اقبال، اجتہاد اور جدید دور کے تقاضے
اسلام ایک عالم گیر اور ابدی ضابطہ حیات ہے۔جس کی تعلیمات قیامت تک کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ تاہم وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ انسانی معاشرت میں نئے مسائل جنم لیتے ہیں، جن کا براہِ راست ذکر شاید قدیم فقہی کتابوں میں اس طرح نہ ملے جس طرح آج کی ضرورت ہے۔ ایسے میں ’’ اجتہاد‘‘ وہ کلیدی راستہ ہے، جو اسلام کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے زمانے کے ساتھ ہم آہنگ رکھتا ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے اپنے خطبات اور شاعری میں اجتہاد کی اہمیت پر بہت زور دیا ۔ ان کے نزدیک اجتہاد اسلام کے ڈھانچے میں حرکت اور زندگی کی علامت ہے۔
اجتہاد کے معنی اور مفہوم
لغوی اعتبار سے اجتہاد کے معنی ’’انتہائی کوشش کرنے‘‘ کے ہیں۔ اسلامی فقہ کی اصطلاح میں قرآن و سنت کی روشنی میں بدلتے ہوئے حالات اور نئی صورت حال کے لیے نئے قوانین وضع کرنا یا اسلامی اصولوں کو نئی شکل میں پیش کرنا اجتہاد کہلاتا ہے۔ علامہ اقبالؒ اجتہاد کو اسلام کا ’’حرکی اصول‘‘قرار دیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر اسلام کو ایک زندہ قوت کے طور پر دنیا میں باقی رہنا ہے، تو اسے اپنے قانونی نظام میں لچک اور وسعت پیدا کرنا ہوگی۔
اجتہاد کی بنیاد: حدیثِ معاذ بن جبلؓ
علامہ اقبالؒ اجتہاد کی سند اس مشہور روایت سے لیتے ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تم فیصلے کیسے کرو گے؟ انھوں نے جواب دیا ’’ قرآن سے‘‘۔ آپ ﷺ نے پوچھا اگر وہاں نہ ملے؟ تو عرض کی’’ سنتِ نبوی ﷺ سے‘‘۔ پھر آپ ﷺ نے سوال کیا کہ اگر وہاں بھی واضح حکم نہ ملے، تو کیا کرو گے؟ حضرت معاذؓ نے جواب دیا کہ ’’ میں اپنی عقل و فکر سے اجتہاد کروں گا‘‘۔ نبی کریم ﷺ نے اس جواب کو پسند فرمایا اور ان کی تعریف کی۔ اقبال اسی فکر کو بنیاد بنا کر کہتے ہیں کہ جب قرآن و سنت میں کسی مسئلے کا جزوی حل موجود نہ ہو، تو عقلِ سلیم اور اسلامی روح کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا عینِ اسلام ہے۔
اجتہاد کا دروازہ اور جمود کا خاتمہ
علامہ اقبالؒ کو اس بات کا شدید دکھ تھا کہ صدیوں سے مسلمانوں نے اجتہاد کا دروازہ بند کر رکھا ہے۔ ابتدائی چار صدیوں میں ائمہ کرام اور فقہاء نے اجتہاد کے ذریعے اسلام کو ایک متحرک نظام بنائے رکھا، لیکن بعد کے ادوار میں تقلیدِ جامد نے مسلمانوں کی فکری صلاحیتوں کو زنگ لگا دیا۔ اقبالؒ کے بقول، اگر اجتہاد ترک کر دیا جائے تو معاشرہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے، اور مذہب صرف چند رسومات تک محدود رہ جاتا ہے۔ وہ فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے بھی اجتہاد کو ضروری سمجھتے تھے تاکہ دورِ جدید کے مسائل پر تمام مکاتبِ فکر متحد ہو کر کوئی نئی راہ نکال سکیں۔
فقہ کے چار بنیادی اصول
علامہ اقبال نے اسلامی قوانین کے لیے چار بنیادی مآخذ کا ذکر کیا ہے:۔
قرآن مجید: جو ہدایت کا اصل منبع ہے۔
حدیثِ نبوی ﷺ: جو قرآن کی تشریح اور عملی نمونہ ہے۔
اجماع: یعنی امت کے علماء کا کسی مسئلے پر متفق ہونا۔
قیاس: یعنی بنیادی فکر کو سامنے رکھتے ہوئے ملتے جلتے مسائل پر عقل سے کام لینا۔
اقبالؒ نے خاص طور پر امام ابو حنیفہؒ کی فکر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان احادیث کو جو خالصتاً قانون اور فقہ سے متعلق ہیں، حالات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے تاکہ جدید دور کی ضرورتوں کو پورا کیا جا سکے۔
انفرادی یا اجتماعی اجتہاد؟
علامہ اقبال کا ایک اہم نکتہ یہ بھی تھا کہ جدید دور میں اجتہاد کسی ایک فرد کی ذمہ داری نہیں ہونی چاہیے، کیوں کہ اس سے فکری انتشار پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ ان کے نزدیک اجتہاد اب ایک ’’ اجتماعی عمل‘‘ ہونا چاہیے۔ وہ چاہتے تھے کہ اسلامی ریاست میں ایک ایسی اسمبلی یا ادارہ ہو جہاں جید علماء، ماہرینِ قانون اور جدید علوم کے ماہرین مل کر بیٹھیں۔ وہ ترکی کے مسلمانوں کی اس سلسلے میں کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ جنھوں نے بدلتے ہوئے سیاسی و سماجی حالات میں اسلام کی روح کو پانے کی کوشش کی۔
دورِ حاضر کی ضرورت
آج کے دور میں جب سائنس، معیشت اور ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے کو بدل دیا ہے۔ اقبال کی فکر کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ پاکستان میں ’’ اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ جیسے ادارے اسی فکر کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں مختلف مسائل پر اجتہادی بصیرت سے کام لیا جانا چاہئے۔ اقبال کا پیغام واضح ہے: قرآن ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، وہ ہمیں کائنات کی نشانیوں میں گم ہونے اور عقل کو استعمال کرنے کا حکم دیتا ہے۔
حاصلِ بحث
علامہ اقبال کا تصورِ اجتہاد دراصل اسلام کو ایک ’’ زندہ مذہب‘‘ کے طور پر پیش کرنے کا نام ہے۔ ان کے نزدیک اسلام ماضی کی کوئی داستان نہیں بلکہ حال اور مستقبل کا ساتھی ہے۔ اگر امتِ مسلمہ دوبارہ عروج حاصل کرنا چاہتی ہے، تو اسے تقلیدِ جامد کی زنجیریں توڑ کر قرآن و سنت کی روح کے مطابق اجتہاد کا راستہ اپنانا ہوگا۔ ہمیں اپنی عقل اور شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے، ایسے قوانین اور حل تلاش کرنے ہوں گے جو ہمیں دورِ جدید کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا سکیں۔