(جب ہر طرف تاریکی چھا جائے ( ناامیدی سے کامیابی کا سفر
حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں کہ سورج کو اپنی تمام تر روشنی اور خوب صورتی کے ساتھ نمایاں ہونے کے لیے بھی تاریکی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان کی زندگی کا سفر بھی کچھ ایسا ہی ہے؛ جب تک زندگی میں مشکلات کا اندھیرا نہ آئے، انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیوں کا سورج طلوع نہیں ہو سکتا۔
اکثر زندگی میں ایسا وقت آتا ہے جب انسان ہر طرف سے مایوسی اور پریشانیوں کا شکارجاتا ہے۔ ایسے لمحات میں انسان کو لگتا ہے کہ اس کا تمام نظام تباہ ہو چکا ہے، راستے بند ہو گئے ہیں اور شاید اب کوئی امید باقی نہیں رہی۔ لیکن حقیقت میں یہی وہ نازک موڑ ہوتا ہے، جو انسان کے امتحان اور اس کی نئی شروعات کا باعث بنتا ہے۔
جب بھی آپ کی زندگی میں ہر طرف تاریکی چھا جائے اور حالات انتہائی سخت ہو جائیں، تو گھبرانے اور دل چھوٹا کرنے کی بجائے یہ بات یاد رکھیں کہ رات کا سب سے گہرا اندھیرا ہی صبحِ نو کی آمد کا پتا دیتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اب آپ کی ناکامیاں ختم ہونے والی ہیں اور آپ کے چمکنے کا وقت آ پہنچا ہے۔
مشکلات اور تاریک ایام حقیقت میں آپ کی کامیابی کی تمہید ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں اپنے اندر کا یقین قائم رکھیں اور یاد رکھیں کہ آپ کی محنت اور ابھرنے کی لگن ہی آپ کو کامیابی کی اس بلندی پر لے جائے گی جہاں آپ کی قابلیت کا سورج تمام دنیا کے سامنے روشن ہو گا۔