علامہ اقبال کی دو عورتوں سے محبت

علامہ اقبال کی دو عورتوں سے محبت کی حقیقت  ( ایما ویگ ناسٹ اور عطیہ فیضی)

شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کی شخصیت کا تجزیہ عموماً ان کے فکری، فلسفیانہ اور مذہبی افکار کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ تاہم، ان کی سوانحِ حیات اور قیامِ یورپ (1905ء تا 1908ء) کے دور کا مطالعہ کیا جائے تو بعض نقاد اور قارئین ان کی زندگی میں آنے والی دو بااثر خواتین، یعنی ایما ویگ ناسٹ اور عطیہ فیضی کے حوالے سے بحث کرتے نظر آتے ہیں۔ بعض اوقات سطحی مطالعے کے باعث ان تعلقات کو افلاطونی یا روایتی عشق کا رنگ دے دیا جاتا ہے، جب کہ حقیقت میں ان روابط کی نوعیت علمی، روزمرہ کی انسیت، اور عمیق فکری ہم آہنگی پر مبنی تھی۔

اقبال کی زندگی میں پہلی اہم خاتون جرمنی سے تعلق رکھنے والی ایما ویگ ناسٹ تھیں۔ 1907ء اور 1908ء کے درمیانی عرصے میں جب اقبال ہائیڈل برگ  میں قیام پذیر تھے اور فلسفے میں اپنی تحقیق کے سلسلے میں جرمن زبان سیکھ رہے تھے، تو ایما،  ان کی جرمن زبان کی معلمہ بھی تھیں اور ایک ہمدرد دوست بھی۔ ہائیڈل برگ کا خوب صورت اور پرفضا ماحول، شباب کا زمانہ، اور ایک اجنبی دیار میں کسی شفیق معلمہ کی قربت نے اقبالؒ کے دل میں ان کے لیے ایک خاص الفت اور پسندیدگی پیدا کر دی تھی۔ علامہ اقبالؒ کے ایما کے نام لکھے گئے خطوط سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ ایما کے ساتھ گزارے ہوئے لمحوں حسرت کے ساتھ یاد کرتے تھے۔ اسی قیام اور ایما کے ساتھ گزرے شفیق لمحات کے اثر سے اقبال نے اپنی مشہورِ زمانہ نظم ’’ ایک شام‘‘  تحریر کی، جو ان کی جذباتی وابستگی کی ایک عمدہ عکاسی ہے۔

دوسری اہم شخصیت عطیہ فیضی تھیں، جن کا تعلق بمبئی کے ایک معروف اور تعلیم یافتہ خاندان سے تھا اور وہ اس وقت برطانوی ہند کی ایک آزاد خیال، متحرک اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ عطیہ فیضی اور علامہ اقبالؒ  کا تعلق بنیادی طور پر علمی، ادبی اور فکری نوعیت کا تھا۔ کیمبرج اور لندن کے قیام کے دوران دونوں کے درمیان گہری فکری ہم آہنگی استوار ہوئی، کیوں کہ عطیہ فیضی اقبالؒ  کی علمی قابلیت اور فلسفیانہ سوچ سے بے حد متاثر تھیں۔ اقبال ؒنے عطیہ فیضی کے نام بھی متعدد تفصیلی خطوط لکھے، جن میں انھوں نے اپنے اندرونی فکری اضطراب، خاندانی مسائل اور شاعری کی حقیقت کو کھل کر بیان کیا۔ ان خطوط کو اگرچہ بعض لوگ رومانویت کا نام دیتے ہیں، مگر علمی و ادبی نقادوں کے نزدیک یہ دو اعلیٰ پائے کے ذہنوں کے درمیان ایک خالص فکری و فلسفیانہ دوستی کا اظہار تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ یورپ کے اس مختصر سفر کے دوران اقبالؒ ایک ایسے مرحلے سے گزر رہے تھے جہاں وہ مشرقی اور مغربی افکار کا تقابلی جائزہ لے رہے تھے۔ ایسے ماحول میں ایما  کی صورتاً و سیرتاً پاکیزہ معلمی اور عطیہ فیضی کی فکری رفاقت نے ان کی شخصیت کو انفرادیت اور وسعت بخشی۔ اقبال کی خطوط نگاری سے ان دونوں شخصیات کے لیے ان کا احترام، انسیت اور خلوصِ نیت ظاہر ہوتا ہے، جسے کسی اخلاقی عیب کی بجائے انسان کی قدرتی جذباتیت اور ذہنی انسیت کا بہترین نمونہ تسلیم کیا جانا چاہیے۔

Leave a Comment