتا ہے۔ جب نیند پوری نہیں ہوتی تو  سارا دن تھکاوٹ اور ذہنی دباؤ میں گزرتا ہے۔ جو طویل مدت میں جسمانی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔

یاد رکھیں کہ سوشل میڈیا پر موجود ہزاروں فالوورز صرف اور صرف  تماشائی ہیں۔ جب زندگی میں کوئی حقیقی مشکل، بیماری یا حادثہ پیش آتا ہے تو یہ غیر حقیقی  دوست ہسپتالوں کے چکر نہیں کاٹتے اور نہ ہی آپ کا درد بانٹتے ہیں۔ اس وقت صرف وہی لوگ کام آتے ہیں جن سے ہم نے سوشل میڈیا کی خاطر دوری اختیار کر لی ہوتی ہے، یعنی ہمارے گھر والے اور مخلص دوست۔

 اب سوال یہ ہے کہ اس جال سے نکلنے کا حل کیا ہے؟ سوشل میڈیا کا استعمال مکمل طور پر برا نہیں، لیکن اسے ایک حد میں لانا ضروری ہے۔ یہاں کچھ طریقے ہیں جن پر عمل کر کے آپ اپنا سکون واپس پا سکتے ہیں:۔

صبح اٹھنے کے بعد پہلے ایک گھنٹے تک موبائل کو ہاتھ نہ لگائیں۔ اسی طرح سونے سے ایک گھنٹہ پہلے موبائل فون دور رکھ دیں۔

غیر ضروری ایپس کے نوٹی فی کیشنز بند کر دیں تاکہ بار بار آپ کی توجہ نہ بھٹکے۔

موبائل کی ا سکرین سے نکل کر درختوں، پرندوں اور کھلی فضا میں وقت گزاریں۔ پارک جائیں اور لمبی سیر کریں۔

جب دوستوں یا گھر والوں کے ساتھ ہوں، تو موبائل جیب میں رکھیں اور گفت گو کا لطف اٹھائیں۔

سوشل میڈیا کے لیے دن میں ایک مخصوص وقت مختص کریں اور اس سے تجاوز نہ کریں۔

 پس  آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹیکنالوجی ہمارے فائدے کے لیے ہے، ہمیں اس کا غلام نہیں بننا چاہیے۔ اگر ہم آج ہوش میں نہ آئے اور اپنی زندگی کو محدود نہ کیا۔ تو یہ فیک دنیا ہماری اصل خوشیوں کو نگل جائے گی۔ ایک توازن پیدا کریں، اپنی زندگی کو سوشل میڈیا کی اسکرین سے باہر نکالیں اور حقیقی رشتوں اور فطرت کے ساتھ جینا سیکھیں۔ شکریہ!

Leave a Comment