علامہ اقبال کا فلسفہِ بے خودی اور اجتماعی بقا

علامہ اقبال کا فلسفہِ بے خودی اور اجتماعی بقا (فرد سے ملت تک کا سفر) علامہ محمد اقبال کی شاعری اور فکر کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو دو بنیادی اصطلاحات سامنے آتی ہیں: “خودی” اور “بے خودی”۔ جہاں خودی انسان کو اپنی ذات کی پہچان، خود شناسی اور انفرادی بلندی کا درس دیتی … Read more

فلسفہِ خودی اور دورِ جدید

 فلسفہِ خودی اور دورِ جدید :  کیا ہم اپنی اصل حقیقت بھول چکے ہیں؟ علامہ محمد اقبال کا “تصورِ خودی” محض ایک فلسفیانہ اصطلاح نہیں بلکہ ایک زندہ  وجاوید پیغام ہے جو انسان کو مٹی کے ڈھیر سے اٹھا کر ستاروں پر کمند ڈالنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اقبال کے نزدیک خودی انسانی وجود کا … Read more

تصورِ خدا اور وجودِ باری تعالیٰ: علامہ اقبال اور عقلی فلسفے کی روشنی میں

تصورِ خدا اور وجودِ باری تعالیٰ: علامہ اقبال اور عقلی فلسفے کی روشنی میں انسانی تاریخ میں سب سے قدیم اور اہم ترین سوال “وجودِ خدا” کا رہا ہے۔ کائنات کی تخلیق سے لے کر آج کے جدید دور تک، انسان نے ہمیشہ یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا اس عظیم الشان نظام … Read more

علامہ اقبال کا فلسفہِ فقر: فقیری میں بادشاہت کا سفر

علامہ اقبال کا فلسفہِ فقر: فقیری میں بادشاہت کا سفر حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے وہ عظیم مفکر اور شاعر ہیں جنھوں نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی امت مسلمہ کو خودی اور فقر کا وہ درس دیا ۔جس نے ان کے مردہ اجسام میں زندگی کی نئی روح پھونک … Read more