غزہ پیس معاہدہ: امن کی دستک یا شہداء کے لہو کا سودا؟

غزہ پیس معاہدہ: امن کی دستک یا شہداء کے لہو کا سودا؟

تاریخ کی عدالت جب کبھی اپنا فیصلہ سنائے گی، تو اکیسویں صدی کے یہ سال امت مسلمہ کے لیے ایک ایسے سیاہ باب کے طور پر لکھے جائیں گے جہاں ایک طرف معصوموں کی چیخیں تھیں اور دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں کی مصلحتیں۔ آج جب دنیا “غزہ پیس معاہدے” کی بازگشت سن رہی ہے، تو غزہ کے ملبے تلے دبی وہ آوازیں سوال کر رہی ہیں کہ یہ امن اس وقت کہاں تھا جب آسمان سے بارود برس رہا تھا؟

پچھلے کئی ماہ سے غزہ کی سرزمین مسلمانوں کو پکارتی رہی۔ مائیں اپنے جگر گوشوں کی لاشیں اٹھائے قبلہ اول کی سمت دیکھتی رہیں، بوڑھے باپ اپنی لرزتی آواز میں دنیا بھر کے ڈھائی ارب مسلمانوں سے مدد کی التجا کرتے رہے، لیکن جواب میں صرف مذمتی بیان اور خاموشی ملی۔ جب غزہ کے ہسپتالوں میں آکسیجن ختم ہو رہی تھی اور بچے بھوک سے دم توڑ رہے تھے، ہسپتال تباہ کیے جا رہے تھے، تب مسلم ممالک کی افواج اپنے بیرکوں میں مقید رہیں اور حکمران عالمی فورمز پر محض لفظی گولہ باری کرتے رہے۔تب کسی مسلم ملک کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ اپنی سرحدیں کھولے، اپنے فوجی دستے ان کی حفاظت کے لیے روانہ کرے یا کم از کم عملی طور پر اس جارحیت کو روکنے کے لیے کوئی قدم اٹھائے۔ علماء  بھی مذمتی بیان سے آگے نہیں گئے، کسی نے جہاد فرض ہونے کا فتویٰ  دےکر میدان میں اترنے کی جرت نہیں کی۔ غزہ چیختا رہا، مگر امت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔

آج منظر نامہ بدل چکا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی نے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک نیا ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ٹرمپ جو کہ خود کو دنیا کا امن پسند لیڈر کہتا ہے، بار بار دنیا کو بتاتا ہے کہ اس نے جنگیں رکوائیں۔ مگر اس کے زیر سایہ اسرائیل نے غزہ میں قتل و غارت کی۔ ایران، شام کا تو حال ہمیں معلوم ہی ہے۔ اب تو یورپ بھی ٹرمپ کے رویے سے نالاں ہےکہ وہ کس طرح  چودھری بن کر جب دل چاہے، کہیں حملہ کر  دے،جس کو چاہے رات کو اس کے بیڈ  روم سے گرفتار کر وا لے، اپنی مرضی کا ٹیرف لگا کر دھمکیا ں دے اور جہاں دل کرے قبضہ کر لے۔ یہ  وہی ٹرمپ ہے جس نے اپنے گزشتہ دور میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا، آج ایک بار پھر “امن کے مسیحا” بن کر سامنے آیاہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جو مسلم ممالک غزہ کے مظلوموں کی پکار پر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہو سکے تھے، وہ ٹرمپ کے ایک اشارے پر قطار در قطار ان کے پیچھے کھڑے نظر آتے ہیں۔سیاسی تجزیہ کار اسے مسلم امہ کی ‘سیاسی بیعت’ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ یہ وہ بیعت ہے جو کسی اسلامی نظریے یا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نہیں، بلکہ امریکی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔

یہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیمِ بُوذرؓ و دَلقِ اَویسؓ و چادرِ زہراؓ

اس پورے منظر نامے میں ترکیہ اور پاکستان کا کردار سب سے زیادہ تکلیف دہ رہا ہے۔ یہ دونوں ممالک امت مسلمہ کے لیڈر بننے کے دعویدار رہے ہیں۔ صدر طیب اردگان کی گھن گرج اور پاکستان کی ایٹمی طاقت ہمیشہ غزہ کے مسلمانوں کے لیے امید کی کرن سمجھی جاتی تھی۔لیکن حالیہ “پیس معاہدے” کی تفصیلات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ان بڑے ممالک نے بھی مصلحت کی چادر اوڑھ لی ہے۔

قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں

کچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیں

شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود

ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دراصل غزہ کے مسلمانوں کے خون پر کیا گیا ایک ایسا سودا ہے جس کا مقصد اسرائیل کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار کرنا اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو مستحکم کرنا ہے۔اس امن معاہدے کی تقریب میں جب ٹرمپ کے ساتھ مسلم رہنماؤں نے ہاتھ ملایا اور کیمروں کی روشنی میں تالیاں بجائیں، تو وہ منظر ہر اس شخص کے لیے کربناک تھا جس کے دل میں غزہ کا درد زندہ ہے۔ یہ تالیاں ان ماؤں کے سامنے تمسخر تھیں جن کے بیٹے اس مٹی میں دفن ہو چکے ہیں۔ جب غزہ بلاتا تھا تو کوئی نہیں آیا، لیکن جب ٹرمپ نے حکم دیا تو سب اکھٹے ہو گئے، سب نے مسکرا کر تصویریں کھنچوائیں اور امن کے نام پر اس مٹی کا سودا کر دیا جو انبیاء کی سرزمین ہے۔

مبینہ “پیس معاہدہ” بظاہر جنگ بندی  اورغزہ کی تعمیر نو کی بات کرتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ حماس اور فلسطینی مزاحمت کو ختم کرنے اور اسرائیل کو پورے خطے کا ‘تھانیدار’ بنانے کا منصوبہ ہے۔ کیا یہ وہ امن ہے جس کی خواہش فلسطینیوں نے کی تھی؟ کیا یہ وہ انصاف ہے جس کے لیے ہزاروں جانیں قربان کی گئیں؟مسلم امہ کے اس کردار نے ثابت کر دیا ہے کہ آج کے دور میں عقیدہ اور بھائی چارہ محض کتابوں کی حد تک محدود ہے، اصل طاقت ڈالر اور اقتدار کی کرسی میں ہے۔

میرے چند معصومانہ سوالات: آپ کیا کہتے ہیں؟

کیا یہ بیت درست ہے؟ٹرمپ کی آمد پر تالیاں بجانا کیا مسلم امہ کے لیڈران کو زیب دیتا تھا؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مسلم ممالک نے ٹرمپ کے سامنے گھٹنے ٹیک کر غزہ کے شہداء کے لہو کی توہین کی ہے؟

کیا ترکیہ اور پاکستان جیسے ممالک کا اس معاہدے میں شامل ہونا ان کی مجبوری ہے یا اپنے مفادات کے لیے فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا؟

جب غزہ پکار رہا تھا تب خاموشی، اور اب ٹرمپ کے کہنے پر تالیاں بجانا،کیا یہ منافقت نہیں؟

کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور بتائیں کہ تاریخ میں ان حکمرانوں کا نام کن الفاظ میں لکھا جائے گا؟

4 thoughts on “غزہ پیس معاہدہ: امن کی دستک یا شہداء کے لہو کا سودا؟”

  1. تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
    کہ تُو گُفتار وہ کردار، تُو ثابت وہ سیّارا

    Reply

Leave a Comment