رفاقتِ منزل: ہم خیالی، بقائے حیات اور انتخابِ ہم سفر
انسانی زندگی محض ایک حیاتیاتی عمل نہیں بلکہ یہ ایک عظیم مقصد کی تکمیل کا نام ہے۔ اس کائنات کا ذرہ ذرہ کسی نہ کسی رفاقت کا مرہونِ منت ہے۔ جس طرح ستارے کہکشاؤں کے محتاج ہیں اور دریا سمندروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں، اسی طرح انسان کی سماجی، نفسیاتی اور روحانی زندگی میں رفاقت کا سب سے اہم اور نازک پڑاؤ “ہم سفر” یا شریکِ حیات کا انتخاب ہے۔ یہ انتخاب محض ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ یہ وہ بنیاد ہے جس پر آپ کی دنیاوی کامیابی اور آخروی نجات کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ حضرت واصف علی واصفؒ کا یہ قول کہ
“ہم خیال اگر ہم سفر ہو جائے، تو منزلیں آسان ہو جاتی ہیں”
دراصل ازدواجی زندگی کا وہ بنیادی اصول ہے جس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔
ہم خیالی کا فلسفہ: روحوں کا سنگم اور فکری ہم آہنگی
ہم خیالی سے مراد یہ ہرگز نہیں کہ دو افراد کے پیشے، مشاغل یا روزمرہ کی عادات بالکل ایک جیسی ہوں۔ اس کا اصل مفہوم “فکری ہم آہنگی” اور “مقاصدِ حیات کی یگانگت” ہے۔ جب دو افراد ایک ہی طرز پر زندگی کو دیکھتے ہیں اور ان کے اخلاقی و روحانی معیارات ایک ہوتے ہیں، تو ان کے درمیان ایک ایسا رشتہ استوار ہوتا ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔
اگر ایک شریکِ حیات بلند پرواز ہے، سماجی تبدیلی کا خواب دیکھتا ہے اور علم و حکمت کا پیاسا ہے، جب کہ دوسرا فریق پست خیالی، سطحی باتوں اور محض مادی آسائشوں کا اسیر ہے، تو زندگی کی گاڑی کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ قرآنِ حکیم نے رشتہِ ازدواج کی روح کو ایک نہایت خوبصورت لفظ “تسکین” میں سمو دیا ہے:
“وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً”
[ الروم: 21]
(اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی)۔
یہ سکون تب ہی میسر آتا ہے جب میاں بیوی ایک دوسرے کے افکار کے محرم ہوں۔
نبویﷺ معیارِ انتخاب: جمال، مال یا کمالِ سیرت؟
شریکِ حیات کے انتخاب کے وقت انسانی معاشرہ عموماً چار مادی و ظاہری بنیادوں پر فیصلہ کرتا ہے: مال و دولت، حسن و جمال، حسب و نسب اور دین داری۔ فرمانِ نبوی ﷺ کے مطابق، دنیاوی کامیابی اور حقیقی سکون “دین دار” ساتھی کے انتخاب میں پوشیدہ ہے۔
یہاں یہ نکتہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ دین داری سے مراد محض مذہبی وضع قطع یا مخصوص حلیہ نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ “کردار” ہے جو صادق اور امین ہو۔ ایک ایسا انسان جو اپنی زندگی کے معاملات میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلتا ہو، وہ کبھی اپنے جیون ساتھی کے جائز حقوق کی پامالی نہیں کرے گا۔ ایسا ہم سفر پاؤں کی زنجیر بننے کی بجائے آپ کا دست و بازو بنتا ہے۔
پاؤں کی زنجیر یا پرواز کا ضامن؟
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہت سے باصلاحیت مرد اور خواتین محض اس لیے اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتے کیوں کہ ان کا شریکِ حیات ان کی سوچ کا حامی نہیں ہوتا۔ جب رفاقت میں ہم خیالی نہ ہو، تو قریبی رشتے ہی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ ایک فریق آگے بڑھنا چاہتا ہے لیکن دوسرا اسے مصلحتوں، خوف اور محدود سوچ کے حصار میں قید کر دیتا ہے۔
موجودہ دور میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح (جو خاص طور پر 18 سے 28 سال کے نوجوانوں میں زیادہ ہے) کی ایک بڑی وجہ یہی فکری تفاوت ہے۔ جو رشتے محض ظاہری کشش یا وقتی جذبات کی بنیاد پر جڑتے ہیں، وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں اور نظریاتی اختلافات کا بوجھ نہیں اٹھا پاتے۔اگر انسان کا مقصد عالی ہو، تو اسے ہم سفر بھی ویسا ہی درکار ہے جو اس کی پرواز میں اس کا ہم نوا ہو۔ بصورتِ دیگر، انسان یا تو اپنے خوابوں کی قربانی دے دیتا ہے یا پھر ایک تلخ اور بے کیف ازدواجی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
ہم آہنگی: میاں بیوی بطورِ شریکِ سفر
میاں بیوی کی مثال ایک گاڑی کے دو پہیوں کی سی ہے؛ اگر ایک پہیہ اپنی سمت بدل لے یا وہ دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو، تو گاڑی کا رخ بھٹک جاتا ہے۔ ہم آہنگی کا مطلب یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے جذبات، خوابوں اور مشن کا احترام کریں۔ اگر شوہر کوئی تعمیری کام کر رہا ہے تو بیوی اس کے لیے حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنے، اور اگر بیوی علمی یا سماجی میدان میں متحرک ہے تو شوہر اس کے لیے ڈھال بن جائے۔
جس رشتے میں ایک دوسرے کو ڈی موٹیویٹ کرنے کا عنصر آ جائے، وہاں محبت کی جگہ اکتاہٹ لے لیتی ہے۔ قرآنِ پاک میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا “لباس” قرار دیا گیا ہے، جو ایک دوسرے کی کمزوریوں کو چھپاتے ہیں اور ایک دوسرے کی زینت بنتے ہیں۔ لباس کا کام صرف تحفظ نہیں بلکہ وقار دینا بھی ہے۔
انتخاب میں جلد بازی اور اس کے عواقب
آج کے دور کا ایک بڑا المیہ جلد بازی میں کیے گئے فیصلے ہیں۔ جذبات کی رو میں بہہ کر کیے گئے نکاح اکثر فکری ہم آہنگی سے محروم ہوتے ہیں۔ ایک فلسفیانہ نکتہ یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنا ہم سفر چنتے وقت یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ شخص اسے اللہ کے قریب کر رہا ہے یا اس کے مقصدِ حیات سے دور؟
ایک بہترین ہم سفر کے لیے کی جانے والی شعوری کوشش اور دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ اقبال کے کلام میں بار بار اس “سحر” کا ذکر ملتا ہے جو شبستانِ وجود کو ہلا کر رکھ دے، اور ایسی سحر تبھی نصیب ہوتی ہے جب آپ کا شریکِ حیات آپ کی روح کا ساتھی ہو۔
حرکت، عمل اور رفاقت کا حسن
زندگی ایک مسلسل سفر ہے اور اس سفر کا حسن “عمل” میں ہے۔ اگر میاں بیوی مل کر ایک دوسرے کی شخصیت سازی کریں، تو وہ نہ صرف ایک کامیاب خاندان تشکیل دیتے ہیں بلکہ ایک مثالی معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔اس کاروانِ ہستی میں وہی جوڑا کامیاب ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو فکری طور پر اپ ڈیٹ کرتا رہے اور ایک دوسرے کے ساتھ علمی و روحانی ارتقاء کا سفر طے کرے۔
حاصلِ بحث
شریکِ حیات کا انتخاب زندگی کا سب سے اہم ترین فیصلہ ہے۔ یہ محض دو جسموں کا ملاپ نہیں، بلکہ دو افکار، دو خاندانوں اور دو نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ حسن اور مال ڈھل جانے والی چیزیں ہیں، جب کہ ہم خیالی اور سیرت وہ لازوال دولت ہے جو قبر کے دروازے تک ساتھ دیتی ہے۔ قرآن کی ہدایت اور اقبال کے فلسفہِ خودی کو مشعلِ راہ بنا کر ہی ہم ایک ایسا رشتہ استوار کر سکتے ہیں جو دنیا میں سکون اور آخرت میں فخر کا باعث ہو۔یاد رکھیں، جو ہم سفر آپ کو آپ کے مقصد سے دور کر دے، وہ آپ کی ترقی کا قاتل ہے، اور جو آپ کو آپ کے مقصد کی طرف دھکیلے، وہی آپ کی زندگی کا اصل سرمایہ ہے۔