آخرت کی کرنسی

 آخرت کی کرنسی کون سی ہے؟

دنیا کا نظام چلانے کے لیے انسان نے تجارت اور لین دین کے مختلف طریقے وضع کیے ہیں۔ ہم دنیا کے کسی بھی ملک میں چلے جائیں، وہاں کی اپنی ایک مخصوص کرنسی یا سکہ رائج ہوتا ہے، جس کے بغیر زندگی کی بنیادی سہولیات کا حصول ناممکن ہے۔ اگر ہم پاکستان میں ہوں تو روپیہ، بھارت میں بھارتی روپیہ، بنگلہ دیش میں ٹکا، امریکہ میں امریکن ڈالر اور یورپ یا عرب ممالک میں یورو اور ریال جیسی متبادل کرنسی استعمال ہوتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جب ہم ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرتے ہیں، تو ہمیں اپنے پاس موجود رقم کو اس ملک کی مقامی کرنسی میں تبدیل کروانا پڑتا ہے، ورنہ وہ دولت وہاں کسی کام نہیں آتی۔

“جس طرح دنیا کے ہر ملک میں وہاں کا مخصوص سکہ چلتا ہے، بالکل اسی طرح اس فانی دنیا سے رخصتی کے بعد جس ابدی دنیا کا آغاز ہوتا ہے، وہاں کا بھی ایک الگ نظامِ مبادلہ ہے۔”

بحیثیت مسلمان اور صاحبِ ایمان، ہمارا یہ پختہ یقین ہے کہ اس مادی دنیا کے بعد ایک اور ابدی جہان موجود ہے، جسے ہم آخرت کہتے ہیں۔ جس طرح دنیا کے بینکوں میں جمع شدہ رقم دوسرے ملکوں میں جا کر تبدیل کروانی پڑتی ہے، اسی طرح دنیا کی یہ مادی دولت، جائیداد اور بینک بیلنس موت کی دہلیز پار کرتے ہی اپنی قدر کھو دیتے ہیں۔ وہاں یہ مادی سرمایہ کسی کام نہیں آئے گا۔ آخرت کی واحد اور مروجہ کرنسی صرف اور صرف “نیکی” ہے۔وہاں آپ کی کامیابی کا معیار یہ نہیں ہوگا کہ آپ نے دنیا میں کتنا پیسہ کمایا، بلکہ یہ ہوگا کہ آپ نے اپنے نامۂ اعمال میں کتنی نیکیاں جمع کیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں  جنھیں ہم دنیا میں عام طور پر نظرانداز کر دیتے ہیں، آخرت کے بازار میں سب سے مہنگی اور قیمتی کرنسی ثابت ہوں گی۔

نیکی کا تصور محض چند ظاہری عبادات تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ اگر ہم آخرت کی اس کرنسی کو بھاری مقدار میں جمع کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں درج ذیل امور پر خصوصی توجہ دینی ہوگی:۔

انسانیت کو جگانا: مخلوقِ خدا کے لیے اپنے دل میں درد پیدا کرنا اور ان کی فلاح کے لیے کوشاں رہنا سب سے بڑی نیکی ہے۔

حسنِ سلوک اور اخلاقِ حسنہ: لوگوں کے ساتھ نرمی، محبت اور اچھے اخلاق سے پیش آنا۔ کسی کا دل نہ دکھانا اور زبان کے شر سے دوسروں کو محفوظ رکھنا۔

بدزبانی سے پرہیز: کسی کو گالی نہ دینا اور معاشرے میں امن و سکون کو فروغ دینا۔

بھوکوں کو کھانا کھلانا: معاشرے کے غریب، بے سہارا اور مستحق افراد کی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھنا۔

اس لیے یاد رکھیں دنیا کی زندگی عارضی ہے اور یہاں کا سرمایہ بھی عارضی ہے۔ عقل مند تاجر وہی ہے جو اس عارضی دنیا میں رہتے ہوئے اپنی مادی دولت اور وقت کو آخرت کی پائیدار کرنسی یعنی نیکیوں میں تبدیل کر لے۔ آئیں آج ہی سے عہد کریں کہ ہم اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں گے، انسانوں کے کام آئیں گے اور آخرت کے اس ابدی سفر کے لیے نیکیوں کا وافر ذخیرہ تیار کریں گے، کیوں کہ آخرت کی حقیقی کامیابی کا دارومدار اسی سچی کرنسی پر ہے۔

Leave a Comment