آبنائے ہرمز: عالمی شہ رگ
آبنائے ہرمز کا درست تلفظ ’’ آب نائے ہُرمُز‘‘ہے۔ ’’ آبنائے‘‘ کا مطلب ہے، دو سمندروں کے درمیان تنگ پانی کا راستہ، جب کہ ’’ہرمز‘‘ اس خطے کے قدیم جزیرے کا نام ہے جو اس تنگ راستے میں واقع ہے۔ اس جزیرے کے نام پر ہی اس سمندری راستے کو ’’ آبنائے ہرمز‘‘ کہا جاتا ہے، جو نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اہم ہے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک شہ رگ کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ راستہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے اور دنیا کی سب سے بڑی توانائی کی ترسیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
![]()
جغرافیائی لحاظ سے آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور اس کی چوڑائی تقریباً ۳۵ سے ۶۰ میل ہے۔ جہازوں کے لیے مخصوص راستے بہت کم چوڑے ہیں، جو اسے دنیا کا سب سے حساس ’’ چوک پوائنٹ‘‘ بناتے ہیں۔ قدیم دور سے لے کر آج تک یہ علاقہ مختلف سلطنتوں اور حکمرانوں کے لیے اہم رہا ہے۔ صدیوں پہلے یہ فارسی سلطنتوں کے زیرِ اثر تھا، بعد میں عرب حکمرانوں نے اس پر قبضہ کیا، اور ۱۶ویں صدی میں پرتگالیوں نے یہاں حکمرانی قائم کی۔ بعد ازاں صفوی سلطنت نے اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا اور جدید دور میں یہ ایران اور عمان کے درمیان تقسیم شدہ ہے۔ خاص طور پر ایران-عراق جنگ (۱۹۸۰–۱۹۸۸) کے دوران یہاں ’’ٹینکر وار‘‘ ہوئی، جن میں دونوں ممالک کے تیل بردار جہاز نشانہ بنے اور عالمی سطح پر اس کی حساسیت واضح ہوئی۔
آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں ہے۔ اس کا شمالی ساحل ایران کے زیرِ کنٹرول ہے اور جنوبی ساحل عمان کے پاس ہے، جب کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ عالمی بحری راستہ ہے۔ اس کے باوجود ایران اپنی جغرافیائی پوزیشن اور بحری طاقت کی وجہ سے اس پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتا ہے اور دنیا کے کئی ممالک کی سلامتی و معیشت پر اس کے فیصلے اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ایران مکمل کنٹرول نہیں رکھتا لیکن شمالی ساحل اور اہم جزائر پر قبضے کی وجہ سے اسے وقتی طور پر محدود یا متاثر کرنے کی صلاحیت حاصل ہے۔
آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کے تقریباً ۲۰ فی صد تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتی ہے۔ روزانہ تقریباً ۲۱ ملین بیرل تیل یہاں سے منتقل ہوتا ہے اور ایشیائی ممالک، خصوصاً چین، بھارت اور جاپان اور یورپ اس پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی معیشت میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور ہر قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ عالمی توانائی مارکیٹ پر فوری اثر ڈالتی ہے۔
اگر آبنائے ہرمز کسی وجہ سے بند ہو جائے تو عالمی سطح پر سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ تیل کی قیمتیں فوری بڑھ جائیں گی، عالمی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہوگی، صنعتیں اور ٹرانسپورٹ متاثر ہوں گے، بجلی اور توانائی کے نظام میں رکاوٹ پیدا ہو گی، اور ایشیائی ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور توانائی کی قلت عالمی سطح پر بڑھ جائے گی۔ ۲۰۲۶ء کے حالیہ بحران میں جب کہ ایران نے اسے جزوی طور پر بند کر رکھا ہے تو تیل کی قیمتیں ۱۱۰ ڈالر سے اوپر چلی گئیں اور عالمی مارکیٹ میں ہلچل پیدا ہو چکی ہے، جس نے یہ واضح کر دیا کہ یہ آبنائے عالمی معیشت کے لیے کتنا حساس ہے۔متبادل راستے محدود ہیں اور اگرچہ کچھ پائپ لائنز موجود ہیں، مگر وہ دنیا کے لیے مکمل متبادل نہیں بن سکتیں۔ اسی وجہ سے عالمی ماہرین کے مطابق پانی کی اس تنگ گزرگاہ کا کھلا رہنا بین الاقوامی تعاون، سفارتی مذاکرات اور بحری نگرانی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ ممکنہ حل کیا ہے؟سب سے اہم سفارتی حل ہے۔ جس میں ایران اور دیگر عالمی طاقتیں مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کریں۔ متبادل راستے بھی موجود ہیں، جیسے سعودی عرب اور یو اے ای کی پائپ لائنز، لیکن یہ مکمل حل نہیں ہے۔ عالمی تعاون اور بین الاقوامی بحری اتحاد کی ضرورت ہے تاکہ یہ راستہ ہمیشہ کھلا رہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع، جیسے سولر اور ونڈ توانائی، بھی اس پر انحصار کم کرنے کے لیے اہم ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ اس کی جغرافیائی حیثیت، تاریخی اہمیت اور توانائی کی ترسیل میں کردار اسے عالمی سیاست اور اقتصادیات کا حساس ترین نقطہ بناتے ہیں۔ اگرچہ ایران اس پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا، لیکن اس کے اثر و رسوخ اور حالیہ عالمی کشیدگی سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتوں کے لیے اس کی اہمیت کم نہیں۔ عالمی استحکام، توانائی کی ترسیل اور معاشی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ یہ راستہ ہمیشہ کھلا اور محفوظ رہے۔