قرآن فہمی کا راز : تقدیر، علمِ الٰہی اور انسانی اختیار
قرآنِ مجید کا مطالعہ کرتے ہوئے اکثر ایک عام ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب تمام اختیارات، ہدایت، گمراہی، خیر اور شر کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، تو پھر انسان کو جزا و سزا کا مستحق کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟ عام طور پر جب کوئی شخص نیا نیا ترجمہ پڑھتا ہے یا سیاق و سباق کے بغیر چند آیات دیکھتا ہے، تو اسے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہر چیز کی تقدیر پہلے سے طے شدہ ہے اور اللہ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے، تو پھر انسان کا اپنا اختیار کہاں گیا؟ اس قسم کی الجھنوں کو دور کرنے اور کلامِ الٰہی کی حقیقی روح کو سمجھنے کے لیے چند بنیادی اصولوں اور فہم و عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔
قرآنِ مجید کو سمجھنے کا پہلا بنیادی اصول یہ ہے کہ اسے جزوی طور پر پڑھنے کی بجائے مکمل طور پر اس کے پس منظر اور سیاق و سباق کے ساتھ پڑھا جائے۔ قرآنی آیات کی دو بنیادی نوعیتیں ہیں: ایک وہ آیات ہیں جہاں اللہ تعالیٰ اپنی مطلقا قدرت، عظمت اور کامل حاکمیت کا بیان فرماتا ہے، یعنی یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ کائنات میں کوئی طاقت اللہ کے ارادے کے بغیر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔
مثلاً جب قرآن میں آتا ہے کہ ’’ اللہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے‘‘، تو اس کا مطلب اللہ کی نہ ختم ہونی والی قدرت کا اظہار ہے، نہ کہ معاذ اللہ اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ بلا سبب یا ناانصافی کے تحت ایسا کرتا ہے۔ دوسری طرف وہ آیات ہیں جو انسان کے اپنے اعمال، ارادے اور جزا و سزا کے عدل پر مبنی اصولوں کو واضح کرتی ہیں، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے کہ ’’ اللہ تمھیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بنو اور ایمان لاؤ‘‘۔
تقدیر اور علمِ الٰہی کے حوالے سے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم انسان کو کسی برائی پر مجبور نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے علمِ غیب سے معلوم ہے کہ انسان اپنے آزادانہ اختیار سے کس وقت کیا فیصلہ کرے گا، اور اسی کی بنیاد پر تقدیر لکھی گئی ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انسان معذور ہے۔ بل کہ انسان کو نیکی اور بدی دونوں کے راستے دکھا دیے گئے ہیں اور انتخاب کا اختیار اسے سونپ دیا گیا ہے۔ اسی طرح کافروں اور سرکشوں کے دلوں پر مہر لگانے کا معاملے میں بھی اصول یہی ہے کہ جب کوئی شخص مسلسل حق کا انکار کرتا ہے اور گناہ میں حد سے بڑھ جاتا ہے، تو نتیجہ کے طور پر اس کا دل ہدایت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر ایک ماں سے بھی ستر گنا زیادہ شفقت فرماتا ہے، لہٰذا وہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ خیر اور نیکی اللہ کی طرف سے انعام ہے، جب کہ برائی اور مصیبت انسان کے اپنے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید کا اپنا فرمان ہے کہ جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے اس کا وبال بھی اسی کی ذات پر ہے۔ چناں چہ قرآنِ پاک کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان عقل و فہم سے کام لے، آیات کا باہم ربط سمجھے اور اسے ایسی زبان میں پڑھے جسے وہ خود سمجھ سکتا ہو تاکہ وہ کسی مغالطے کا شکار ہوئے بغیر ہدایت حاصل کر سکے۔