نیکیوں کو برباد کرنے والے پانچ مہلک گناہ
انسانی زندگی کا اصل مقصد اللہ رب العزت کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انسان دن رات عبادات، صدقہ و خیرات اور دیگر نیک اعمال میں مشغول رہتا ہے۔ تاہم، اسلام صرف نیکیاں کمانے کا حکم ہی نہیں دیتا بلکہ ان نیکیوں کی حفاظت کرنے کی بھی تاکید کرتا ہے۔ بعض اوقات انسان بہت زیادہ محنت کر کے نیکیوں کا ذخیرہ تو اکٹھا کر لیتا ہے، لیکن اپنی ہی کچھ نادانیوں اور پوشیدہ گناہوں کی وجہ سے ان تمام اعمال کو رائیگاں کر بیٹھتا ہے۔ ذیل میں ان پانچ خطرناک گناہوں کی تفصیل دی گئی ہے جو نیکیوں کو مٹی میں ملا سکتے ہیں۔
ریاکاری (دکھاوا)
نیکیوں کو ضائع کرنے والا سب سے پہلا اور خاموش گناہ ’’ ریاکاری‘‘ ہے۔ ریاکاری سے مراد یہ ہے کہ کوئی بھی عبادت یا نیک کام اللہ کی خوشنودی کی بجائے لوگوں کو دکھانے یا اپنی’’ واہ واہ ‘‘ کروانے کے لیے کیا جائے۔ اگر کوئی شخص تہجد گزار ہے، دن رات اللہ کی تسبیح کرتا ہے، حج اور عمرے جیسی سعادتیں حاصل کرتا ہے یا غریبوں کو کھانا کھلاتا ہے، مگر اس کے دل کے کسی کونے میں یہ خواہش چھپی ہے کہ لوگ اسے ’’نیک‘‘ یا ’’سخی‘‘ کہیں، تو اس کی یہ تمام محنت ضائع ہو جائے گی۔ اسلام میں اخلاصِ نیت کو عمل کی روح قرار دیا گیا ہے، اور روح کے بغیر جسم کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
احسان جتلانا
دوسری چیز جو نیکیوں کے اجر کو ختم کر دیتی ہے وہ ’’احسان جتلانا‘‘ ہے۔ اکثر اوقات ہم کسی ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں، کسی کے کام آتے ہیں یا کسی پر کوئی مالی احسان کرتے ہیں، لیکن بعد میں اپنی زبان سے اس کا ذکر کر کے یا سامنے والے کو اس کی مجبوری یاد دلا کر اپنی نیکی کو ختم کر دیتے ہیں۔ لوگوں کے سامنے یہ کہنا کہ ’’ میں نے تمہارے ساتھ یہ بھلائی کی تھی‘‘ یا ’’ میری وجہ سے تمہارا یہ کام ہوا‘‘، ایک ایسی روش ہے جو نیکی کو فوری طور پر اکارت کر دیتی ہے۔ اللہ کو وہ ’’ صدقہ‘‘ پسند ہے جس میں دینے والے کا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے بے خبر رہے۔
تکبر اور خود پسندی
تیسرا مہلک گناہ ’’تکبر‘‘ ہے۔ جب انسان کے اندر یہ سوچ جنم لینے لگے کہ ’’مجھ سے بڑا نیکوکار کوئی نہیں‘‘ یا وہ دوسروں کو حقیر اور خود کو برتر سمجھنے لگے، تو یہ غرور اس کی نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔ تکبر وہ گناہ ہے جس نے ابلیس جیسے عابد کو ہمیشہ کے لیے مردود کر دیا تھا۔ جب انسان کے اندر یہ احساس پیدا ہو جائے کہ وہ سب سے اچھا ہے، تو یہی وہ مقام ہے جہاں سے اس کے اخلاقی اور روحانی زوال کا آغاز ہوتا ہے۔اسی طرح’’ حسد‘‘ بھی نیکیوں کو ختم کر دیتا ہے۔کیوں کہ تکبر اور خود پسندی ’’حسد‘‘ کو جنم دیتے ہیں۔ انسان دوسروں کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتا، اس لیے کہ وہ خود پسندی کا شکار ہو چکا ہوتا ہے۔
شرک
نیکیوں کی بربادی کا چوتھا اور سب سے سنگین سبب ’’شرک‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات یا حقوق میں کسی اور کو شریک ٹھہرانا ایک ایسا ظلمِ عظیم ہے ،جس کی موجودگی میں کوئی بھی نیک عمل بارگاہِ الٰہی میں قبول نہیں ہوتا۔ ایک انسان چاہے کتنی ہی مخلصانہ محنت کیوں نہ کر لے، اگر وہ اللہ کی وحدانیت میں کسی کو حصہ دار بناتا ہے تو اس کے ان تمام اعمال کا کوئی وزن نہیں رہتا۔ شرک تمام نیکیوں کو جلا کر راکھ کر دینے والی آگ کی مانند ہے۔
حرام کام کرنا
پانچویں اہم چیز حرام رزق کا استعمال اور تنہائی میں کیے جانے والے حرام کام ہیں۔ ایک شخص بظاہر بہت بڑا عابد اور زاہد ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس کا رزق حرام ہے یا وہ تنہائی میں اللہ کے حدود کو پامال کرتا ہے، تو اس کی ظاہری نیکیاں اسے نفع نہیں دیں گی۔ اصل تقویٰ تو وہی ہے جو انسان کو اس وقت بھی گناہ سے بچائے جب اسے دیکھنے والا کوئی نہ ہو۔ اگر انسان تنہائی میں اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو اس کی تہجد اور دیگر ظاہری عبادات اپنی تاثیر کھو دیتی ہیں۔
پس یاد رکھیں نیکی کرنا جتنا اہم ہے، اس سے کہیں زیادہ اس نیکی کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کا مسلسل محاسبہ کریں اور ان برائیوں جیسا کہ ریاکاری، احسان جتلانا، تکبر یا خود پسندی، حسد ، شرک اور حرام کاموں سے بچنے کی بھرپور کوشش کریں۔ اگر ہم اپنے اعمال کو ان آلودگیوں سے پاک رکھنے میں کامیاب ہو گئے، تبھی ہماری نیکیاں آخرت میں ہمارے کام آ سکیں گی اور ہمیں حقیقی کامیابی نصیب ہوگی۔