واصف علی واصفؒ کون تھے؟

واصف علی واصفؒ کون تھے؟ شخصیت، سفر اور افکار

(ایک عہد ساز صوفی، مفکر اور ادیب کی مکمل سوانح)

اردو ادب اور تصوف کی دنیا میں بیسویں صدی کے نصف آخر میں جو چند شخصیات ابھر کر سامنے آئیں ۔ جنھوں نے اپنی حکمت، دانائی اور منفرد اندازِ بیاں سے لاکھوں دلوں کو منور کیا،۔ان میں حضرت واصف علی واصفؒ کا نام سرِ فہرست ہے۔ آپ محض ایک ادیب یا شاعر نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے مفکر اور صوفی تھے، جنھوں نے تصوف کی قدیم روایت کو جدید دور کے مسائل اور زبان کے سانچے میں ڈھال کر عام آدمی تک پہنچایا۔ آپ کی گفت گو میں وہ جادو تھا کہ جو ایک بار آپ کی محفل میں بیٹھ جاتا، وہ آپ کا ہو کر رہ جاتا۔

خاندان اور نسب کا پس منظر

حضرت واصف علی واصفؒ کا تعلق برصغیر کے ایک معتبر اور تاریخی اہمیت کے حامل خاندان “اعوان” سے تھا۔ا عوان قبیلے کے بارے میں تاریخ میں یہ روایت مشہور ہے کہ ان کا شجرہ نسب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے فرزند حضرت عباس علمدارؓ سے جا ملتا ہے۔ اعوان قوم کو پاک و ہند میں ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔ آپ کا خاندان خوشاب کے علاقے سون سکیسر میں مقیم تھا۔ آپ کے آباؤ اجداد میں ملک غوث محمد، محمد اشرف اور محمد عارف شامل ہیں، جنھوں نے علم اور د ین داری کی روایات کو نسل در نسل منتقل کیا۔ آپ کے والد محمد عارف ایک صوفی منش انسان تھے اور چشتیہ سلسلے سے وابستہ تھے، جس کا اثر واصف علی واصفؒ کی تربیت پر گہرا رہا۔

پیدائش اور ابتدائی تعلیم

واصف علی واصفؒ 15 جنوری 1929 ءکو خوشاب کے محلے کنڈان والا میں پیدا ہوئے۔ آپ کی پیدائش پر گھر میں جشن کا سماں تھا ا۔ چوں کہ آپ کے والد صوفیانہ ذوق رکھتے تھے، اس لیے تین روز تک قوالی کی محفلیں منعقد ہوئیں۔ آپ نے مڈل تک کی تعلیم خوشاب سے ہی حاصل کی اور اپنی ذہانت کی بنا پر وظیفہ بھی پایا۔ 1944ء میں میٹرک اول درجے میں پاس کرنے کے بعد آپ نے گورنمنٹ کالج جھنگ سے ایف اے اور 1949 میں بی اے کا امتحان بھی نمایاں پوزیشن میں پاس کیا۔

تعلیمی دور میں آپ صرف کتابی کیڑا نہیں تھے، بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیتے۔ آپ ہاکی کے بہترین کھلاڑی مانے جاتے تھے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے آپ لاہور تشریف لائے، جہاں آپ نے پہلے ریاضی میں ماسٹرز کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ایم اے میں داخلہ لیا۔ تاہم، معاشی مشکلات اور ٹیوشن پڑھانے کی مصروفیات کے باعث آپ ایم اے کی ڈگری مکمل نہ کر سکے۔ قدرت کو شاید آپ سے ڈگریوں کی بجائے وہ کام لینا تھا جو نسلوں کی آب یاری کر سکے۔

پیشہ ورانہ زندگی اور تدریس کا سفر

آپ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بچوں کو ٹیوشن پڑھانے سے کیا۔ آپ کی تدریس کا انداز اتنا منفرد تھا کہ جلد ہی آپ ایک بہترین استاد کے طور پر مشہور ہو گئے۔ آپ نے “اینگلو پنجابی کالج” میں انگریزی پڑھائی۔ جب آپ کے والدین ریٹائر ہو گئے اور بہن بھائیوں کی ذمہ داری بھی آپ پر آ گئی، تو آپ نے 1962 میں لاہور کے مشہور انارکلی بازار میں “لاہور انگلش کالج” کی بنیاد رکھی۔

یہ کالج محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں تھا بلکہ شام کے وقت یہ صوفیاء اور اہل دل کا مسکن بن جاتا۔ یہاں ایک مخصوص کمرہ تھا ،جہاں ذکر و اذکار کی محفلیں ہوتیں اور تصوف پر گفت گو کی جاتی۔ واصف ؒ  اکثر اس قدر جذب کی کیفیت میں ہوتے کہ کلاسیں چھوڑ کر اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری دینے نکل جاتے۔ ایک مرتبہ جب ان کے دوست نے کالج کی بہتری اور آمدنی کا ذکر کیا تو آپ نے تاریخی جملہ کہا: “تم کیا سمجھتے ہو میں یہ کالج پیسہ کمانے کے لیے چلا رہا ہوں؟ میں تو اپنے جنازے کے لیے لوگ اکٹھے کر رہا ہوں”۔ بالآخر معاشی بوجھ اور آپ کی بڑھتی ہوئی روحانی مصروفیات کے باعث 1976 میں یہ کالج بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد آپ نے اپنے گھر میں ہی ایک چھوٹا اسکول قائم کیا ،جہاں آپ اور آپ کی اہلیہ بچوں کو پڑھاتے تھے۔

ازدواجی زندگی اور خاندان

واصف علی واصفؒ نے اپنے بہن بھائیوں کی کفالت کی خاطر اپنی شادی میں کافی تاخیر کی۔ آپ کے والدین کے اصرار پر 26 اکتوبر 1970 کو، 41 برس کی عمر میں آپ کی شادی ایک تعلیم یافتہ راجپوت گھرانے میں ہوئی۔ آپ کی اہلیہ خود بھی استاد تھیں لیکن شادی کے بعد انھوں نے تدریس چھوڑ دی اور گھر سنبھال لیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک صاحبزادے، کاشف محمود، اور تین صاحبزادیوں سے نوازا۔ آپ اپنی بیٹیوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور ان کی تربیت میں خود پیش پیش رہتے تھے۔

تصوف، بیعت اور روحانی سفر

واصف علی واصفؒ کا روحانی سفر بچپن سے ہی شروع ہو چکا تھا، لیکن باقاعدہ شاعری اور تصوف کی طرف میلان 1949 میں بھارت کے سفر کے بعد ہوا۔ وہاں آپ نے حضرت نظام الدین اولیاءؒ اور دیگر صوفیاء کے مزارات پر حاضری دی۔ آپ دیوال شریف کے پیر عبدالحمیدؒ کے دستِ حق پر بیعت ہوئے اور سلسلہ سہروردیہ سے وابستہ رہے۔ آپ کے مرشد نے آپ کو لاہور میں اپنا خلیفہ بھی مقرر کیا۔ تاہم، جب بھی آپ سے آپ کے مسلک یا سلسلے کے بارے میں پوچھا جاتا، تو آپ کا ایک ہی جواب ہوتا: “میں صرف ایک مسلمان ہوں اور یہی میری پہچان کے لیے کافی ہے”۔

آپ کے تصوف کی بنیاد محبت، عاجزی اور انسانیت کی خدمت پر تھی۔ آپ کے والد کی جانب سے ایک بار حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی تصویر کے احترام میں مارا گیا تھپڑ آپ کی زندگی کا رخ بدلنے کا سبب بنا۔ آپ کہا کرتے تھے کہ تصوف کوئی ظاہری لبادے کا نام نہیں بلکہ یہ دل کی صفائی اور اللہ سے تعلق کا نام ہے۔

واصفی محافل اور شہرت

لاہور میں آپ کے گھر پر ہونے والی جمعرات کی محافل علم و حکمت کا گہوارہ تھیں۔ ان محافل کی شہرت اس وقت آسمان کو چھونے لگی جب اشفاقؒ احمد جیسے بڑے ادیب آپ کے حلقہ اثر میں شامل ہوئے۔ اشفاق احمد اکثر آپ کی گفت گو کو ریکارڈ کرتے تھے۔ ان محافل میں قدرت اللہ شہاب، ڈاکٹر انور سجاد، جسٹس سمدانی اور دیگر ممتاز دانش ور شرکت کرتے تھے۔ واصفؒ  کا اصول تھا کہ وہ کتابی علم کی بجائے مشاہدے اور باطنی نور سے جواب دیتے تھے۔ وہ اکثر فرماتے: “مجھ سے وہ سوالات پوچھا کرو جن کے جواب کتابوں میں نہیں ملتے”۔ آپ کی یہ گفت گو “گفتگو” کے نام سے 26 جلدوں میں شائع ہو چکی ہے، جو حکمت کا خزینہ ہے۔

ادبی خدمات اور تصانیف

واصف علی واصفؒ نے نثر اور نظم دونوں میں شاہکار تخلیق کیے۔ آپ کا اسلوب سادہ، پر اثر اور سحر انگیز ہے۔

شاعری

شب چراغ: یہ آپ کی نظموں اور غزلوں کا پہلا مجموعہ تھا جو 1978 میں شائع ہوا۔

شبِ راز: یہ آپ کی وفات کے بعد شائع ہوا۔

بھرولے: آپ کا پنجابی کلام، جو اپنی تاثیر میں بے مثال ہے۔

نثری کتب

دل دریا سمندر: یہ آپ کے ان کالموں کا مجموعہ ہے جو اخبار ‘نوائے وقت’ میں شائع ہوتے تھے۔

قطرہ قطرہ قلزم: تصوف اور اخلاقیات پر مبنی شاہکار کالموں کا مجموعہ۔

حرف حرف حقیقت: یہ کتاب حکمت اور دانائی کا نچوڑ ہے۔

گمنام دیپ: آپ کے خطوط کا مجموعہ۔

اس کے علاوہ “کرن کرن سورج”، “بات سے بات” اور “دریچے” آپ کے افکار اور اقوال کے وہ مجموعے ہیں جنھوں نے اردو ادب میں اقوالِ زریں کی روایت کو نیا دوام بخشا۔ آپ کی کئی کتب کا انگریزی میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔

وفات اور میراث

واصف علی واصفؒ جوانی سے ہی سانس کی تکلیف (پھیپھڑوں کے عارضے) میں مبتلا تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ مرض شدت اختیار کرتا گیا، لیکن آپ نے اپنی روحانی سرگرمیاں اور خدمتِ خلق کا سلسلہ ترک نہ کیا۔ اکتوبر 1992 میں آپ نے اپنی آخری محفل منعقد کی جس میں آپ نے اپنی رخصتی کا اشارہ دے دیا تھا۔ بالآخر 18 جنوری 1993 کو یہ علم و حکمت کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ آپ کو لاہور کے میانی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

آج بھی واصف علی واصفؒ کے افکار لاکھوں لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپ کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ انسان اپنے خالق کو پہچاننے کے لیے پہلے اپنے آپ کو پہچانے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ آپ کا یہ قول آج بھی زندہ ہے: “اگر تمہیں کسی کے دکھ کا احساس ہوتا ہے، تو جان لو کہ تمہارے اندر انسانیت زندہ ہے”۔ آپ کی زندگی اور افکار پر آج جامعات میں تحقیقی مقالے لکھے جا رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ واصف علی واصفؒ ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک دائمی تحریک کا نام ہے۔

خلاصہِ فکر

واصف علی واصفؒ کون تھے؟ اس سوال کا بہترین جواب آپ کے افکار میں ملتا ہے۔ آپ ایک ایسے مصلح تھے جنھوں نے بتایا کہ مذہب بوجھ نہیں بلکہ سکون کا نام ہے۔ آپ کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ اگر تم اللہ کو پانا چاہتے ہو تو اس کی مخلوق کے لیے آسانیاں پیدا کرو۔ آپ کی تحریریں آج بھی مایوس دلوں کے لیے امید کی کرن اور بھٹکے ہوئے مسافروں کے لیے منزل کا پتا ہیں۔

Leave a Comment