طائرِ لاہوتی یا طائرِ لاہوری؟

طائرِ لاہوتی یا طائرِ لاہوری؟  علامہ محمد اقبال ؒکے شعر کی تصحیح اور فکری مفہوم

علامہ محمد اقبالؒ  کی شاعری کا بنیادی مقصد مسلم  امہ اور بالخصوص جوانوں کے اندر بلند پروازی، خودداری اور فکری بیداری پیدا کرنا ہے۔ تاہم، مناسب مطالعہ اور فکرِ اقبال سے عدمِ واقفیت کے باعث بعض اوقات ہمارے درسی کتب اور معاون گائیڈز میں فاحش اغلاط دیکھنے کو ملتی ہیں۔حال ہی میں ایک درسی گائیڈ (چھٹی کلاس) کا جائزہ لیتے ہوئے ایک نہایت عجیب اور تحریف شدہ غلطی سامنے آئی، جہاں اقبالؒ کے مشہورِ زمانہ شعر کو یوں تحریر کیا گیا تھا

اے طائرِ لاہوری اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

ابتدا میں یہ گمان ہوا کہ شاید یہ طباعت یا کاتب  کی غلطی ہوگی، لیکن جب نیچے درج  شدہ تشریح کو پڑھا تو حیرت کی انتہا نہ رہی۔ تشریح میں لکھا گیا تھا کہ: طائرِ لاہوری سے مراد لاہور کی فضا میں اڑنے والا پرندہ ہے

یہ تشریح اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسے تحریر کرنے والے کا علامہ اقبالؒ  کی فکر، کلام اور ان کے تصوفانہ مفاہیم سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔اقبال کے کلام میں لفظ ’’طائرِ لاہوتی‘‘ استعمال ہوا ہے، نہ کہ ’’ لاہوری‘‘۔

لاہوت: عالمِ تصوف کی ایک اصطلاح ہے، جو مقامِ قربِ الٰہی اور پاکیزہ ترین روحانی دنیا کی علامت ہے۔

طائرِ لاہوتی: لغوی اور معنوی طور پر ایک ایسے بلند پرواز پرندے کو کہا جاتا ہے جو مادیت کے تنگ دائروں سے نکل کر فضا کی انتہائی بلندیوں اور روحانی مقاصد کی سمت پرواز کرتا ہے۔علامہ اقبال نے ”طائرِ لاہوتی“ کو بطورِ استعارہ انسانِ مومن اور جوانِ ملت کے لیے استعمال کیا ہے۔ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ انسان محض مادیت کا غلام نہیں، بل کہ اس کا مقام بلند فضاؤں کی حکمرانی ہے۔

یہاں شعر کا بنیادی پیغام خودداری اور رزقِ حلال کی اہمیت پر مبنی ہے۔ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ جب انسان، جو کہ ”طائرِ لاہوتی“ کی طرح بلند پرواز کا حامل ہے، کسی ایسے رزق کا محتاج ہو جاتا ہے جو اس کی غیرت، خودداری اور فکر و نظر میں پستی پیدا کرے، تو ایسا رزق اس کے لیے زہرقاتل ہے۔ ایسا رزق جو انسان کی روحی اور فکری پیشرفت میں رکاوٹ بنے، جو اسے غیروں کا محتاج بنائے اور اس کے مقصدِ زندگی کو پست کر دے۔اقبالؒ کے نزدیک ایسی ذلت آمیز مراعات اور رزق سے وہ موت بدرجہا بہتر ہے، جو انسان کو خودداری اور بلند مقصدی پر قائم رکھے۔

پس تعلیمی مواد اور نصابی کتب تیار کرتے وقت اس بات کا شدید خیال رکھا جانا چاہیے کہ اقبالؒ جیسے عظیم مفکر کے کلام اور ان کی روح کو مسخ نہ کیا جائے۔ ’’طائرِ لاہوتی‘‘ کو ’’طائرِ لاہوری‘‘ بنانا صرف ایک لفظی غلطی نہیں، بل کہ فکرِ اقبال کا شدید استحصال ہے۔ہمیں چاہیے کہ بچوں کو کلامِ اقبال کا درست تلفظ، صحیح املا اور اس کا حقیقی فکری پس منظر سکھائیں تاکہ ان میں سچی خودداری اور بلند خیالی پیدا ہو سکے۔

Leave a Comment