قرآنِ مجید کا حقیقی موضوع : انسان اور اس کی ہدایت
کیا کبھی ہم نے یہ سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ قرآنِ مجید کا بنیادی اور اصلی موضوع کیا ہے؟ یعنی وہ کون سا مرکزی محور اور مقصد ہے جس کے گرد اس مقدس کتاب کی تمام تر تعلیمات اور حکمتیں گھومتی ہیں؟ جب ہم تعصب اور روایتی تلاوت سے بالاتر ہو کر فہم و تدبر اور عقلِ سلیم کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں، تو خود قرآن ہی ہمیں اس سوال کا بالکل واضح اور دل نشین جواب فراہم کر دیتا ہے۔
سورۃ الانبیاء میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: “لوگو! ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟” یہ آیتِ مبارکہ قرآن کے مرکزی موضوع کو روزِ روشن کی طرح عیاں کر دیتی ہے۔ قرآنِ مجید کا اصل اور حقیقی موضوع انسان ہے۔ یہ چلتا پھرتا، سوچتا سمجھتا اور جذبات رکھتا ہوا، انسان ہی ہے جس کے لیے ربِ ذوالجلال نے اپنی کائنات کی سب سے عظیم کتاب نازل فرمائی۔ یہ خالق کی طرف سے مخلوق کے نام ایک ایسا دستورِ حیات ہے جس میں انسان کے ماضی، حال، اور مستقبل کے ساتھ ساتھ اس کے باطنی اور ظاہری احوال کا احاطہ کیا گیا ہے۔
اگر قرآن پر گہرائی سے نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں انسان کی زندگی کے ہر پہلو کی تفصیلی اور واضح رہنمائی موجود ہے۔ انسان کی تخلیق کی ابتدا، اس کی پیدائش کے مراحل، دنیا میں اس کے مقصدِ وجود اور اس کی بالآخر موت اور آخروی انجام کا ذکر انتہائی جامعیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں بل کہ روزمرہ کے تمام معاشی، معاشرتی اور اخلاقی امور، جیسے رشتہ داروں کے حقوق، شادی بیاہ، طلاق، عدت کی مدت، حقوق العباد، عدل و انصاف کی بحالی، اور مظلوم کی داد رسی وغیرہ کو قوانین اور ضوابط کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انسانی نفس کے چھپے ہوئے امراض اور باطنی پاکیزگی کے طریقے بھی کھول کھول کر بیان کیے گئے ہیں تاکہ انسان اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو سنوار سکے۔
انسان کی سب سے بڑی خوش قسمتی اور عزت یہ ہے کہ کائنات کے مالک نے اپنے کلام میں اس کا ذکر فرمایا اور اسے اشرف المخلوقات قرار دیا۔ قرآن میں اگرچہ یہ واضح کیا گیا ہے کہ جنوں اور انسانوں کو صرف اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، لیکن یہاں عبادت کا مفہوم محض چند مخصوص عبادات تک محدود نہیں، بل کہ اللہ کے احکام کے مطابق پوری زندگی گزارنا عبادت کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو تفرقے، فساد اور دھوکے سے بچانا چاہتا ہے، اسی لیے قرآن میں بار بار اتحاد، عدل اور باہمی اخوت کی تاکید کی گئی ہے۔
قرآن کا موضوع انسان ہونا اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے سے بے پناہ محبت ہے۔ عذاب اور جہنم کا ذکر بھی دراصل انسان کو تنبیہ کرنے اور برائی کے انجام سے ڈرانے کے لیے ہے، تاکہ انسان سچے دل سے توبہ کرے اور تباہی سے بچ جائے۔ اللہ انسان کی فطرت سے بخوبی واقف ہے، اسی لیے جہاں گناہوں سے بچنے کی تاکید فرمائی، وہاں نیکی اور عدل کے بدلے میں دائمی جنت، نہروں اور پرفضا باغات کی بشارت بھی عطا فرمائی تاکہ بندہ نیکی کی طرف رغبت کرے۔
مختصر یہ کہ قرآن مجید ایک خشک تاریخی یا محض نظریاتی کتاب نہیں، بل کہ انسان کے وجود، اس کے مسائل اور اس کی فلاح کا کلامی نامہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی خوش قسمتی کا احساس کرتے ہوئے قرآن کو سمجھ کر اور اپنی زبان میں پڑھے تاکہ یہ اس کے لیے محض تلاوت نہیں بل کہ حقیقی ہدایت کا ذریعہ بن سکے۔