دین و سیاست کا لازمی ربط : فکر اقبال کی روشنی میں
عام طور پر ہمارے معاشرے میں یہ فکری کج روی پائی جاتی ہے کہ مذہب اور سیاست دو الگ الگ خانوں کے نام ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دین محض تسبیح و مصلے کا نام ہے، جب کہ سیاست جوڑ توڑ، فریب اور دنیا داری کا کھیل ہے۔ یہ غلط فہمی اس حد تک جڑ پکڑ چکی ہے کہ اگر کوئی سیاسی رہنما، اسلامی نقطہ نظر سے بات کرے تو اس پر تنقید کے تیر برسائے جاتے ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں اسی مغالطے کا ازالہ کیا گیا ہے کہ کیا واقعی دین اور سیاست جدا گانہ حقیقتیں ہیں یا یہ ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔
سیاست کا حقیقی مفہوم
سیاست دراصل حکمرانی، حکمتِ عملی اور مصلحت اندیشی کے علم کا نام ہے۔ یہ محض اقتدار کا حصول نہیں، بلکہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا، انھیں برائی سے روکنا، نیکی کی دعوت دینا، عدل و انصاف کا قیام اور عوام کے حقوق و فرائض کی نگہبانی کرنا ہے۔ جدید دور میں سیاست ایک باقاعدہ علم ہے جس کی جامعات میں تعلیم دی جاتی ہے۔ اگر ہم سیاست کی اس تعریف کا موازنہ اسلامی تعلیمات سے کریں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام بھی عین یہی اصول پیش کرتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا کہ ہم نے تمہارے لیے دینِ اسلام کو پسند کر لیا ہے، اور یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس میں زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں(خواہ وہ سماجی ہو، معاشی ہو یا سیاسی)جس کے بارے میں رہنمائی موجود نہ ہو۔
دین اور سیاست کی جدائی کا مغربی تصور
دین اور سیاست کو الگ کرنے کا تصور دراصل مغرب کی پیداوار ہے۔ اہل مغرب روحانیت اور مذہب کے خلاف ایک خاص بیزاری رکھتے تھے، اس لیے انھوں نے مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیا۔ ان کے نزدیک ایک شخص نماز پڑھے، روزہ رکھے یا حج کرے، اس سے ریاست کو کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے، بشرطیکہ وہ حق و باطل کے اس فرق کو اپنے تک محدود رکھے۔ یورپ اور کفر اس بات پر تو راضی تھے کہ مسلمان انفرادی عبادت کریں، لیکن جب بات اجتماعی نظام کی آئی تو انھوں نے اسے “سیکولرازم” کے پردے میں مذہب سے کاٹ دیا۔ حالاں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب ریاستِ مدینہ کی بنیاد رکھی اور اس کے بعد صحابہ کرامؓ نے خلافت کا نظام چلایا، تو تمام سیاسی، سماجی اور معاشی معاملات قرآن و سنت کے تابع تھے۔
علامہ اقبال کا فلسفۂ سیاست
علامہ اقبال نے اس مغربی فتنے کو بہت پہلے بھانپ لیا تھا۔ ان کے نزدیک وہ سیاست جو دین سے عاری ہو، وہ درندگی اور ظلم کے سوا کچھ نہیں۔
جلالِ پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
اقبال کا پیغام واضح ہے کہ اگر سیاست سے دین کی اخلاقی پابندیاں ہٹا دی جائیں، تو وہ چنگیز خان جیسی سفاکی اور خونریزی بن جاتی ہے۔ اسی طرح ایک اور مقام پر آپ نے فرمایا:۔
قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں
ان اشعار سے عیاں ہے کہ مذہب محض انفرادی کوشش نہیں بلکہ ایک اجتماعی قوت ہے جو انسانی معاشرے کو ایک لڑی میں پروتی ہے۔
تحریکِ پاکستان اور نظریاتی بنیاد
پاکستان کی تخلیق خود اس بات کی گواہی ہے کہ یہاں دین اور سیاست یکجا تھے۔ تحریکِ پاکستان کی پوری مہم “لا الہ الا اللہ” کے نعرے پر استوار تھی۔ یہ ایک سیاسی عمل تھا، ووٹنگ کا جمہوری طریقہ کار تھا، لیکن اس کی روح خالصتاً دینی تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمان اس لیے اکٹھے ہوئے کہ وہ ایک ایسی ریاست چاہتے تھے جہاں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات نافذ ہوں۔ اگر اس وقت مذہب کے نام پر سیاست کرنا درست تھا، تو آج اسے غلط کیوں سمجھا جاتا ہے؟
حضرت واصف علی واصفؒ کی فکر
ممتاز دانشور حضرت واصف علی واصفؒ اس موضوع پر بڑی بصیرت افروز بات کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ جتنا اسلام قائد اعظم اور علامہ اقبال کے پاس تھا، اگر آج کے حکمران اتنا ہی اسلام اپنے اندر لے آئیں تو اس پر اکتفا کر لینا چاہیے۔ ہمیں حکمرانوں کو اپنے جیسا “مذہبی لبادے” والا بنانے کی ضد نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ان کے اندر اس خلوص اور دین داری کو دیکھنا چاہیے جو ملک کے بانیوں میں موجود تھی۔ اگر کوئی حکمران حق اور اسلام کی بات کرتا ہے تو اسے محض “سیاسی شعبدہ بازی” کہہ کر رد نہیں کرنا چاہیے۔
قرآن میں سیاست کے اصول
قرآنِ مجید میں اگرچہ براہِ راست “سیاست” کا لفظ اس مروجہ معنی میں استعمال نہیں ہوا، لیکن حکمرانی کے ٹھوس اصول بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن میں نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے اور فتنہ و فساد کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت ذوالقرنین اور حضرت طالوتؑ جیسے کرداروں کا ذکر اس لیے کیا گیا تاکہ بتایا جا سکے کہ ایک حکمران کا اصل کام لوگوں کو عدل کے پرچم تلے اکٹھا کرنا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
حاصل بحث
سیاست دھوکے، جھوٹ یا منافقت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک عظیم امانت ہے۔ اگر ہم سیاست کو محض مفاد پرستی سمجھتے ہیں تو یہ ہماری کم علمی ہے۔ اصل سیاست وہ ہے جو انسانیت کی فلاح کے لیے مصلحت اندیشی اور حکمتِ عملی سے کام لے کر معاشرے میں عدل قائم کرے۔ جب تک سیاست کی پشت پر دین کی اخلاقی قوت موجود نہ ہو، معاشرہ کبھی بھی امن کا گہوارہ نہیں بن سکتا۔ لہٰذا، دین اور سیاست کو الگ کرنا نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک ایسی چنگیزی کو دعوت دینے کے مترادف ہے جو انسانی قدروں کو پامال کر دیتی ہے۔