گناہ اور اللہ کی پردہ پوشی
انسان خطا کا پتلا ہے اور زندگی کے سفر میں اس سے بھول چوک یا گناہ سرزد ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ لیکن اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ گناہ ہو جانے کے بعد بندے کا ردِعمل کیا ہونا چاہیے۔ جب کوئی انسان کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے اور پھر ندامت کے ساتھ اپنے رب کے قریب جا کر معافی مانگتا ہے، تو وہ اللہ کا پسندیدہ بندہ بن جاتا ہے، کیو ں کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتاہے۔
لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ گناہ کرنے کے بعد اس پر شرمندہ ہونے کی بجائے اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔ آکج کا انسان الاعلان دوسروں کو اپنے گناہوں کے قصے سناتا ہے۔ اگرچہ مغربی ممالک میں گناہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی باقاعدہ طور پر تشہیر کا ایک پورا کلچر موجود ہے، لیکن بدقسمتی سے اب یہ رجحان ہمارے ہاں بھی دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔
یاد رکھیے، جب کوئی انسان اپنے گناہ کا خود ڈھنڈورا پیٹتا ہے اور لوگوں میں اعلان کرتا پھرتا ہے، تو وہ دراصل لوگوں کو اس گناہ کا گواہ بنا لیتا ہے۔ جب انسان خود اپنے گناہ کو بے نقاب کر دیتا ہے، تو وہ معافی کا معاملہ اپنے ہاتھ سے ختم کر بیٹھتا ہے اور پھر ایسے گناہ کی معافی ممکن نہیں رہتی۔اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے ، جس کا مفہوم ہے کہ جو گناہ تم کرتے ہو، میں اس کی پردہ پوشی کرتا ہوں۔
اب اگر اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے اور انھیں لوگوں کی نظروں سے چھپا کر رکھتا ہے، تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ ہمیں معاف کر کہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔ وہ اپنے بندے کو ذلیل نہیں کرنا چاہتا ہوتا بلکہ اسے سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔ لیکن جب بندہ خود ہی اس پردے کو چاک کر دیتا ہے، تو وہ اللہ کی اس عظیم رحمت اور پردہ پوشی کی ناقدری کرتا ہے۔
اس لیے خدارا! اگر زندگی میں کبھی بھول چوک سے کوئی خطا یا گناہ سرزد ہو جائے، تو اسے صرف اللہ اور اپنے درمیان ہی رہنے دیجیے۔ اسے لوگوں کے سامنے فخر یا عادت کے طور پر بیان مت کریں۔ اپنے گناہ کو چھپائیے، تنہائی میں اپنے رب کے سامنے گڑگڑائیے اور اس سے سچی معافی مانگیے۔ اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے، وہ نہ صرف آپ کے گناہ معاف فرمائے گا بلکہ آپ کی پردہ پوشی کا بھرم بھی قائم رکھے گا۔ جزاک اللہ