فزکس سے میٹا فزکس تک

فزکس سے میٹا فزکس تک : کائنات کے پار کا سفر

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہمارے ارد گرد نظر آنے والی یہ مادی دنیا، یہ روشنی، آوازیں، اور ہماری سکرینوں پر چمکتے رنگ وغیرہ یہ سب دراصل کیا ہیں؟ سائنس کی زبان میں اسے ہم فزکس  کہتے ہیں۔ فزکس ہمیں یہ تو سکھاتی ہے کہ کائنات کیسے کام کرتی ہے، مادہ  اور توانائی یا انرجی  کا آپس میں کیا تعلق ہے اور روشنی کی لہریں کس طرح سفر کرتی ہیں۔ لیکن ایک سوال جو انسانی ذہن کو صدیوں سے بے قرار کیے ہوئے ہے، وہ یہ ہے: اس مادی کائنات سے پہلے کیا تھا اور اس کے بعد کیا ہوگا؟

اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں فزکس کی مادی سرحدوں کو پار کر کے میٹا فزکس (ماورائے طبیعیات) کی دنیا میں قدم رکھنا پڑے گا۔عام طور پر فزکس اور میٹا فزکس کو متضاد سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ یہ ایک ہی سفر کے دو مختلف مراحل ہیں۔ لفظ ‘میٹاکا مطلب ہے ‘پساِ پشت’، ‘بعد میں آنے والا’ یا ‘اگلا قدم’۔فزکس براہِ راست مشاہدات، تجربات اور پیمائش پر یقین رکھتی ہے۔ اس کا دائرہ اختیار کیا اور کیسےتک محدود ہے۔ مثال کے طور پر، کائنات کیسے وجود میں آئی؟ فزکس ہمیں ‘بگ بینگ’ کے نظریے سے اس کا جواب دے دے گی۔مگر یہ نہیں بتائے گی کہ کیوں وجود میں آئی؟

 اگر میٹا فزکس کی بات کریں تو یہ  فلاسفی کی وہ شاخ ہے جو کائنات کے مادی وجود سے آگے کی حقیقتوں پر بحث کرتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا سوال کیوں ہے۔ بگ بینگ کیوں ہوا؟ مادہ کیوں وجود رکھتا ہے؟ کیا جو کچھ ہمیں دکھائی دے رہا ہے، وہ حقیقت میں موجود بھی ہے یا محض نظر کا دھوکا ہے؟ یہ اور ان سے جڑے کئی سوالات کا جواب  میٹا فزکس دیتی ہے۔جیسے نیوٹن نے کششِ ثقل کے قوانین دیے اور آئن اسٹائن نے زمان و مکاں کے نظریات پیش کیے، فزکس ان قوانین کی ریاضیاتی وضاحت تو کرتی ہے، لیکن ان قوانین کے پیچھے چھپی حتمی وجہ اور ان کے خالق کا پتہ صرف میٹا فزکس ہی دیتی ہے۔

آج کی جدید فزکس ہمیں متبادل کائناتوں یا ‘پیرلل یونیورسز’  کا تصور تو دیتی ہے، لیکن وہ اب تک یہ واضح نہیں کر سکی کہ یہ کائناتیں کہاں اور کس شکل میں موجود ہیں۔ کیا زمین کے علاوہ بھی کہیں زندگی یا کوئی اور مخلوق بستی ہے؟ اور ان تمام نظاموں کو چلانے والی وہ واحد ہستی (خالق) کون ہے اور کہاں ہے؟جب ہم ان سوالات کی گہرائی میں جاتے ہیں، تو پیمائش کے سائنسی آلات اور ریاضی کے فارمولے جواب دینے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ یہاں سے میٹا فزکس کی وہ دنیا شروع ہوتی ہے جہاں صرف ‘وجود’ ، خدا کی ذات، اور اچھے و برے کے غیر مادی تصورات پر گفت گو ہوتی ہے۔

مثلاً وقت کی حقیقت کو سمجھنا فزکس اور میٹا فزکس دونوں کا سب سے پسندیدہ موضوع رہا ہے۔آئن اسٹائن نے ثابت کیا کہ وقت مطلق  نہیں ہے، بلکہ نسبتی ہے۔ اگر آپ روشنی کی رفتار سے سفر کریں تو آپ کے لیے وقت کی رفتار سست ہو جائے گی۔ وقت کا یہ پھیلاؤ ہمیں اس حقیقت کی طرف لے جاتا ہے کہ کائنات میں مختلف مقامات پر وقت کی حقیقت مختلف ہو سکتی ہے۔ اس تصور کی تصدیق ہمیں قرآنِ پاک سے بھی ملتی ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں کا ایک دن اس دنیا کے ہزار سال کے برابر ہے۔

عظیم مفکر علامہ اقبالؒ نے اپنی فلسفیانہ تحریروں اور شاعری میں میٹا فزکس پر گراں قدر کام کیا ہے۔ اقبال آئن اسٹائن کے ریاضیاتی وقت سے ایک قدم آگے جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک دن اور رات کا بدلنا یا گھڑی کی سوئیوں کے مطابق حساب لگانا حقیقی وقت نہیں ہے۔ اقبالؒ کا ماننا تھا کہ وقت اس مادی دنیا اور سائنسی پیمائش سے کہیں بلند اور ماورا چیز ہے۔ حقیقی زمان و مکاں کو سمجھنے کے لیے انسان کو اس مادی قید خانے سے باہر نکلنا ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان بیرونی مادی دنیا میں گم رہے گا، وہ کائنات کی حتمی سچائی کو نہیں پا سکتا۔

کائنات کے پوشیدہ رازوں کو جاننے کا سفر بیرونی کائنات سے نہیں، بلکہ انسان کے اپنے اندر سے شروع ہوتا ہے۔ جیسا کہ اقبال ؒنے فرمایا تھا کہ اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی ۔ جب انسان اپنے باطن کی گہرائیوں میں جھانکتا ہے، تو اسے وہ سچائیاں معلوم ہوتی ہیں جن کی پیمائش فزکس کی لیبارٹریوں میں ممکن نہیں ہے۔

پس یاد رکھیں فلسفے کا آغاز بھی سوال اٹھانے اور حقیقتِ وجود کی تلاش (میٹا فزکس) سے ہوا تھا اور علم کا اختتام بھی اسی تجسس پر ہوتا ہے۔ فزکس مادی سفر کی سہولت کار ہے، لیکن روح کا اطمینان اور حقیقتِ کبریا کا ادراک میٹا فزکس کے بغیر ممکن نہیں۔ جب ہم اس توازن کو سمجھ کر کائنات پر غور و فکر کرتے ہیں، تو یہ کائنات مزید حسین معلوم ہوتی ہے اور ہمارا باطنی سکون بڑھ جاتا ہے۔

Leave a Comment