اقبال کی خودی کا قتل اور ہمارا کردار؟

اقبال کی خودی کا قتل اور ہمارا کردار؟

علامہ محمد اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کو جس “خودی” کا درس دیا تھا، وہ محض شاعری نہیں بلکہ ایک زندہ جاوید فلسفہ تھا۔ خودی کا مطلب اپنی ذات کو پہچاننا، اپنے اندر چھپے ہوئے جوہر کو نکھارنا اور اللہ کے سوا کسی بھی غیر کے سامنے سر نہ جھکانا ہے۔ مگر صد افسوس کہ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہاں ہم نے اقبال کے اس شاہکار تصور کو اپنی انا، دکھاوے اور سماجی مجبوریوں کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ آج کا انسان زندہ تو ہے، مگر اس کی “خودی” کا قتل ہو چکا ہے۔ یہ قتل کسی ہتھیار سے نہیں، بلکہ “لوگ کیا کہیں گے” کے خوف اور سماجی دباؤ کے ہاتھوں ہوا ہے۔

خودی کا مفہوم اور اقبال کا پیغام

اقبال کے نزدیک خودی کا مطلب تکبر یا غرور نہیں، بلکہ یہ “معرفتِ نفس” یعنی اپنے آپ کی پہچان ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ انسان کائنات کی سب سے طاقت ور مخلوق ہے بشرطیکہ وہ اپنی حقیقت کو جان لے۔ ان کا مشہور شعر اس فلسفے کی عکاسی کرتا ہے:

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں درست سمت میں استعمال کرتا ہے، تو وہ کائنات کا امام بن جاتا ہے۔ لیکن جب انسان اپنی مرضی، اپنی پسند اور اپنے ضمیر کو مار کر دوسروں کی نقل کرنے لگتا ہے، تو یہیں سے اس کی خودی کا زوال شروع ہوتا ہے۔

خودی کا قتل: ایک خاموش المیہ

آج ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں، وہاں 90 فیصد لوگ اپنے خوابوں کا قتل کر کے جی رہے ہیں۔ ہم وہ کام کرتے ہیں جو دنیا دیکھنا چاہتی ہے، نہ کہ وہ جس کے لیے ہمیں اللہ نے پیدا کیا ہے۔ خودی کے قتل کی وجوہات درج ذیل ہیں:۔

والدین کا دباؤ: ایک بچہ آرٹسٹ بننا چاہتا ہے لیکن اسے زبردستی انجینئر یا ڈاکٹر بنا دیا جاتا ہے۔ وہ ڈگری تو حاصل کر لیتا ہے، لیکن اس کے اندر کا تخلیقی انسان مر جاتا ہے۔

خاندانی روایت کی بھینٹ: اکثر لوگ محض اس لیے ایک مخصوص پیشہ اپناتے ہیں تاکہ ان کے خاندان کی “ناک” نہ کٹ جائے۔ یہ “ناک بچانے” کی فکر دراصل خودی کے قتل کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

نقالی کی دوڑ: ہم دوسروں کے طرزِ زندگی، لباس اور انداز کو اپناتے ہیں تاکہ معاشرے میں معتبر لگ سکیں۔ اس عمل میں ہماری اپنی انفرادیت ختم ہو جاتی ہے۔

“لوگ کیا کہیں گے” – خودی کا سب سے بڑا قاتل

اگر ہم باریک بینی سے جائزہ لیں تو ہماری زندگی کے اکثر فیصلے اس ڈر کے گرد گھومتے ہیں کہ “لوگ کیا کہیں گے”۔ یہ وہ جملہ ہے جس نے کروڑوں ٹیلنٹڈ لوگوں کے مستقبل کو قبرستان بنا دیا ہے۔ ہم اپنی خوشی سے زیادہ دوسروں کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر، کئی لوگ محض دوسروں کو نیچا دکھانے یا اپنی علمی دھاک بٹھانے کے لیے ایسی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں جن کا ان کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ پانچ پانچ مضامین میں ماسٹرز تو کر لیتے ہیں، لیکن کسی ایک شعبے میں بھی ماہرنہیں بن پاتے، کیوں کہ ان کے اس سفر کے پیچھے شوق نہیں بلکہ “سماجی مقابلہ” تھا۔ یہ اپنی ذات کے ساتھ سراسر ناانصافی اور خودی کا قتل ہے۔

خودی کے قتل کے معاشرتی اور نفسیاتی اثرات

جب کسی معاشرے میں افراد کی خودی مر جاتی ہے، تو وہ معاشرہ مجموعی طور پر زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے چند خطرناک اثرات درج ذیل ہیں:۔

منافقت اور دوہری شخصیت: جب انسان اپنی مرضی کے خلاف زندگی گزارتا ہے تو وہ اندر سے کچھ اور اور باہر سے کچھ اور بن جاتا ہے۔ یہ دوہرا پن معاشرے میں منافقت پھیلاتا ہے۔

تخلیقی بانجھ پن: جب کوئی شخص اپنی فطرت کے خلاف کام کرتا ہے، تو وہ کوئی نئی چیز ایجاد یا تخلیق نہیں کر سکتا۔ وہ محض ایک لکیر کا فقیر بن کر رہ جاتا ہے۔

نفسیاتی بیماریاں: اپنی خودی کا قتل کرنے والے لوگ اکثر ڈپریشن، احساسِ کمتری اور دائمی ذہنی تناؤ کا شکار رہتے ہیں کیوں کہ ان کا ضمیر ان کے طرزِ زندگی سے مطمئن نہیں ہوتا۔

روحانی موت: مادی ترقی اور لوگوں کی واہ واہ سمیٹنے کی دوڑ میں انسان اپنے رب سے دور ہو جاتا ہے۔ جب بندہ اپنی حقیقت (خودی) کو ہی بھول جائے، تو وہ اپنے خالق کو کیسے پہچان سکتا ہے؟

خودی کو دوبارہ کیسے زندہ کیا جائے؟

اقبال کا فلسفہ ہمیں مایوس نہیں کرتا بلکہ راستہ دکھاتا ہے۔ اگر آپ اپنی مری ہوئی خودی کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں تو ان اصولوں پر عمل کریں:۔

خود شناسی: آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ سے پوچھیں کہ “میں کون ہوں؟”۔ اپنے اندر چھپی ہوئی اس خوبی کو تلاش کریں جو آپ کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔

ضمیر کی آواز پر لبیک کہنا: وہ کام کریں جس پر آپ کا ضمیر مطمئن ہو۔ اگر آپ کا دل کسی کام کی گواہی نہیں دیتا، تو محض دنیا کو خوش کرنے کے لیے وہ کام نہ کریں۔

فیصلہ سازی کی جرات: اپنی زندگی کے فیصلے خود لیں۔ چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں، کم از کم وہ آپ کے اپنے ہوں گے۔ اپنی غلطیوں سے سیکھنا دوسروں کی غلامی کرنے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔

منفی صحبت سے پرہیز: ایسے لوگوں سے دور رہیں جو آپ کو دوسروں کی طرح بننے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی صحبت اختیار کریں جو آپ کی انفرادیت کی قدر کریں اور آپ کو آپ کے اصل روپ میں قبول کریں۔

ذمہ داری قبول کرنا: اپنی ناکامیوں کا ملبہ معاشرے یا حالات پر ڈالنے کی بجائے خود ذمہ داری لیں۔ جب آپ رسپانسبل بنتے ہیں، تو آپ کی خودی بلند ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

حاصل بحث

یاد رکھیں! آپ کی زندگی آپ کے پاس اللہ کی امانت ہے۔ کل قیامت کے دن آپ سے آپ کی صلاحیتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، اس بارے میں نہیں کہ آپ نے لوگوں کو کتنا خوش کیا۔ اپنی خودی کا قتل کرنا بند کریں اور اقبال کے اس شاہین کی طرح بنیں جو اپنی پرواز کے لیے دوسروں کے بازوؤں کا محتاج نہیں ہوتا۔ جس دن آپ نے یہ خوف نکال دیا کہ “لوگ کیا کہیں گے”، اسی دن آپ کی خودی کی نئی زندگی شروع ہوگی۔

اپنے من میں ڈوبیں، اپنی حقیقت کو پائیں اور دنیا کو دکھا دیں کہ آپ ایک منفرد تخلیق ہیں۔ خودی کو بچانا ہی دراصل انسانیت کو بچانا ہے۔

Leave a Comment