نزولِ قرآن کا اصل مقصد : محض تلاوت یا فہم و ہدایت؟
مسلمانوں کے زوال اور المیے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی اور سب سے زیادہ مقدس کتاب، قرآنِ مجید کی موجودگی کے باوجود ہم اس کی حقیقی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں۔ ہم نے قرآنِ کریم کو محض تلاوت، باعثِ برکت، ایصالِ ثواب، مردوں کے سرہانے پڑھنے، گھروں میں سجانے، اور تعویذ یا غلاف میں لپیٹ کر الماریوں کی زینت بنانے تک محدود کر دیا ہے۔ بے شک قرآن کی تلاوت باعثِ ثواب ہے اور اس کو مقدس جاننا ایمان کا حصہ ہے، لیکن کیا نزولِ قرآن کا اصل مقصد یہی تھا؟ کیا ایک ہدایت نامے کا مقصد صرف اسے بغیر سمجھے دہرانا ہو سکتا ہے؟
جب تک ہم قرآن کے بنیادی اور اصل مقصد کو نہیں سمجھیں گے، تب تک ایک فرد کے طور پر اور بحیثیتِ قوم ہماری زندگیوں میں حقیقی انقلاب نہیں آ سکتا۔ اقبال ؒنے اپنے زمانے میں مسلمان کے اسی رویے کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا تھا:۔
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
یہاں’’ تارکِ قرآن‘‘ ہونے سے مراد تلاوت چھوڑنا نہیں، بل کہ قرآن کو سمجھے بغیر پڑھنا اور اس کے اصل مقصدِ نزول یعنی ہدایت اور عمل سے دور ہو جانا ہے۔
اگر کوئی شخص چینی زبان یا پشتو سے ناواقف ہو اور اس کے سامنے اسی زبان میں حکمت کی بات کی جائے، تو وہ اس سے کوئی اثر یا ہدایت حاصل نہیں کر سکتا۔ یہی معاملہ ہم عجم (غیر عرب) مسلمانوں کا ہے۔ ہم میں سے بیشتر لوگ عربی زبان کی گہرائی، محاورات اور گرامر سے واقف نہیں ہوتے۔ اس لیے جب ہم صرف عربی متن کی تلاوت کرتے ہیں، تو الفاظ تو زبان سے ادا ہو جاتے ہیں لیکن ان کا مفہوم دل و دماغ تک نہیں پہنچتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو آسان اور ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے، لیکن یہ ہدایت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انسان اسے اپنی مادری یا فہم میں آنے والی زبان (مثلاً اردو یا انگریزی) کے مستند ترجمے کے ساتھ نہ پڑھے۔قرآنِ پاک میں رب العزت نے اپنے کلام کی مختلف صفات کا ذکر فرمایا ہے، جو اس کے اصل مقصد کو واضح کرتی ہیں:۔
حق اور باطل کے درمیان واضح فرق کرنے والی کسوٹی۔ جب انسان کسی الجھن کا شکار ہو تو قرآن سچ اور جھوٹ کو الگ کر دیتا ہے۔
انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لیے مکمل اور جامع رہنمائی۔
واقعات اور مثالوں کے ذریعے انسان کو بار بار نصیحت اور یاد دہانی کروانا۔
فہم اور عقل سے مطالعہ کرنے پر انسان کے علم اور ایمان میں اضافہ ہونا۔
قرآنِ پاک میں خود ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “اور بلا شبہ ہم نے اس قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، تو کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟” اس آیت کے ہوتے ہوئے یہ سوچنا کہ قرآن کو عام انسان ڈائریکٹ ترجمہ سے نہیں سمجھ سکتا، بالکل غلط اور خلافِ حقیقت ہے۔ جب ایک انسان سمجھ کر، اپنی زبان میں قرآن کا ترجمہ پڑھتا ہے، تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے خالقِ کائنات براہِ راست اس کے ساتھ گفت گو کر رہا ہے، اس کے مسائل کا حل بتا رہا ہے اور ہر قدم پر اس کی رہنمائی فرما رہا ہے۔آج امتِ مسلمہ جو تفرقہ بازی، فرقہ واریت اور اخلاقی زوال کا شکار ہے، اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے قرآن کی روح کو چھوڑ کر اسے محض ایک رسمی کتاب بنا دیا ہے۔ علامہ اقبال نے اسی بات پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا:۔
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
اگر ہم واقعی اپنی زندگیوں میں بہتری اور کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ یا تو عربی زبان کو اتنی مہارت سے سیکھا جائے کہ تلاوت کے دوران ہر لفظ کا مفہوم ذہن میں روشن ہو، یا پھر روزانہ اپنی زبان میں قرآنِ مجید کا مستند ترجمہ اور تفسیر پڑھی جائے۔ فہم اور عقل کے ساتھ قرآن کو پڑھنا ہی وہ واحد ذریعہ ہے، جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لاتا ہے۔