(عالمی معیشت اور امن خطرے میں؟) ایران اسرائیل جنگ: عام انسان پر اثرات
مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے دنیا کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ یہ تنازعہ محض دو یا تین ممالک کے درمیان جنگ نہیں بلکہ ایک ایسا عالمی بحران بن چکا ہے ۔جس کے اثرات معیشت، سیاست، توانائی اور عام انسان کی زندگی تک گہرائی سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہ جنگ فروری ۲۰۲۶ء کے آخر میں اس وقت شدت اختیار کر گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے فوجی اور اسٹریٹجک اہداف پر حملے شروع کیے، جس کے جواب میں ایران نے میزائل اور ڈرون حملے کیے اور خلیجی خطے میں کشیدگی تیزی سے بڑھ گئی۔

اس جنگ کی بنیادی وجہ ایران کا جوہری پروگرام، اس کا علاقائی اثر و رسوخ، اور اسرائیل و امریکہ کے ساتھ اس کی دیرینہ دشمنی ہے۔ ۲۰۱۵ء کے جوہری معاہدے کے بعد بھی کشیدگی ختم نہ ہو سکی، اور امریکہ کے معاہدے سے نکلنے کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے۔ ۲۰۲۵ء اور ۲۰۲۶ء میں مذاکرات ناکام ہوئے، جس کے بعد امریک اور اسرائیل کے لیے فوجی کارروائی ناگزیر ہو گئی۔
اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ کے انسانی اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ایران میں ۱۵۰۰ سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں۔ جب کہ ہزاروں افراد بے گھر اور زخمی ہیں۔ لبنان میں بھی سینکڑوں افراد شہیدہوئے اور اسرائیل میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق تہران سے ایک لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ جب کہ ہزاروں عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، یا جزوی طور پر ان کو نقصان پہنچا ہے۔ جس سے ایک بڑا انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔
اس جنگ کا سب سے بڑا اثر عالمی معیشت پر پڑا ہے، خاص طور پر تیل اور گیس کے شعبے میں۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً ۲۰ فی صد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس تنازعے کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہے۔اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ۱۱۰ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، اور ایران کا دعویٰ ہے کہ اگر حملے نہ روکے گئے تو دنیا ۲۰۰ ڈالر فی بیرل کے لیے تیا ر رہے۔اس اضافے نے دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے، کیوں کہ تیل صرف ایندھن نہیں بلکہ کھاد، ٹرانسپورٹ اور صنعتوں کا بنیادی جزو ہے۔
عالمی اسٹاک مارکیٹس بھی اس جنگ سے شدید متاثر ہوئی ہیں۔ مختلف ممالک کی مارکیٹس میں کھربوں روپے اور ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے اور سرمایہ کار شدید عدم استحکام کا شکار ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت کی اسٹاک مارکیٹ میں ایک ہی دن میں کھربوں روپے کا نقصان ہوا، جس کی بڑی وجہ یہی جنگی کشیدگی تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ صورت حال ۱۹۷۰ء کی آئل کرائسس جیسی عالمی کساد بازاری کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
توانائی کے بحران کے ساتھ ساتھ صنعتی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے۔ یورپ اور ایشیا میں کئی صنعتیں مہنگی توانائی کے باعث دباؤ کا شکار ہیں، جب کہ فضائی حدود کی بندش نے عالمی تجارت اور سفر کو بھی متاثر کیا ہے۔اس کے علاوہ سپلائی چین میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں ۔جس کے باعث اشیائے ضرورت کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔
اگر اس جنگ کے اثرات کو عام آدمی کے تناظر میں دیکھا جائے تو سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے۔ پیٹرول، بجلی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عوام کو متاثر کر رہا ہے۔ ترقی پذیر ممالک، خصوصاً پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، سری لنکا جیسے ممالک میں، یہ اثرات اور بھی زیادہ شدید ہو سکتے ہیں کیوں کہ یہاں پہلے ہی معاشی دباؤ موجود ہے۔ خوراک کی قیمتیں بڑھنے کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ تیل مہنگا ہونے سے کھاد، ٹرانسپورٹ اور زرعی پیداوار کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ جس کا بوجھ آخرکار صارف پر پڑتا ہے۔
اس جنگ کا ایک خطرناک پہلو اس کا ممکنہ پھیلاؤ ہے۔ اگر یہ تنازعہ مزید بڑھتا ہے تو اس میں خلیجی ممالک، لبنان، اور دیگر طاقتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ اس صورت میں نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی جنگ کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر اس پر مزید حملے ہوئے تو وہ سخت ردعمل دے گا، جس سے پورے خطے میں جنگ پھیل سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو اس کے نتائج نہایت تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ عالمی معیشت سست روی یا کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے، تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور دنیا بھر میں خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مالیاتی نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے، جس سے کرنسیوں کی قدر میں کمی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس جنگ کو محدود کیا جا سکتا ہے، لیکن موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا فوری طور پر ممکن نظر نہیں آتا۔ عالمی طاقتوں کے مفادات اس تنازعے کو پیچیدہ بنا رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس کا حل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ ایک ایسا بحران ہے جو نہ صرف موجودہ دنیا بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے اثرات پہلے ہی عالمی معیشت، توانائی، خوراک اور انسانی زندگی پر واضح ہیں اور اگر یہ جنگ مزید پھیلتی ہے تو یہ دنیا کو ایک ایسے دور میں داخل کر سکتی ہے ،جہاں امن، استحکام اور ترقی سب کچھ خطرے میں پڑ جائے گا۔ امریکہ اور اسرائیل کی انا کی اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان عام انسان کو ہو رہا ہے، جو مہنگائی، بے روزگاری اور عدم تحفظ کا سامنا کر رہا ہےاور یہی حقیقت اس جنگ کو انسانی المیہ بناتی ہے۔