سب سے بڑی بغاوت

سب سے بڑی بغاوت : اپنے آپ سے جنگ یا کچھ اور ؟

پاکستان کے موجودہ معاشی و معاشرتی حالات، باہمی تفرقات، مہنگائی اور عدم برداشت کے ماحول کو دیکھ کر اکثر یہ احساس غالب آنے لگتا ہے کہ شاید اس معاشرے میں امید کی کوئی کرن باقی نہیں رہی۔ معاشرتی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے عوام میں ایک عجیب سی مایوسی پھیل چکی ہے۔ لوگ یا تو ان حالات سے تنگ آ کر دیارِ غیر کا رخ کر رہے ہیں يا پھر تمام تر ذمہ داری ریاست، سیاسی قیادت اور انتظامی نظام پر ڈال کر خود ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ لیکن اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ تاریخ میں اس سے کہیں زیادہ کٹھن ادوار آئے ہیں۔ امتِ مسلمہ اور دیگر زندہ قوموں نے قحط، جنگیں، معاشی بحران اور بدترین ناانصافیاں برداشت کیں، لیکن وہی قومیں اور افراد باقی رہے جنھوں نے ہمت نہیں ہاری، جو مستقل مزاج رہے اور جنھوں نے مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بنایا۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ حالات خراب ہیں یا وسائل کی کمی ہے، بل کہ اصل مسئلہ ہماری وہ سوچ ہے جو ہمیں ناکارگی اور جمود کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ہم اکثر یہ چاہتے ہیں کہ مشکلات خود بخود ختم ہو جائیں، کوئی غیبی طاقت آ کر ہمارے حالات بدل دے یا کوئی دوسرا ہمارے حصے کی محنت کرے۔ ہم نظام کو برا بھلا کہنے میں تو پیش پیش رہتے ہیں، مگر جب اپنی ذات کو بدلنے، محنت کرنے اور سستی چھوڑنے کی باری آتی ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ یہ ایک کڑوی سچائی ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک يا معاشرہ تب تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس کے باشندے خود کو بدلنے کے لیے تیار نہ ہوں۔

حقیقی تبدیلی یا بغاوت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان ریاست کے خلاف کھڑا ہو جائے، سڑکوں پر ہنگامہ آرائی کرے یا منفی رویاں اپنائے۔ حقیقی اور پائیدار بغاوت یہ ہے کہ انسان اپنی ذات، اپنی سستی اور اپنے  ’’ سیف زون‘‘   کے خلاف جنگ کا اعلان کرے۔ وہ سیف زون جس میں رہ کر انسان کام کرنے سے کتراتا ہے، نئی مہارتیں سیکھنے سے ڈرتا ہے اور بس سہولت پسندی کا عادی ہو جاتا ہے۔ جب تک ہم اس نکارہ سوچ کے خلاف بغاوت نہیں کریں گے، ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔

اگر ہم اس ملک اور اپنے معاشرے کو واقعی بدلا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کا آغاز اپنی ذات سے کرنا ہوگا۔ ہمیں معاشی طور پر خودکفیل ہونا پڑے گا، نئے کاروبار اور مواقع پیدا کرنے ہوں گے اور صرف اپنے لیے ہی نہیں بل کہ اپنے ساتھ دیگر لوگوں کو بھی آگے بڑھنے میں مدد دینی ہوگی۔ جب فرد معاشی اور علمی طور پر مضبوط ہوتا ہے ،تو اس کا اثر پورے خاندان اور بالآخر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔

نظام، حکمرانوں اور حالات پر تنقید کرنا بہت آسان کام ہے، لیکن اپنی نااہلی کا اعتراف کرنا اور اس کو دور کرنے کے لیے دن رات ایک کرنا اصل بہادری ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کامیابی کبھی کسی کو پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی۔ اس کے لیے  خون  پسینہ بہانا پڑتا ہے، قربانیاں دینی پڑتی ہیں اور اپنے نفس کی سستی کو مارنا پڑتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا آنے والاکل آج سے بہتر ہو اور یہ ملک خوش حالی کی راہ پر گامزن ہو، تو ہمیں ہر قسم کے گلے شکوے چھوڑ کر اپنی ذات کے خلاف بغاوت کرنا ہوگی۔ جب ہر شخص اپنی ذمہ داری کا احساس کرے گا، تبھی ایک بیدار، خوددار اور مضبوط معاشرہ جنم لے گا۔

Leave a Comment