نفس کیا ہے اور اسے کیسے قابو کیا جائے؟
ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اکثر یہ جملہ سنتے ہیں کہ’’ میں نفس کے بہکاوے میں آ گیا‘‘ یا ’’ ہمیں اپنے نفس کو کنٹرول میں رکھنا چاہیے‘‘ ۔ اسلام میں جہاد بن النفس یعنی اپنے نفس کے خلاف جدوجہد کو سب سے افضل اور بڑا جہاد قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جس انسان نے اپنے نفس کو فتح کر لیا، اس نے گویا پوری دنیا کو فتح کر لیا۔ لیکن یہاں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ آخر نفس حقیقت میں ہے کیا؟ اس کی جڑیں کہاں ہیں؟ اور وہ کون سا علمی و عملی طریقہ ہے جس کے ذریعے اس سرکش نفس کی تربیت کر کے اسے سرنگوں کیا جا سکتا ہے؟ آئیے ذیل میں ہم ان سوالات کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نفس دراصل انسان کے اعصابی نظام اور جبلّی عادتوں کا ایک مکمل پیکیج ہے۔ اس کی بنیاد ظاہری اسباب اور مادی کائنات پر ہوتی ہے۔ نفس کی بنیادی تعلیمات میں یہ بات شامل ہے کہ انسان خود کو ہمیشہ اچھا، سچا اور برتر سمجھے اور دوسرے تمام لوگوں کو برا یا کم تر تصور کرے۔
نفس کو قائم رکھنے اور پروان چڑھانے میں جو محرکات اور خوراک کا کام دیتے ہیں، ان میں
حسد، بغض اور کینہ
نفرت اور خود پسندی
دھوکہ دہی اور ظاہری عزتِ نفس کا ڈھونگ
نفس کے مختلف مراحل ہوتے ہیں۔ اس کا بچپن ہوتا ہے، پھر یہ وقت کے ساتھ ساتھ جوان ہوتا ہے اور جب یہ بوڑھا اور انتہائی تجربہ کار ہو جاتا ہے تو اس کے جنجال سے جان چھڑانا انتہائی مشکل بل کہ نا ممکن ہو جاتا ہے۔ نفس کا سب سے مہلک اور چالاک ہتھیار ’’ ہمدردی حاصل کرنا‘‘ اور ’’ عزتِ نفس کا ڈھونگ رچانا‘‘ ہے۔ جب بھی کوئی انسان ہمیں ہمارا اصلی چہرہ یا آئینہ دکھاتا ہے، تو ہمارا نفس فوراً ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ ہماری بے عزتی کی گئی ہے، تاکہ ہم اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے دوسرے پر برہم ہو جائیں۔
آج کے انسان کا نفس اس لیے بہت زیادہ طاقت ور اور کامیاب نظر آتا ہے کیوں کہ اسے انسان کی ظاہری عقل کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انسان یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ جو کچھ اس کی عقل دیکھ رہی ہے یا جو اس کی اپنی تحقیق اور فکر ہے، بس وہی آخری سچائی ہے۔ جب کوئی ہماری رائے پر تنقید کرتا ہے تو ہم فوراً غصے میں آ جاتے ہیں، حالاں کہ اس وقت ہم نہیں بل کہ ہمارا وہ نفس بول رہا ہوتا ہے ، جسے ہم نے سالہا سال سے پال پوس کر جوان کیا ہوتا ہے۔ جس طرح امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص اس غلط فہمی یا فلسفے کا قائل ہو جائے کہ ’’ہم تو بنائے ہی ایسے گئے ہیں‘‘ اور وہ اپنی اصلاح سے ہاتھ اٹھا لے، وہ شخص کبھی عرفان اور معرفت کی دہلیز کو نہیں چھو سکتا۔
لیکن یاد رکھیں نفس کی ایک کمزوری بھی ہے ، اور وہ کمزوری تجسس ہے۔ نفس ایک درندے کی مانند ہے، لیکن جس طرح انسان شیر، چیتے یا دیگر وحشی جانوروں کو تربیت دے کر پالتو بنا لیتا ہے، بالکل اسی طرح نفس کی بھی تربیت کی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے نفس کی سب سے بڑی کمزوری کو استعمال کیا جاتا ہے، اور وہ کمزوری ہے’’ تجسس اور بے چینی‘‘۔نفس صرف خواہشات کا ہی نہیں بلکہ ہر وقت کچھ نیا چکھنے، سونگھنے، اور نیا طریقہ ڈھونڈنے کی تڑپ میں رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان کسی گناہ کا عادی ہو جاتا ہے تو نفس اسے گناہ کے نئے سے نئے طریقے ڈھونڈنے کی طرف راغب کرتا ہے۔
اگر ہم نفس کی اسی جبلت اور تجسس کو برائی اور گناہ کی بجائے علم، تحقیق، اور خدا کی تلاش کی طرف موڑ دیں، تو یہی وحشی نفس ایک پالتو اور مطیع خادم بن جاتا ہے۔ چوں کہ نفس کو ممتاز اور منفرد رہنا پسند ہے، اس لیے جب اسے کسی اعلا مقصد یا سچی تحقیق پر لگایا جاتا ہے تو وہ اس میں جُت جاتا ہے اور یوں انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بن جاتا ہے۔
نفس شطرنج کے اس ماہر کھلاڑی کی مانند ہے جس کے پاس ہر چال کا توڑ اور ہزاروں داؤ پیچ ہوتے ہیں۔ انسان چاہے کتنا ہی کامل کیوں نہ ہو جائے، نفس کسی نہ کسی موڑ پر اسے دھوکہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔نفس پر فتح حاصل کرنے کے بنیادی اصول مندرجہ ذیل ہیں۔
تجسس کا رخ موڑنا: نفس کے تجسس کو فضولیات اور گناہ کی بجائے حق اور رب کی تلاش میں مصروف کر دیں۔
شطرنج کی چالوں سے ہوشیار رہنا: یہ سمجھنا کہ خدا کی قربت ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو نفس کو دبا سکتی ہے، کیوں کہ نفس کی قربت دراصل خدا سے دوری ہے۔
تعریف اور تضحیک سے آزادی: جب انسان اپنے نفس کو قابو کر لیتا ہے تو وہ دنیاوی عزت، ذلت، تعریف، یا برائی سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ صوفیائے کرام کو اگر کوئی برا بھلا بھی کہے تو وہ مسکرا کر خاموشی سے آگے بڑھ جاتے ہیں کیوں کہ انھوں نے اپنے اندر کی ’’ میں‘‘کو مار دیا ہوتا ہے۔اس کی بہترین اور کامل ترین مثال سرورِ کونین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اسوۂ حسنہ ہے، جن پر طائف کے میدان میں پتھر بھی برسائے گئے، مگر انھوں نے بدلہ لینے کی بجائے مسکرا کر ان کی ہدایت کی دعا فرمائی۔
پس یاد رکھیں نفس انسان کا سب سے بڑا داخلی دشمن ہے جو اسے کبھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتا۔ اگر اسے کھلی چھوٹ دے دی جائے تو یہ انسان کو تباہی کے گھاٹ اتار دیتا ہے، لیکن اگر اس کے تجسس اور صلاحیتوں کو خدا کی پہچان اور اعلا علمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہی نفس انسان کو روحانیت کی بلند ترین منازل تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔