علامہ اقبال کا فلسفہِ فقر: فقیری میں بادشاہت کا سفر
حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے وہ عظیم مفکر اور شاعر ہیں جنھوں نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی امت مسلمہ کو خودی اور فقر کا وہ درس دیا ۔جس نے ان کے مردہ اجسام میں زندگی کی نئی روح پھونک دی۔ اقبال کے نزدیک “فقر” محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی اور رُوحانی قوت کا نام ہے۔ عام طور پر فقر سے مراد مفلسی، ناداری یا دستِ سوال دراز کرنا لیا جاتا ہے، لیکن اقبال کی اصطلاح میں فقر اس کے بالکل برعکس ہے۔ اقبال کا فقیر وہ نہیں جو لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلائے، بلکہ وہ ہے جو کائنات کی ہر شے سے بے نیاز ہو کر صرف اللہ کا محتاج ہو جائے۔
فقر کے لغوی اور اقبالی معنی
فقر کے لغوی معنی پر غور کریں تو یہ تنگدستی یا درویشی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، لیکن اقبال کے ہاں یہ تصور ایک بالکل مختلف اور بلند تر مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اقبال فقر کو “بے نیازی” کے معنوں میں لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک فقیر وہ شخص ہے جو مادی مفادات، دنیاوی عہدوں اور ظاہری چمک دمک کو ٹھکرا کر اپنی روح کی پاکیزگی پر توجہ دیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان دنیاوی ضرورتوں سے آزاد ہو کر اللہ کی رضا کا طالب بن جاتا ہے۔
اقبال اسی فقر کو انسانیت کی معراج قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
میرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر
فقر اور خودی کا باہمی ربط
اقبال کے فلسفہ فقر کی بنیاد “خودی” پر ہے۔ انسان جب اپنی پہچان کر لیتا ہے اور اپنی خودی کے اسرار سے واقف ہو جاتا ہے، تو وہ کائنات کی ہر شے سے بالا تر ہو جاتا ہے۔ اس ضمن میں تاریخِ ادب کا ایک مشہور واقعہ علامہ اقبال کے تصورِ فقر کی بہترین ترجمانی کرتا ہے۔ مشہور شاعر غنی کاشمیری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جب گھر میں موجود ہوتے تو دروازے کو اندر سے تالا لگا لیتے، لیکن جب گھر سے باہر جاتے تو دروازہ کھلا چھوڑ دیتے۔ جب ان سے اس عجیب عمل کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے بڑا بصیرت افروز جواب دیا:
“اس گھر میں سب سے قیمتی چیز میں خود ہوں، جب میں اندر ہوتا ہوں تو گھر کی حفاظت ضروری ہے، جب میں نہیں ہوتا تو پیچھے کچھ بھی قیمتی باقی نہیں بچتا جسے چرایا جا سکے۔”
یہی وہ خود شناسی ہے جسے اقبال فقر کا جوہر قرار دیتے ہیں۔ جب انسان اپنی خودی کو پہچان کر اسے اللہ کے سپرد کر دیتا ہے، تو اسے دنیاوی چیزیں مرعوب نہیں کر سکتیں۔ وہ مادی اشیاء کی قید سے آزاد ہو کر رُوحانیت کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں ظاہری فقیری کے باوجود وہ باطن میں ایک شہنشاہ ہوتا ہے۔
علم اور فقر کا فرق
علامہ اقبال نے علم اور فقر کے درمیان ایک بہت ہی باریک اور واضح فرق بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک علم صرف عقل اور خرد کی پاکیزگی اور معلومات کے حصول کا نام ہے، جب کہ فقر دل اور نگاہ کی اس تپش کا نام ہے جو انسان کو حقیقت تک پہنچاتی ہے۔ علم ہمیں اشیاء کے بارے میں “خبر” دیتا ہے، جبکہ فقر ہمیں “نظر” عطا کرتا ہے۔
اقبال اس فرق کو یوں بیان کرتے ہیں:
علم کا مقصود ہے پاکیِ عقل و خرد
فقر کا مقصود ہے عفتِ قلب و نگاہ
اور مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
فقر مقامِ نظر، علم مقامِ خبر
فقر میں مستی ثواب، علم میں مستی گناہ
علم اگر فقر کی رُوح سے محروم ہو تو وہ محض ایک دماغی عیاشی یا مادی ضرورت بن کر رہ جاتا ہے، لیکن اگر علم کو فقر کی تپش مل جائے تو وہ انسان کو معرفتِ الٰہی کے نور سے منور کر دیتا ہے۔
فقرِ غیور: خودداری کا پیکر
اقبال کا فقیر “کاسہ لیس” یا بھکاری نہیں ہے۔ اسلام نے جس فقر کی تعلیم دی ہے وہ “دستِ سوال” کو پسند نہیں کرتا۔ حدیثِ نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ “اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے”۔ اسی اصول پر اقبال کا مردِ قلندر کاربند ہوتا ہے۔ وہ علم بانٹتا ہے، فیض تقسیم کرتا ہے اور رزقِ حلال کی تگ و دو کرتا ہے، لیکن کسی کے سامنے اپنی انا کا سودا نہیں کرتا۔
وہ انسان جو اللہ کے سامنے سر بسجود ہو جاتا ہے، اسے کائنات کی کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ اقبال کے ہاں فقر وہ قوت ہے جو انسان کو مادی زنجیروں سے آزاد کر کے اسے “مردِ حر” بنا دیتی ہے۔
فقرِ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اسوہِ صحابہ
اقبال کے نزدیک فقر کا اعلیٰ ترین اور مثالی نمونہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ اور آپ ﷺ کے جانثار صحابہ کی زندگی ہے۔ دنیا جہان کے خزانے آپ ﷺ کے قدموں میں آ سکتے تھے، لیکن آپ ﷺ نے بوریا نشینی کو ترجیح دی۔ آپ ﷺ کی زندگی سادگی، قناعت اور مادی اشیاء سے مکمل بے نیازی کا شاہ کار تھی۔
یہی وہ فقیری تھی جس نے صحابہ کرام کو قیصر و کسریٰ کے ایوانوں میں بھی لرزہ براندام کر دیا۔ جب ایک مومن کے دل میں اللہ کا خوف اور فقر کی حرارت پیدا ہوتی ہے، تو وہ ظاہری اسباب کا محتاج نہیں رہتا۔
فقر اور بادشاہت کا امتزاج
اقبال اس فقیری کے قائل ہیں جس میں بادشاہت کا جاہ و جلال بھی شامل ہو۔ تاریخ شاہد ہے کہ کئی ایسے صوفیاء اور اولیاء گزرے ہیں جنھوں نے بظاہر پیوند لگے کپڑے پہنے لیکن ان کے ایک اشارے سے بڑے بڑے سلاطین کے تخت الٹ گئے۔ اقبال کا فقیر مصلحت پسند نہیں ہوتا، وہ حق بات کہنے سے نہیں ڈرتا کیوں کہ اسے نہ تو مال چھن جانے کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی جان کی پروا۔
فقر قرآن احتساب ہست و بود
نَے رباب و مستٔی و رقص و سرود
فقرِ مومن چیست؟ تسخیرِ جہات
بندہ از تاثیرِ او مولا صفات
عصرِ حاضر میں فقر کی ضرورت
آج کی دنیا ، جہاں ہر طرف نفسا نفسی، مادیت پرستی اور ہوس کا راج ہے، وہاں اقبال کے فلسفہ فقر کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج کا انسان مادی آسائشوں کے باوجود ذہنی سکون سے محروم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنی خودی کو مادی مفادات کے عوض بیچ دیا ہے۔ عقل نے ہمیں مادی ترقی تو دی ہے، لیکن دل کی سکون اور رُوح کی بالیدگی صرف فقرِ غیور سے ہی ممکن ہے۔
اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ اگر تم دنیا میں وقار کے ساتھ جینا چاہتے ہو تو تمہیں اپنی ضروریات کو کم کرنا ہوگا اور اپنی غیرت کو زندہ رکھنا ہوگا۔ وہ بادشاہ جنھوں نے حق کی خاطر اپنے تخت و تاج قربان کر دیے، دراصل وہ جان چکے تھے کہ مادی اقتدار فانی ہے جب کہ فقر کی بادشاہت لافانی ہے۔
حاصلِ کلام
مختصراً یہ کہ علامہ اقبال کا فلسفہ فقر انسان کو غلامی سے آزادی اور پستی سے بلندی کی طرف لے جانے والا وہ راستہ ہے، جو براہِ راست معرفتِ الٰہی تک پہنچتا ہے۔ یہ وہ فقر ہے جو انسان کو خود شناس بناتا ہے اور اسے کائنات کا حقیقی حکمران بنا دیتا ہے۔ بقول اقبال:
دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہی
اگر ہم آج اقبال کے اس فلسفے کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کا حصہ بنا لیں، تو ہم نہ صرف اپنے اندرونی انتشار کو ختم کر سکتے ہیں بلکہ ایک پروقار اور خوددار قوم کے طور پر عالمی نقشے پر ابھر سکتے ہیں۔ فقر کا مقصد زندگی سے فرار نہیں بلکہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کا دلیری سے سامنا کرتے ہوئے اپنی خودی کی حفاظت کرنا ہے۔