باب المندب کیا ہے؟ عالمی معیشت کی شاہ رگ
عالمی جغرافیہ اور بین الاقوامی تجارت میں کچھ بحری گزرگاہیں ایسی ہیں جنھیں دنیا کی معاشی زندگی کی لائف لائن قرار دیا جاتا ہے۔ جس طرح خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کی بندش کی خبریں عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دیتی ہیں، بالکل اسی طرح بحیرہ احمر میں واقع باب المندب بھی عالمی معیشت کے لیے ایک انتہائی حساس اور کلیدی مقام رکھتا ہے۔
باب المندب دراصل بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والی ایک تنگ اور اہم ترین بحری گزرگاہ ہے۔ تقریباً 36 کلومیٹر کی چوڑائی پر مشتمل یہ آبنائے ایک طرف برِاعظم ایشیا میں یمن اور دوسری طرف برِاعظم افریقہ میں جبوتی اور اریٹیریا کے درمیان واقع ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ مقام بحری جہاز رانی کا ایک ایسا قدرتی دہانہ ہے جہاں سے گزرے بغیر ایشیا اور یورپ کے درمیان مختصر ترین بحری رابطہ ممکن نہیں ہوتا۔
اس گزرگاہ کو عالمی معیشت کی شاہ رگ اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ ایشیا سے یورپ اور افریقہ کی جانب ہونے والی زیادہ تر تجارت اسی راستے سے ہو کر نہر سویز تک پہنچتی ہے۔ دنیا بھر کے تجارتی قافلے، بالخصوص خام تیل اور تجارتی سامان سے لادے گئے کارگو جہاز اسی راستے کے مرہونِ منت ہیں۔ اگر اس گزرگاہ کو مسدود کر دیا جائے تو بحری جہازوں کو پورے برِاعظم افریقہ کا چکر کاٹ کر، یعنی طویل راستے سے جانا پڑتا ہے، جس سے نہ صرف سفر کے ایام میں اضافہ ہوتا ہے بل کہ ایندھن اور مال برداری کے اخراجات بھی بے تحاشا بڑھ جاتے ہیں۔
عربی زبان میں ’’باب المندب‘‘ کا لغوی معنی ’ ’ آنسوؤں کا دروازہ‘‘ یا ’’ آنسوؤں کا دریا‘‘ ہے۔ قدیم دور میں اس کے پرخطر راستے اور تیز ہوائیں اکثر بحری جہازوں کے غرق ہونے کا باعث بنتی تھیں، جس کی بنیاد پر اسے یہ نام ملا۔ تاہم، موجودہ دور کی بین الاقوامی سیاست میں، بالخصوص یمنی حوثیوں کی جانب سے اس گزرگاہ کی ناکہ بندی اور بحری جہازوں پر حملوں کے بعد، اس راستے نے مغربی ممالک اور بالخصوص امریکہ اور یورپ کی معیشت کے لیے واقعی ’’ آنسو نکالنے‘‘ والی صورت حال پیدا کر دی ہے۔
پس یاد رکھیں باب المندب محض پانی کا ایک عام راستہ نہیں بل کہ بین الاقوامی تجارت کا وہ شریانِ اعظم ہے جس پر دنیا کی معاشی خوش حالی کا براہِ راست انحصار ہے۔ اس گزرگاہ میں پیدا ہونے والی ذرا سی سی رکاوٹ بھی پوری دنیا میں سپلائی چین کو متاثر کرتی ہے، جس کا نتیجہ عالمی سطح پر اشیائے خور و نوش اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔