میں پاکستان کیوں چھوڑنا چاہتا ہوں؟

میں پاکستان کیوں چھوڑنا چاہتا ہوں؟  (اعلیٰ تعلیم اور  فکری آزادی کی الم ناک سچائی)

 میں پاکستان چھوڑنا چاہتا ہوں. یہ محض ایک عام جملہ نہیں بل کہ آج ہمارے ملک کے ہر پڑھے لکھے اور شعور رکھنے والے جوان کی زبان پر جاری ایک المناک حقیقت ہے۔ کسی بھی تعلیم یافتہ فرد سے گفت گو کی جائے، خواہ وہ انٹرمیڈیٹ کا طالب علم ہو، بی ایس کا جوان ہو، ایم فل اِسکالر ہو یا پی ایچ ڈی کا محقق، ہر ایک کے دل و دماغ میں وطنِ عزیز سے ہجرت کا خیال راسخ ہو چکا ہے۔ جب ان سے اس فیصلے کی بنیادی وجہ دریافت کی جاتی ہے تو جواب نہایت سادہ اور تکلیف دہ ملتا ہے’’ یہاں تعلیم، قابلیت اور محنت کی کوئی قدر و قیمت باقی نہیں رہی ‘‘۔’’ اسکول و کالج کی سطح سے لے کر اعلیٰ ترین تحقیقی مراکز تک ہر طالب علم اس اندیشے میں مبتلا ہے کہ پاکستان میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس کا کوئی واضح اور محفوظ مستقبل نہیں ہے۔

آج سے دو تین سال قبل کا ذکر کیا جائے تو ہجرت کے اس نظریے سے شدید اختلاف ہوا کرتا تھا۔ اس وقت طَلَبہ اور ہم عصروں کو یہی تلقین کی جاتی تھی کہ ملک چھوڑ کر جانا کوئی پائیدار حل نہیں ہے اور جو لوگ باہر جانے اور وہاں مستقل رہائش کی باتیں کرتے تھے،  ان کی مخالفت کی جاتی تھی۔ اس وقت یہ پختہ نقطہ نظر تھا کہ اگر کوئی شخص اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرونِ ملک جاتا بھی ہے تو اسے ڈگری اور تجربہ حاصل کر کے واپس اپنے وطن لوٹنا چاہیے تاکہ وہ اپنی قوم اور ملک کی خدمت کر سکے۔ لیکن پچھلے دو تین سالوں میں سامنے آنے والے تلخ حقائق، تعلیمی نظام کے انحطاط اور عملی تجربات نے اس فکر کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اس فکری تبدیلی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایم فل کی تعلیم کے دوران اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اندرونی ماحول کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ ایک غلامی وہ ہے جس کا گِلہ ہم اکثر اپنے سیاسی نظام اور حکمرانوں سے کرتے ہیں، لیکن ہماری جامعات کے اندر جس قسم کی ذہنی اور فکری غلامی پرورش پا رہی ہے، وہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہے۔

جامعات میں قدم رکھتے ہی طالب علم کو جو پہلی اور بنیادی بات غیر رسمی طور پر سکھائی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ اپنے سپروائزر یا استاد کے فیصلے اور رائے کے خلاف کبھی آواز نہیں اٹھانی۔ طالب علم کو باور کرایا جاتا ہے کہ اگر اس نے سپروائزر سے اختلاف کی جرات کی تو اس کے سالوں کی محنت، تھیسس اور ڈگری داؤ پر لگ جائے گی۔ اعلیٰ نمبر، وائیوا میں کامیابی اور ڈگری کے حصول کے لیے شرطِ اول یہ بنا دی گئی ہے کہ سپروائزر کی خوشامد کی جائے اور اس کی ہر اچھی و بری بات کو بلا چون و چرا تسلیم کیا جائے۔ استاد کا ادب و احترام بلا شبہ ایک واجب اور مقدس جذبہ ہے، لیکن استاد کی ہر غلط یا غیر علمی بات کو تسلیم کرنا ادب نہیں بل کہ واضح طور پر فکری غلامی ہے۔ اسکالر کی بنیادی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ سچائی کا متلاشی  ہو اور حقائق کی تلاش میں نکلے، لیکن ہماری جامعات میں سچائی کی تلاش کی بجائے ایک مطیع اور جی حضور غلام بننے کا طریقہ سکھایا جا رہا ہے۔

شاید یہی بنیادی وجہ ہے کہ دنیا کی بہترین جامعات کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان کی ہزاروں جامعات میں سے شاید کوئی ایک آدھ ہی مشکل سے جگہ بنا پاتی ہے۔ اس علمی انحطاط کی اصل جڑ یہی فکری حبس اور غلامانہ سوچ ہے۔ جب ایک محقق یونی ورسٹی سے ڈگری لے کر نکلتا ہے، تو اس کے اندر حق گو اور سوال اٹھانے کی صلاحیت کو مفلوج کیا جا چکا ہوتا ہے۔ اگر کوئی اسکالر اپنے اندر کے محقق کو زندہ رکھتے ہوئے سچائی کی بات کرے یا تعلیمی و سماجی نظام کی خامیوں پر سوال اٹھائے، تو اس پر طرح طرح کے لیبل اور دھبے لگا دیے جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ موجودہ دور میں ایک اور خوف مسلط ہو چکا ہے کہ اگر کسی نے سوشل میڈیا یا عوامی سطح پر اپنے تحفظات یا حقوق کی بات کی، تو اس کے خلاف قانونی کارروائیاں شروع کر دی جائیں گی اور اس کا کیریئر تباہ کر دیا جائے گا۔

یہ تمام تر حالات انتہائی دردناک اور لمحہ فکریہ ہیں۔ جو لوگ پہلے اپنے طلبہ کو پاکستان نہ چھوڑنے پر قائل کیا کرتے تھے، آج وہ خود اس بات کے قائل ہو چکے ہیں کہ ہمارے جوانوں اور اسکالرز کا بیرونِ ملک ہجرت کا فیصلہ بے بنیاد یا غلط نہیں ہے۔

خدارا! وہ تمام افراد جو اقتدار، اختیارات اور پالیسی سازی کے عہدوں پر براجمان ہیں، خواہ وہ جامعات کے انتظامی سربراہان ہوں، ایچ ای سی کے حکام ہوں یا ملک کے پالیسی ساز،انھیں سنجیدگی سے بیٹھ کر اس پر غور کرنا چاہیے کہ آج کا بہترین، قابل اور پڑھا لکھا طالب علم پاکستان چھوڑ کر کیوں جانا چاہتا ہے؟ اگر ہم نے اپنے تعلیمی اداروں سے فکری غلامی، عدمِ مساوات اور خوف کا خاتمہ نہ کیا، تو ہم اپنے ہی ہاتھوں اپنے ملک کے روشن مستقبل کو نذرِ آتش کر دیں گے۔

Leave a Comment