عزتِ نفس: ایک حقیقت یا محض خیالی فریب؟

عزتِ نفس: ایک حقیقت یا محض خیالی فریب؟

انسانی زندگی میں بہت سے ایسے تصورات ہیں جنھیں ہم نے اپنی شخصیت کا لازمی حصہ بنا لیا ہے، اور ان میں سے ایک اہم ترین تصور ’’عزتِ نفس‘‘ ہے۔ اکثر ہم لوگوں سے کہتے ہیں کہ میری ’’ عزتِ نفس‘‘  کو مجروح نہ کریں یا میری انا کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔  لیکن کیا ہم نے کبھی رک کر یہ سوچنے کی کوشش کی ہے کہ یہ عزتِ نفس دراصل ہے کیا؟ کیا یہ کوئی ٹھوس حقیقت ہے یا محض ایک ذہنی سراب؟

ہم عموماً اپنی ذات کے گرد مفروضوں اور خوش کن تصورات کا ایک حصار کھینچ لیتے ہیں ۔ خود کو ہمیشہ ایک مخصوص زاویہِ نگاہ یا اپنی ہی مرضی کے تراشے ہوئے آئینے میں دیکھنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ المیہ تب جنم لیتا ہے،  جب کوئی دوسرا شخص ہمیں حقیقت کا آئینہ دکھانے کی جسارت کرتا ہے۔ ایسے میں ہمیں اپنی نام نہاد ’’عزتِ نفس‘‘  خطرے میں گھری محسوس ہونے لگتی ہے۔ لیکن یہاں غور طلب  بات یہ ہے کہ جسے ہم ’’نفس یا غیرت‘‘  کا نام دے رہے ہیں، کہیں وہ ہمارا چھپا ہوا ’’ احساسِ کمتری‘‘ تو نہیں؟ کیا یہ وہ خیالی شیش محل تو نہیں جسے ہم نے محض اپنی تسکینِ ذات کے لیے خود ہی تعمیر کر رکھا ہے؟

حقیقتِ حال تو یہ ہے کہ وہ انسان جو اپنی ذات کی خامیوں پر مسکرانے کا ہنر جانتا ہے، اس شخص سے کہیں بہتر اور بلند تر ہے، جو دوسروں کی تضحیک میں سکون تلاش کرتا ہے۔ ہم اکثر اپنی انا اور بناوٹی عزتِ نفس کے خول میں اس قدر محصور ہو جاتے ہیں کہ تلخ حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہمارے لیے محال ہو جاتا ہے۔ یہ نفسیاتی فریب بچپن سے جوانی اور پھر بڑھاپے کی دہلیز تک سائے کی طرح ہمارے ساتھ رہتا ہے۔یہ ایک ایسا کانچ کا گھرہے، جس کے معمار بھی ہم خود ہیں اور جو ہمارے ہی متزلزل خیالات کی ذرا سی ٹھیس سے پاش پاش ہو جاتا ہے۔

اگر ہماری جستجو واقعی ذہنی آسودگی اور فکری رفعت ہے، تو ہمیں اس سراب سے باہر نکلنا ہوگا۔ ہمیں یہ ادراک حاصل کرنا ہوگا کہ حقیقی عزتِ نفس اتنی بودی نہیں ہوتی کہ دوسروں کے تبصروں سے مجروح ہو جائے، بلکہ اپنی کمزوریوں کا اعتراف اور ان کا سامنا کرنا ہی اصل مردانگی اور بہادری ہے۔ اپنی’’  انا  ‘‘ کو عزتِ نفس کا لبادہ پہنا کر خود فریبی میں مبتلا رہنا انسانی ارتقا کی راہ میں سب سے بڑی دیوار ہے۔ جب انسان اس ذہنی قید سے رہا ہوتا ہے، تو کائنات اسے ایک نئے اور شفاف تناظر میں دکھائی دینے لگتی ہے۔ لہٰذا، اس طلسمِ ہوش ربا سے باہر نکلیے اور حقیقت کی تپش کو قبول کیجیے۔  تاکہ آپ کی شخصیت میں وہ وقار اور ٹھہراؤ پیدا ہو سکے جو محض خام خیالی کے سہارے کبھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

Leave a Comment