مسائل سے فرار نہیں، پائیدار حل : زندگی کی دشواریوں سے نبرد آزما ہونے کی حکمتِ عملی
انسانی زندگی کشمکش، جدوجہد اور غیر متوقع سے عبارت ہے۔ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق حالات کی بھٹی سے گزر رہا ہوتا ہے؛ کوئی معاشی تنگی سے نبرد آزما ہے تو کوئی روزگار اور پیشہ ورانہ ترقی کی فکر میں پریشان ہے۔ ایسے حالات میں اکثر انسان اس وہم کا شکار ہو جاتے ہیں کہ شاید کوئی ایسا وقت بھی آئے گا جب تمام پریشانیاں یکسر ختم ہو جائیں گی اور وہ مکمل سکون و بے فکری کی زندگی بسر کریں گے۔ تاہم، حقیقت اس مفروضے کے بالکل برعکس ہے۔اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہ کہانی ملاحظہ کیجیے۔
ایک پریشان حال نوجوان، جو بے روزگاری، مستقبل کی ترجیحات اور خاندانی بوجھ کے تلے دبا ہوا تھا، ایک بزرگ کے پاس گیا اور اپنے مسائل کا ڈھیر لگا دیا۔ بزرگ نے اسے رات کے وقت اونٹوں کے ریوڑ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی اور شرط رکھی کہ جب تمام اونٹ بیٹھ جائیں اور سو جائیں، تو وہ بھی سو سکتا ہے۔
نوجوان نے اس کام کو انتہائی آسان سمجھا، لیکن رات ہوتے ہی حقیقت سامنے آئی۔ وہ دیکھتا کہ جب چند اونٹ بیٹھتے تو دیگر کھڑے ہو جاتے؛ جب وہ کھڑے اونٹوں کو بٹھانے کی کوشش کرتا تو پہلے سے بیٹھے ہوئے اونٹ پھر سے اٹھ کھڑے ہوتے۔ تین دن جاگنے کے بعد جب وہ عاجز آ کر بزرگ کے پاس پہنچا تو بزرگ نے مسکرا کر فرمایا:۔
زندگی کے مسائل بھی انھی اونٹوں کی طرح ہیں۔ کبھی سارے مسائل ایک ساتھ نہیں بیٹھتے۔ ایک حل ہو گا تو دوسرا سر اٹھا لے گا۔ لہٰذا، مسائل کے خاتمے کا انتظار کرنے کے بجائے ان کے ساتھ جینا اور اگے بڑھنا سیکھنا ہی اصل دانش مندی ہے۔
یاد رکھیں انسان کے مسائل کی نوعیت اور ان کا حجم اس کی سوچ اور مقاصد سے براہِ راست جڑا ہوتا ہے۔ اگر انسان کی سوچ محدود ہے اور وہ محض روزمرہ کی گزر بسر پر قناعت کر لیتا ہے، تو اس کے درپیش مسائل بھی محدود اور بنیادی ہوں گے۔ لیکن جب انسان بڑے خواب دیکھتا ہے، اپنی معاشی حالت سنوارنے کی کوشش کرتا ہے اور کسی اونچے مقام کا متلاشی ہوتا ہے، تو مسائل بھی اسی تناسب سے بڑے ہو جاتے ہیں۔
محدود سوچ: کم خطرات، محدود مسائل، مگر جمود اور معمولی نتائج۔
وسیع سوچ: بڑے چیلنجز، زیادہ مسائل، مگر غیر معمولی کامیابی اور وسعت۔
بڑے اہداف کا انتخاب کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ آپ بڑے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مسائل کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ آگے بڑھ رہے ہیں اور کچھ نیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے زندگی کی دشواریوں سے گھبرانے کے بجائے ذیل کے اصولوں کو اپنانا کامیابی کی راہ ہموار کرتا ہے:۔
یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ زندگی کبھی بھی ہر لحاظ سے پرفیکٹ نہیں ہو سکتی۔ جب آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی مسئلہ موجود رہے گا، تو آپ کی ذہنی کشمکش اور تناؤ میں نمایاں کمی آتی ہے۔
مشکلات پر کڑھنے اور حالات کا روڑا اٹکانے کی بجائے اپنی توانائی ان پہلوؤں پر صرف کریں جو آپ کے اختیار میں ہیں۔ جو حالات آپ کے کنٹرول سے باہر ہیں، ان پر صبر اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔
ہر نیا مسئلہ ایک نیا سبق اور تجربہ لے کر آتا ہے۔ جو انسان چیلنجز سے گھبرانے کے بجائے ان کا مردانہ وار مقابلہ کرتا ہے، اس کی شخصیت میں لچک، پختگی اور خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔
پس یاد رکھیں زندگی میں تمام مسائل کا یکسر ختم ہو جانا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی یہ فطرت کا اصول ہے۔ کامیابی اور خوش حالی کا راز اس بات میں نہیں کہ انسان تمام مشکلات کے ختم ہونے کا انتظار کرے، بل کہ اس بات میں ہے کہ وہ ان تمام چیلنجز کی موجودگی کے باوجود مسکراتے ہوئے اپنے سفر کو جاری رکھے۔ مسائل سے خوف زدہ ہونے کے بجائے ان کے ساتھ موافقت پیدا کرنا اور بڑے خوابوں کے لیے بڑی دشواریوں کو قبول کرنا ہی حقیقی کامیابی کی بنیاد ہے۔