حیاتِ انسانی: فنا کی دستک اور بقا کا کرب
انسانی وجود، ازل سے ابد تک، ایک لا متناہی اضطراب اور مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ ہم ایک ایسی کائنات کے باسی ہیں جہاں ہر لمحہ تغیر، زوال اور ارتقاء کا عمل جاری ہے۔ انسانی زندگی محض سانسوں کی آمد و رفت کا نام نہیں، بلکہ یہ ان گہری اور بعض اوقات اذیت ناک سچائیوں کا نچوڑ ہے جنھیں اگر شعوری طور پر اپنا لیا جائے، تو انسان وجودی بحرانوں، نفسیاتی کشمکش اور روحانی زوال سے محفوظ ہو سکتا ہے۔ حیاتِ انسانی کے تین بنیادی ستون ۱۔فنا کا شعور، ۲۔صبر کی لازمی ضرورت، اور ۳۔حرکت و تسلسل کی ابدی پیاس، اس کی تکمیل کی واحد ضمانت ہیں۔
فنا کا تصور: حیات کی عارضی حقیقت اور تکبر کا قلع قمع
فلسفہِ حیات میں موت اور فنا کا تصور ہمیشہ سے ایک مرکزی حیثیت رکھتا آیا ہے۔ یونانی فلاسفروں سے لے کر مشرقی صوفیا تک، ہر مکتبہ فکر نے موت کو زندگی کی سب سے بڑی حقیقت تسلیم کیا ہے۔ یہ تصور اس لیے اہم نہیں کہ یہ زندگی کو بے معنی ثابت کرتا ہے، بلکہ اس لیے کہ یہ اسے معنی خیز بناتا ہے۔ جب انسان اپنی ہر منصوبہ بندی اور اپنی ہر خواہش میں موت کے اٹل انجام کو شامل کر لیتا ہے، تو اس کے اندر سے تکبر، رعونت اور انا پرستی کی جڑیں خود بخود کٹ جاتی ہیں۔ اسے یہ ادراک حاصل ہوتا ہے کہ اس کی مادی ملکیت، اس کا عہدہ، اس کا اقتدار اور اس کا مٹی کا بدن، سب کچھ فانی ہے اور بالآخر خاک کا حصہ بن جائے گا۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:۔
“كُلُّ نَفْسٍ ذَاۤىِٕقَةُ الْمَوْتِ“ (ہر جان دار کو موت کا مزہ چکھنا ہے)۔
یہ شعور انسان کو عاجزی اور انکساری سکھاتا ہے۔ وہ دوسروں کے حقوق غصب کرنے سے باز رہتا ہے کیوں کہ اسے یاد رہتا ہے کہ قبر کے اندھیرے میں اسے تنہا جواب دہ ہونا ہے۔ موت کی یاد درحقیقت زندگی کی بہترین تیاری ہے؛ یہ انسان کو ہر لمحہ باخبر رکھتی ہے اور اسے اپنے مقاصد کو خلوص اور ایمان داری سے پورا کرنے پر ابھارتی ہے۔ موت کی حقیقت کو تسلیم کر لینا ہی دراصل زندگی کو اس کی تمام تر خوب صورتیوں اور تلخیوں کے ساتھ جینے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔اقبالؒ فرماتے ہیں:۔
برتر از اندیشۂ سُود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی
تُو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں، پیہمدواں، ہر دم جواں ہے زندگی
اضطراب اور صبر: وجودی کشمکش کا واحد حل
صبر کا تصور محض ایک جذباتی حالت نہیں، بلکہ ایک گہرا فلسفہِ استقامت ہے۔ یہ انسانی نفس کو اس کی سب سے بڑی آزمائش، یعنی مایوسی اور ناامیدی سے بچاتا ہے۔ زندگی کا سفر کبھی ہموار نہیں ہوتا؛ اس میں بے شمار نشیب و فراز آتے ہیں، ایسے طوفان اٹھتے ہیں جو انسان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر انسان کو کبھی نہ کبھی ناکامی، ہزیمت، دھوکہ دہی، یا کسی پیارے کی جدائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ لمحات اتنے شدید ہو سکتے ہیں کہ انسان زندگی سے فرار ڈھونڈنے لگے۔ ایسے نازک موڑ پر، صبر ہی وہ واحد ڈھال ہے جو انسان کو مکمل طور پر ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔
“وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ“ (اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے)۔
صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان حالات کے رحم و کرم پر خود کو چھوڑ دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بدترین حالات میں بھی اپنی اندرونی قوت، اپنی روحانی طاقت اور اپنے ارادے کو متزلزل نہ ہونے دے۔ یہ ایک فعال عمل ہے جہاں انسان اپنے جذبات پر قابو پاتا ہے اور مایوسی کو گناہ تصور کرتے ہوئے امید کا دامن تھامے رکھتا ہے۔ صبر انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے اور ہر ابتلا اپنے اندر کوئی نہ کوئی حکمت رکھتی ہے۔ یہ انسان کو اذیت کے دورانیہ میں بھی پرسکون رہنے اور اگلے قدم کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنے کی ہمت دیتا ہے۔
حرکت اور ارتقا: بقا کی ابدی جدوجہد
انسانی زندگی کا تیسرا اور شاید سب سے اہم اصول “مسلسل جدوجہد” اور “حرکت” ہے۔ کائنات کی ہر شے، ستاروں سے لے کر سمندروں تک، سب متحرک ہیں۔ جو چیز بھی رک گئی، وہ بالآخر فنا ہو گئی یا زمانے کے قدموں تلے کچل دی گئی۔ زندگی ساکن پانی کی طرح نہیں ہے جو ٹھہر جائے تو بدبو دار ہو جائے، بلکہ یہ اس بہتے دریا کی مانند ہے جو اپنی رکاوٹوں کو چیر کر اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔
“لَّیْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ“ (اور یہ کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی)۔
یہ اصول نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور روحانی حرکت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے؛ جو شخص اپنے آپ کو “عقلِ کل” سمجھ کر پرانے اصولوں پر جمود کا شکار ہو جاتا ہے، وہ زمانے کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ ایک باوقار انسان وہ ہے جو خود کو مسلسل بہتر بناتا رہے، نیا علم حاصل کرے اور اپنے خیالات میں وسعت پیدا کرے۔ سیکھنے کا یہ عمل کبھی ختم نہیں ہونا چاہیے۔جس طرح اقبالؒ فرماتے ہیں:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
جدوجہد کے راستے میں مشکلات کے کانٹے چبھیں گے اور روح زخمی بھی ہوگی، لیکن منزل کی تڑپ ایسی ہونی چاہیے کہ انسان ہر حال میں آگے بڑھتا رہے۔ اگر پاؤں جواب دے جائیں تو ہمت کے بل چلنا پڑے، لیکن ٹھہرنے کا تصور بھی ذہن میں نہیں آنا چاہیے۔ یہی وہ لازمی جدوجہد ہے جو انسان کو بقا کی ضمانت دیتی ہے۔ یہ حرکت ہی ہے جو انسانی اضطراب کو تعمیری توانائی میں بدلتی ہے اور اسے اس کے مقصدِ حیات کے حصول کی طرف لے جاتی ہے۔
حاصل بحث
فنا کا شعور، صبر کی قوت اور حرکت کا تسلسل۔ یہ تینوں اصول مل کر ایک ایسی انسانی شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں جو زندگی کی تلخ سچائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہتی ہے۔ یہ انسان کو نہ تو کامیابی کے عارضی نشے میں بدمست ہونے دیتے ہیں اور نہ ہی ناکامی کے اندھیروں میں ڈوبنے دیتے ہیں۔ یہ وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک بامقصد اور باوقار زندگی کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے، جہاں اضطراب محض ایک محرک بن کر رہ جائے اور بقا کی جدوجہد ایک خوب صورت ارتقائی سفر میں ڈھل جائے۔