مردہ ستارے اور خدا

مردہ ستارے اور خدا

ایک لمحے کے لیے سوچیے!  کیا یہ ممکن ہے کہ ہم اپنے ان بزرگوں اور آباؤ اجداد کو دوبارہ چلتے پھرتے دیکھ سکیں, جو سینکڑوں سال قبل اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں؟ بظاہر یہ کسی دیوانے کا خواب معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر ہم فزکس کے قوانین اور کائنات کی وسعتوں کا گہرائی سے مطالعہ کریں، تو یہ کائنات خود ایک عظیم الشان ٹائم مشین کے طور پر سامنے آتی ہے، جہاں ماضی کبھی ختم نہیں ہوتا۔ درحقیقت، کائنات میں فاصلہ ہی وقت کا دوسرا نام ہے ۔

روزمرہ زندگی میں ہم سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ بالکل اسی لمحے رونما ہو رہا ہے۔ لیکن کائناتی پیمانے پر ایسا نہیں ہوتا، کیوں کہ روشنی کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ لہٰذا، جب ہم کائنات کی گہرائیوں میں جھانکتے ہیں، تو دراصل ہم وقت میں پیچھے کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہم جو دھوپ ابھی محسوس کر رہے ہیں، وہ سورج کی سطح سے ۸ منٹ اور ۲۰ سیکنڈ پہلے نکلی تھی۔ اسی طرح، الفا سینٹوری  نامی ایک ستارے کا جو روپ ہم آج دیکھ رہے ہیں وہ دراصل ۴.۳ سال پرانا ہے۔ سیرئیس ستارے  کی جو روشنی آج ہم تک پہنچ رہی ہے وہ ساڑھے آٹھ سال پرانی ہے، جب کہ ویگا  ستارے کو ہم اس حالت میں دیکھ رہے ہیں جو اس کی ۲۵ سال قبل تھی۔ اگر بات دوسری کہکشاؤں کی کی جائے تو ان سے آنے والی روشنی کو ہم تک پہنچنے میں لاکھوں اور کروڑوں سال لگ جاتے ہیں۔

اس طویل کائناتی سفر کا مطلب یہ ہے کہ رات کے اندھیرے میں ہم جن دور دراز ستاروں کی چمک سے مسحور ہوتے ہیں، ان میں سے بے شمار ستارے اب شاید کائنات میں وجود ہی نہیں رکھتے۔ وہ کروڑوں سال قبل ہی ‘مردہ’ ہو چکے ہیں، لیکن ان کی آخری سانسوں سے نکلنے والی روشنی آج بھی کائنات کے سینے میں سفر کر رہی ہے اور اب جا کر ہماری آنکھوں تک پہنچی ہے۔

اگر کائنات کے اس اصول کو الٹ کر دیکھا جائے، تو ایک حیرت انگیز سچائی سامنے آتی ہے کہ اس کائنات میں ماضی کبھی مٹتا نہیں ہے۔ فرض کریں کہ اگر ہم زمین سے لاکھوں نوری سال  کی دوری پر کسی اور سیارے پر موجود ہوں، اور ہمارے پاس ایسا طاقتور دوربین نظام ہو جو زمین کو زوم کر کے دکھا سکے، تو آج وہاں بیٹھ کر ہم زمین کا لاکھوں سال پرانا ماضی یعنی اپنے آباؤ اجداد کو چلتا پھرتا دیکھ سکتے ہیں۔ روشنی کے اس سفر نے کائنات کے اندر ہماری تاریخ کے ہر ایک لمحے کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر رکھا ہے۔

سائنس کا یہ انکشاف کہ ہماری مادی دنیا کا ہر عمل روشنی کی لہروں کی شکل میں کائنات میں ہمیشہ کے لیے قید ہو جاتا ہے، ہمیں ایک بہت بڑی روحانی حقیقت کی طرف لے جاتا ہے۔ قرآنِ پاک میں بیان کردہ آخرت کا تصور اور نامۂ اعمال کا پیش کیا جانا محض کوئی افسانہ نہیں، بل کہ کائنات کے اسی طبیعیاتی قانون   کے عین مطابق ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے اعمال کس طرح کائناتی ریکارڈنگ کا حصہ بن رہے ہیں، جنھیں وقت آنے پر سچی تصویروں اور ویڈیوز کی صورت میں ہمارے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ، جو اس زمان و مکاں  کی مادی قید سے یکسر ماورا ہے، کائنات کے اس پورے کینوس پر مکمل قدرت رکھتا ہے اور ہر لمحے ہمیں دیکھ رہا ہے۔

اس گفت گو کا مقصد محض کسی سائنسی نظریے پر بحث کرنا نہیں، بل کہ یہ سمجھنا ہے کہ جب انسان کائنات کے ان گہرے اسرار و رموز پر غور کرتا ہے، تو فزکس کی ہر نئی دریافت اسے حیرت کے اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں سے خالص فلسفہ اور خالق کی معرفت کا آغاز ہوتا ہے۔ جیسے جیسے سائنس کی مدد سے ہم کائنات کے چھپے رازوں سے پردہ اٹھاتے ہیں، ہم پر علم کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ کائنات میں ان سچی اور نئی راہوں کی تلاش ہی دراصل خدا کی تلاش ہے۔

Leave a Comment