علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت

علامہ اقبالؒ اور فتنہ قادیانیت: حقائق کیا ہیں؟

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں علامہ محمد اقبالؒ محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک عظیم مصلح اور مفکرِ اسلام کے طور پر ابھرے۔ ان کی فکر کا محور ’’خودی‘‘ اور ’’اتحادِ امت‘‘ رہا ہے۔ تاہم، بعض حلقوں کی جانب سے ایک غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شاید علامہ اقبال ؒ قادیانیت کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتے تھے ،یا ان کے حامی تھے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ علامہ اقبال نے نہ صرف مذہبی بلکہ سیاسی اور سماجی بنیادوں پر اس فتنے کا قلع قمع کیا اور اسے اسلام کے جسدِ واحد میں ایک ناسور قرار دیا۔

قادیانیت کا پس منظر اور علامہ اقبالؒ  کا ردِ عمل

قادیانیت کا آغاز بھارت کے قصبے قادیان سے ہوا۔ جہاں مرزا غلام احمد قادیانی نے پہلے مسیح موعود اور پھر بتدریج نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ اس نے اپنی گمراہ کن اصطلاحات جیسے ’’ ظلی‘‘  اور’’بروزی‘‘  نبی کے ذریعے سادہ لوح مسلمانوں کو ورغلانے کی کوشش کی۔علامہ اقبالؒ نے بہت جلد اس فتنے کی جڑوں کو پہچان لیا تھا۔ انھوں نے ۱۹۰۲ء میں ہی اپنی ایک نظم میں جھوٹے دعویداروں کی نفی کر دی تھی۔

مجھ کو انکار نہیں آمدِ مہدی سے مگر
غیر ممکن ہے کوئی مثل ہو پیدا تیرا

’’ملتِ بیضا پر ایک عمرانی نظر‘‘  اور پیدا ہونے والی غلط فہمی

۱۹۱۱ء میں علامہ اقبالؒ نے انگریزی میں ایک مشہور خطبہ دیا ۔جس کا عنوان “ملتِ بیضا پر ایک عمرانی نظر” تھا۔ اس خطبے کا اردو ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے کیا۔ اس تحریر میں اقبال نے قادیانیوں کے لیے “نام نہاد”  کا لفظ استعمال کیا تھا۔ بدقسمتی سے ترجمے کے دوران یا کسی تکنیکی غلطی کی وجہ سے وہ “نام نہاد” کا لفظ حذف ہو گیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانیوں نے یہ تاثر دینا شروع کر دیا  کہ اقبال ان کی تعریف کر رہے ہیں۔علامہ اقبال نے بعد ازاں اس کی بھرپور وضاحت کی اور دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے، وہ جھوٹا اور مکار ہے۔ انھوں نے یہاں تک واضح کر دیا کہ ایسا شخص ملتِ اسلامیہ کا حصہ نہیں ہو سکتا۔

سیاسی اور سماجی پہلو: پنڈت نہرو کو منہ توڑ جواب

جہاں علمائے کرام نے قادیانیت پر مذہبی بحث کی۔ وہیں علامہ اقبالؒ نے اس کے سیاسی اور سماجی خطرات کو بے نقاب کیا۔ جب پنڈت جواہر لال نہرو نے مسلمانوں پر تنقید کی کہ وہ قادیانیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے، تو اقبالؒ نے اسے ایک تاریخی جواب دیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ قادیانیت مسلمانوں کی سماجی اور سیاسی ساخت کو تباہ کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔اقبالؒ نے فرمایا کہ اگر قادیانی خود کو مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت تسلیم کر لیں ،تو ہم ان کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔ لیکن جب تک وہ اسلام کی لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو گمراہ کریں گے، ہم ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ انھوں نے “بہائی” تحریک کی مثال دی کہ چوں کہ وہ اسلام سے الگ ہو گئے تھے، اس لیے انھوں نے اسلام کو  اتنا نقصان نہیں پہنچایا ، جتنا قادیانیوں نے اسلام کے اندر رہ کر پہنچایا۔

عقیدہ ختمِ نبوت: ایک عالم گیر حقیقت

علامہ اقبالؒ کے نزدیک عقیدہ ختمِ نبوت محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ مسلمانوں کی بقا اور وحدت کی بنیاد ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ پر نبوت کا دروازہ بند کر کے انسانیت کو ایک مکمل ضابطہ حیات دے دیا ہے۔ اقبالؒ  فرماتے  ہیں کہ اب قیامت تک ہم صرف قرآن اور سیرتِ محمدی ﷺ سے رہنمائی حاصل کریں گے۔انھوں نے قادیانیوں کی ان تمام خرافات کو مسترد کیا، جہاں وہ اپنے قصبے کو مکہ و مدینہ کے برابر، اپنی بیویوں کو امہات المومنین اور اپنی کتاب کو نعوذ باللہ قرآن سے افضل قرار دیتے تھے۔ اقبال کی نظر میں یہ انگریزوں کی ایک سازش تھی تاکہ مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا جا سکے۔

حاصلِ بحث

علامہ اقبال کی تحریروں، خطوط اور خطبات کا اگر عمیق مطالعہ کیا جائے، تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ ختمِ نبوت کے سچے سپاہی تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس فتنے کے خلاف آواز بلند کی۔ آج اگر کوئی اقبالؒ کو قادیانیت سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے، تو یہ ان کی فکر کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔حکیم الامت کا پیغام واضح ہے: اسلام کی بقا عشقِ رسول ﷺ اور عقیدہ ختمِ نبوت کی پاسبانی میں ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اقبال کی اصل تحریروں کا مطالعہ کریں تاکہ کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔

Leave a Comment