فلسفہِ دعا: کیا دعا تقدیر بدل سکتی ہے؟
ایک بنیادی سوال جو اکثر ہر انسان کے ذہن میں ابھرتا ہے، وہ یہ ہے کہ اگر سب کچھ پہلے سے طے شدہ اور لکھا جا چکا ہے، تو پھر ہم دعا کیوں کرتے ہیں؟ ہم اپنے رب کے سامنے ہاتھ پھیلا کر گڑگڑاتے کیوں ہیں؟ اپنی تقدیر بدلنے کی اِلتجا کیوں کرتے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو انسانی فکر کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ لیکن اگر اسلام اور حکمت کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو دعا صرف مانگنے یا التجا کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ کائنات کے ایک عظیم اور پوشیدہ نظام کو متحرک کرنے کا ذریعہ ہے۔کیسے؟
حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تقدیر کو بدلنے والی صرف ایک ہی چیز ہے اور وہ دعا ہے۔ عام طور پر لوگ دعا کو محض ہاتھ پھیلانا اور اپنی خواہشات کا اظہار کرنا سمجھتے ہیں، لیکن یہ حقیقت کا صرف ایک رخ ہے۔ جب کوئی انسان دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے، نیت کرتا ہے اور پختہ ارادہ رکھتا، تو درحقیقت وہ کائنات میں ایک مکمل میکانزم کو فعال کر رہا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں بے شمار نعمتیں، راستے اور اسباب ایسے رکھے ہیں، جو اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ کب بندے کا ارادہ بدلے گا، کب اس کی کوشش شروع ہوگی اور کب وہ اپنے رب کی طرف قدم بڑھائے گا۔
جب انسان کا یقین پختہ اور سوچ مضبوط ہوتی ہے، تو کائنات کی وہ پوشیدہ چیزیں اس کی طرف مائل ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور راہ میں آنے والی تمام رکاوٹیں اور بند دروازے کھلنے لگتے ہیں۔ جس علامہ اقبالؒ نے اپنے فلسفہِ خودی میں اسی حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔ انسان کوئی ایسی بے بس مخلوق نہیں ہے جسے ہاتھ پاؤں باندھ کر اس دنیا میں پھینک دیا گیا ہو اور وہ اپنی قسمت کو اٹل مان کر بیٹھ جائے۔
افسوس صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو
دیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات!
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!
اسلامی فلسفے کے مطابق تقدیر دو طرح کی ہے ، تقدیر کا ایک پہلو وہ ہے جو اٹل ہے، جیسے انسان کا مقامِ پیدائش، والدین، رزق اور شکل و صورت، لیکن اس کا دوسرا پہلو انسان کے اپنے عمل، فکر اور دعا سے جڑا ہوا ہے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ جدید کوانٹم فزکس اور مائنڈ سائنس بھی اسی فلسفے کی تصدیق کرتی ہے۔ سائنس کے مطابق جب انسان کے دماغ کے ذرات ایک خاص فکر اور وائبریشن پر کام کرتے ہیں، تو کائنات میں موجود اسی طرح کی فریکوئنسی کی چیزیں اس کی طرف راغب ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر، جب آپ کسی خاص گاڑی کے بارے میں مسلسل سوچنا شروع کرتے ہیں، تو آپ کو ہر سڑک پر وہی گاڑی نظر آنے لگتی ہے۔ وہ گاڑی پہلے بھی وہیں موجود تھی، لیکن آپ کی توجہ اور ذہن کی فریکوئنسی نے اسے آپ کی نظروں کے سامنے واضح کر دیا۔
پس حاصلِ کلام یہ ہے کہ دعا صرف الفاظ کا مجموعہ، ہاتھ کا اٹھانا یا محض التجا نہیں ہے، بل کہ یہ غیب کی ایک ایسی سائنس ہے جو براہِ راست آپ کے ارادے اور کائنات کے قوانین کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ کائنات میں مواقع ہر وقت موجود رہتے ہیں، لیکن وہ انسان کے عمل، ارادے اور دعا سے ہی بیدار ہوتے ہیں۔ لہٰذا، جب بھی انسان رب کے حضور ہاتھ اٹھائے تو اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ صرف مانگ نہیں رہا، بل کہ اپنے پختہ یقین اور دعا کے ذریعے اپنی تقدیر کو ایک نیا رخ دینے جا رہا ہے۔