عظیم سلطنتوں کا زوال: تاریخ کا سب سے بڑا سبق

عظیم سلطنتوں کا زوال: تاریخ کا سب سے بڑا سبق

انسانی تاریخ کا گہرا مطالعہ کرنے سے جہاں   ہمیں  ماضی کی مادی ترقی سے روشناس  ہوتا ہے، وہاں ذہن کے نہاں خانوں میں چند ایسے هولناک اور خوفناک سوالات بھی کھڑے کرتا ہے، جن کا سامنا کرنے سے عام انسانی ذہن کتراتا ہے۔ کیا یہ انسان ہمیشہ اس زمین پر رہے گا؟ یہ انسان کب سے اس دنیا میں آباد ہے؟ اب تک کتنے ارب انسان اس مسافر خانے میں آ کر جا چکے ہیں اور اب ان کا مادی وجود کہاں ہے؟ وہ عالی شان محلات، وہ سنگِ مرمر کے ایوان اور وہ وسیع و عریض باغات جن پر ان کے مالکین فخر کرتے تھے، آج ان کا وارث کون ہے؟ اگر آج سے ٹھیک سو سال بعد کا نقشہ دیکھا جائے تو ہم کہاں ہوں گے؟ ہمارا نام و نشان کہاں ہوگا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو انسانی دلوں پر خوف طاری کر دیتے ہیں، لیکن ان کا جواب تلاش کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ انسان اس عارضی مادی زندگی کی حقیقت کو پا سکے اور تکبر و غرور کے اس سراب سے باہر نکلے جس میں وہ مبتلا ہے۔

اگر  کائنات کے ابدی اصولوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ انسان اپنے مادی و جسمانی وجود کے ساتھ کبھی ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے جو ہر جاندار کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود، ایک ایسی شکل موجود ہے جس میں انسان مر کر بھی لافانی ہو جاتا ہے۔ وہ شکل انسان کی روح، اس کے صالح اعمال اور اس کے بلند نظریات ہیں۔

مثال کے طور پر اگر ہم یونان کے عظیم فلسفیوں ارسطو اور سقراط کو دیکھیں، تو انھیں اس دنیا سے رخصت ہوئے ڈھائی ہزار سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، لیکن ان کا مادی وجود خاک میں ملنے کے باوجود ان کے افکار و نظریات آج بھی زندہ ہیں۔ دنیا بھر کی جامعات (یونی ورسٹیوں) میں آج بھی ان کے فلسفے پڑھائے جاتے ہیں اور لوگ ان سے استفادہ   ہو رہے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادی چیزیں فانی ہیں جب کہ فکری، علمی اور ارفع نظریات کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا جا سکتا ہے۔

تاریخ کے صفحات ایسی عظیم الشان سلطنتوں اور تہذیبوں کی داستانوں سے بھرے پڑے ہیں جو کبھی طاقت اور عروج کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ رومن ایمپائر (رومی سلطنت) کا ڈنکا چار دانگِ عالم میں بجتا تھا، سلطنتِ عثمانیہ کی سرحدیں تین براعظموں تک پھیلی ہوئی تھیں، اور برصغیر پاک و ہند پر مغلیہ سلطنت کا اقتدار ایسا تھا کہ دنیا ان کی ثروت و شان و شوکت کی مثالیں دیا کرتی تھیں۔ فرعون اور نمرود جیسے حکمرانوں نے تو اپنی مادی طاقت کے زعم میں خدائی کے دعوے تک کر ڈالے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ تمام جاہ و جلال، وہ خزانے اور وہ طاقت ور ترین انسان آخر کہاں گئے؟ ان کا زوال کیوں ہوا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ جب ان سلطنتوں کے حکمران اور عوام مادی عروج پر پہنچے، تو وہ تکبر، عیاش پرستی اور اخلاقی پستی کا شکار ہو گئے۔ جب کسی معاشرے سے اخلاقیات، عدل و انصاف اور روحانیت کا جنازہ نکل جاتا ہے اور اس کی جگہ صرف مادی مفادات اور عیاشی لے لیتی ہے، تو قدرت کا قانون حرکت میں آتا ہے۔ عیاش پرستی نے ان کے اندرونی نظام کو کھوکھلا کیا، معاشرے سے عدل و  انصاف رخصت ہوا، افرا تفری پھیلی اور بالآخر وہ عظیم الشان سلطنتیں صفحۂ ہستی سے اس طرح مٹ گئیں جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔

ایک محتاط اندازے اور تحقیق کے مطابق، انسانی تاریخ میں اب تک کم و بیش 118 ارب انسان اس زمین پر جنم لے چکے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 93 فیصد (یعنی لگ بھگ 110 ارب انسان) موت کی آغوش میں جا کر مٹی کا ڈھیر بن چکے ہیں، اور موجودہ عالمی آبادی (تقریباً 8 ارب) کل انسانی تاریخ کا محض 7 سے 8 فیصد حصہ ہے۔ یہ تناسب ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کتنی اقلیت میں ہیں اور ہمارا مادی زعم کتنا کھوکھلا ہے۔

آج کا انسان جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے دور میں جی رہا ہے۔ وہ اس بات پر فخر کرتا ہے کہ جو کام ماضی میں مہینوں میں ہوتا تھا، وہ آج مصنوعی ذہانت کی بدولت چند سیکنڈز میں ممکن ہو چکا ہے۔ انسان نے فاصلوں کو سمیٹ دیا ہے، وہ چند گھنٹوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کر سکتا ہے، وہ چاند پر قدم رکھ چکا ہے، مریخ پر اپنے خلائی مشن بھیج رہا ہے، اور ایٹمی و ہائیڈروجن بم بنا کر اس زعم میں مبتلا ہے کہ دنیا کا کنٹرول اس کی ایک انگلی کی جنبش پر ہے۔

لیکن اس مادی و سائنسی ترقی کے دوسری طرف اگر ہم اپنی حیاتیاتی حقیقت کو دیکھیں تو ہم ماضی کے انسان سے کہیں زیادہ کم زور ہیں۔ ماضی میں انسانوں کی عمریں سینکڑوں سال (مثلاً نو سو سال سے زائد) ہوا کرتی تھیں اور ان کی جسمانی ساخت نہایت مضبوط تھی، جب کہ آج ہماری اوسط عمر محض 60 سے 70 سال یا حدِ درجہ 100 سال ہے۔ اتنی مختصر عمر اور اتنی بے بسی کے باوجود اگر انسان کے اندر تکبر اور غرور پایا جائے، تو یہ اس کی نادانی کی انتہا ہے۔

 یاد رکھیں انسانی زندگی اور معاشرے کے لیے سب سے مہلک اور ہلاکت خیز جذبہ ’’تکبر‘‘ ہے۔ تکبر انسان کے اندر سے اخلاقیات کی جڑیں کاٹ دیتا ہے۔ جب اخلاقیات دفن ہوتی ہیں، تو انسانی اور معاشرتی رویے مسخ ہو جاتے ہیں۔ معاشرے سے عدل و انصاف کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور ہر شخص صرف اپنے ذاتی مفاد کے دائرے میں مقید ہو کر رہ جاتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے اس روش کو اپنایا، قدرت نے اسے زیادہ مہلت نہیں دی۔ آج ان عظیم بادشاہوں کے محلات کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں اور اگر ان کی قبروں کو دیکھا جائے تو شاید ان کی ہڈیاں بھی نہ ملیں۔ جن کے خزانوں کی چابیاں اٹھانے کے لیے ہزاروں اونٹ کم پڑ جاتے تھے، آج ان کا نام لینے والا کوئی نہیں ہے۔

اس تمام فکری بحث اور تاریخی حقائق کا لبِ لباب یہ ہے کہ اگر ہمیں بطور قوم اور بطور انسان اپنا وجود برقرار رکھنا ہے، تو ہمیں مادہ  پرستی کے حصار سے باہر نکلنا ہوگا۔ ہمیں روحانیت، اخلاقی اقدار اور پائیدار نظریات کی طرف لوٹنا ہوگا۔ ہمیں اپنے معاشرے سے امیر اور غریب کے تفاوت کو ختم کر کے سب سے پہلے عدل و انصاف کا نفاذ اپنے وجود پر کرنا ہوگا۔ ہمیں ہر قسم کے ظلم اور تکبر سے خود کو بچانا ہوگا اور معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا، کیوں کہ مادی چیزیں فانی ہیں اور صرف وہی انسان یا نظریہ باقی رہتا ہے جو انسانیت کی بھلائی اور عدل پر مبنی ہو۔

Leave a Comment