ریاستِ مدینہ: عالمی فلاحی ماڈل
( ایک مثالی فلاحی معاشرے کے قیام کا نقشِ عمل)
انسانی تاریخ میں جب بھی ایک مثالی ریاست اور بہترین طرزِ حکمرانی کی بات کی جاتی ہے، تو ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کا تذکرہ سرِ فہرست آتا ہے۔ یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا جامع نظام ہے جس نے انسانیت کو جینے کا ڈھنگ سکھایا اور عدل و انصاف کے وہ پیمانے مقرر کیے،جن کی مثال آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی نہیں ملتی۔ ریاستِ مدینہ کی بنیاد آج سے تقریباً 1400 سال قبل نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے مدینہ منورہ میں رکھی۔ یہ ریاست کسی مخصوص گروہ یا قبیلے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک فلاحی ماڈل تھی۔
قیادت کا کردار اور سچائی کی بنیاد
کسی بھی ریاست کی کامیابی کا دارومدار اس کی قیادت کے کردار پر ہوتا ہے۔ ریاستِ مدینہ کے بانی ﷺ نے نبوت کا اعلان کرنے سے قبل چالیس سال مکہ کے معاشرے میں گزارے اور اپنی عملی زندگی سے ثابت کیا کہ وہ ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ریاست کے قیام کی بات آئی تو عوام کے پاس اپنے قائد کی دیانت پر کوئی شک کرنے کی گنجائش نہ تھی۔ ایک کامیاب ریاست کے لیے ضروری ہے کہ اس کا سربراہ پہلے اپنا کردار پیش کرے تاکہ لوگ اس کے نظریات پر اعتماد کر سکیں۔ ریاستِ مدینہ کا پہلا سبق یہی ہے کہ قیادت صرف طاقت کا نام نہیں بلکہ یہ اعلیٰ اخلاق اور دیانت داری کا مجموعہ ہے۔
نظریاتی یک سوئی اور توحید کا تصور
ریاستِ مدینہ کا قیام کسی علاقائی یا لسانی عصبیت پر نہیں تھا، بلکہ اس کی بنیاد ایک نظریے پر رکھی گئی تھی اور وہ نظریہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ یعنی اللہ کی حاکمیت کا تصور تھا۔ اس وقت کے عرب معاشرے میں لوگ بکھرے ہوئے تھے، مختلف رسم و رواج اور قبائلی عداوتوں نے انھیں تقسیم کر رکھا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ان تمام نظریات کی نفی کی اور انھیں ایک مرکز پر اکٹھا کیا۔ جب تک کسی قوم کا نظریہ ایک نہیں ہوتا، وہ ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی۔ ریاستِ مدینہ نے بتایا کہ رنگ، نسل اور قبیلے سے بالاتر ہو کر ایک مقصد کے لیے جمع ہونا ہی اصل طاقت ہے۔
عدل و انصاف اور قانون کی حکمرانی
ریاستِ مدینہ کا سب سے مضبوط ستون اس کا نظامِ عدل تھا۔ وہاں قانون کی نظر میں امیر اور غریب، چھوٹا اور بڑا سب برابر تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ایک معزز خاندان کی خاتون نے چوری کی اور اس کی سفارش کی گئی، تو نبی کریم ﷺ نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ (سلام اللہ علیہا) بھی یہ کام کرتیں تو میں ان کے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا۔ یہ وہ عدل تھا جس نے معاشرے سے جرم کا خاتمہ کر دیا۔ آج کے دور میں جہاں طاقت ور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ قانون ہے، وہاں ریاستِ مدینہ کا یہ اصول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انصاف کے بغیر کوئی بھی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔
معاشرتی اصلاحات اور انسانی حقوق
ریاستِ مدینہ سے قبل عرب معاشرہ جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا، عورتوں کو وراثت سے محروم رکھنا اور غلاموں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرنا عام تھا۔ اس فلاحی ریاست نے ان تمام فرسودہ رسومات کا خاتمہ کیا۔ عورتوں کو عزت و احترام دیا گیا، ان کے حقوق مقرر کیے گئے اور انھیں معاشرے کا ایک فعال حصہ بنایا گیا۔ تعلیم کو لازم قرار دیا گیا اور مسجدِ نبوی کو ریاست کا ہیڈ کوارٹر بنانے کے ساتھ ساتھ اسے پہلی قومی یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا، جہاں سے لوگ علم و دانش کی روشنی لے کر نکلے۔
اقتصادی نظام: زکوٰۃ اور سود سے پاک معاشرہ
ریاستِ مدینہ کا معاشی ماڈل آج کے سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں کہیں زیادہ متوازن تھا۔ اس نظام کی بنیاد سود کے خاتمے اور نظامِ زکوٰۃ کے نفاذ پر تھی۔ سود کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ قرار دیا گیا کیوں کہ یہ غریب کا خون چوستا ہے اور دولت کو چند ہاتھوں میں مرکوز کر دیتا ہے۔ دوسری طرف زکوٰۃ کا ایک باقاعدہ نظام وضع کیا گیا جس کا مقصد دولت کی منصفانہ تقسیم تھا۔ یہ ٹیکس صرف صاحبِ استطاعت لوگوں سے لیا جاتا تھا اور اسے بیواؤں، یتیموں، مساکین اور ضرورت مندوں پر خرچ کیا جاتا تھا۔ اس نظام کی برکت یہ تھی کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب معاشرے میں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں رہا تھا۔
حکومتی امور اور مشاورت کا نظام
ریاستِ مدینہ میں تمام اہم فیصلے مسجدِ نبوی میں مشاورت سے کیے جاتے تھے۔ مسجد صرف عبادت گاہ نہیں تھی بلکہ یہ عدالت بھی تھی، پارلیمنٹ بھی اور سیکرٹریٹ بھی۔ تمام ریاستی امور، جنگی حکمتِ عملی اور وفود سے ملاقاتیں اسی مرکز میں ہوتی تھیں۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان کوئی دیوار نہیں ہونی چاہیے۔ حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے اور اسے ہر فیصلہ عوامی مفاد اور الٰہی احکامات کی روشنی میں کرنا ہوتا ہے۔
عصرِ حاضر اور ریاستِ مدینہ کا اطلاق
آج اگر ہم پاکستان جیسے ملک کو ایک مثالی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں انھی اصولوں کی طرف لوٹنا ہوگا جو 1400 سال پہلے طے کیے گئے تھے۔ ہمیں سب سے پہلے ایک قوم بننا ہوگا اور اپنے نظریات کو واضح کرنا ہوگا۔ عدل و انصاف کا ایسا نظام لانا ہوگا، جہاں طاقت ور قانون سے بالا تر نہ ہو۔ ٹیکس کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو غریبوں پر بوجھ بننے کی بجائے امیروں سے لے کر ضرورت مندوں پر خرچ ہو۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنی سوچ اور ذہنیت کو بدلنا ہوگا۔ جہالت کے خاتمے کے لیے تعلیم کو عام کرنا ہوگا اور ہر شہری کو اس کی بنیادی ضروریات جیسے خوراک، صحت اور چھت کی فراہمی ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ریاستِ مدینہ محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک عملی نمونہ ہے، جس پر عمل پیرا ہو کر ہم آج بھی دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں اور ایک پرامن و خوش حال معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ یہ نظام بتاتا ہے کہ جب تک نیت میں خلوص اور عمل میں انصاف رہے گا، وہ ریاست ہمیشہ ترقی کرے گی اور رہتی دنیا تک کے لیے مثال بنی رہے گی۔