مسلمان قربانی کیوں کرتے ہیں؟
(ایک فکری، تاریخی اور روحانی جائزہ)
قربانی کا لفظ عربی زبان کے مادے ’ق ر ب‘ سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی ’نزدیک ہونے‘ یا ’قرب حاصل کرنے‘ کے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں قربانی سے مراد وہ مخصوص حلال جانور ہے جو عید الاضحیٰ کے ایام (۱۰ سے ۱۲ ذوالحجہ) میں اللہ تعالیٰ کی رضا، خوشنودی اور اس کا قرب حاصل کرنے کی نیت سے ذبح کیا جاتا ہے۔اسلام میں قربانی صرف ایک ظاہری رسم یا محض جانور ذبح کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عظیم الشان عبادت، گہری حکمتوں کا مجموعہ اور مومن کے دل میں موجود تقویٰ کا مادی اظہار ہے۔ یہ ایک ایسا سالانہ عہد ہے جو انسان کو اپنی سب سے عزیز چیز اللہ کی راہ میں نچھاور کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
قربانی کا تاریخی پس منظر اور ارتقا
قربانی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود انسانیت کی تاریخ ہے۔ دنیا کے ہر مذہب اور تہذیب میں کسی نہ کسی شکل میں قربانی کا تصور موجود رہا ہے، خواہ وہ دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے ہو یا گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے۔ تاہم، اسلام نے قربانی کو شرک کی تمام آمیزشوں سے پاک کر کے اسے خالص توحید اور رضائے الٰہی کا ذریعہ بنایا۔قرآنِ کریم کے مطابق، انسانی تاریخ کی پہلی قربانی آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں، ہابیل اور قابیل نے پیش کی تھی۔ قرآن سورہ المائدہ (۲۷)میں فرماتا ہے:
’’اور انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناؤ، جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی، پس ان میں سے ایک (ہابیل) کی قربانی قبول کر لی گئی اور دوسرے (قابیل) کی قبول نہ کی گئی۔‘‘
ہابیل نے خلوصِ دل سے اپنے ریوڑ کا سب سے بہترین اور موٹا تازہ دنبہ اللہ کی راہ میں پیش کیا، جب کہ قابیل نے بے دلی سے اپنی کھیتی کا ناقص اناج سامنے رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی قبول فرما کر قیامت تک کے لیے یہ اصول طے کر دیا کہ اللہ کے ہاں مال کی کثرت یا جانور کی قیمت نہیں، بلکہ نیت کا تقویٰ اور خلوص دیکھا جاتا ہے۔
واقعۂ ذبحِ اسماعیل علیہ السلام: تسلیم و رضا کی معراج
موجودہ دور میں مسلمان عید الاضحیٰ کے موقع پر جو قربانی کرتے ہیں، وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ان کے لختِ جگر سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی عظیم الشان قربانی کی یادگار ہے۔ یہ کوئی عام واقعہ نہیں، بلکہ عشق، ایمان اور تسلیم و رضا کی تاریخ کا سب سے درخشاں باب ہے۔
خواب اور آزمائش
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بپھرتی ہوئی آگ میں ڈالا گیا، وطن چھوڑنا پڑا، اور بڑھاپے تک وہ اولاد کی نعمت سے محروم رہے۔ جب ۸۶ برس کی عمر میں اللہ نے انہیں سیدہ ہاجرہ کے بطن سے ایک خوب صورت بیٹا، اسماعیل عطا کیا، تو ابھی وہ چند سال کے ہی ہوئے تھے کہ ایک نئی اور کٹھن آزمائش سامنے آ کھڑی ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مسلسل تین راتیں خواب دیکھا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کا خواب وحی الٰہی ہوتا ہے، اس لیے وہ سمجھ گئے کہ ان سے ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان مطلوب ہے۔
باپ اور بیٹے کا مکالمہ
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اندھی تقلید یا جبر کا راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اپنے کمسن بیٹے کو بلا کر اس الٰہی اشارے کا ذکر کیا۔ قرآنِ پاک نے اس مکالمے کو رہتی دنیا تک کے لیے محفوظ کر لیا (سورہ الصافات۱۰۲)۔
’’(ابراہیم نے) کہا: اے میرے پیارے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب تم بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘
ایک نوجوان بیٹے کے لیے یہ کلام صدمے کا باعث ہو سکتا تھا، لیکن جس بیٹے کی تربیت خلیل اللہ کے زیرِ سایہ ہوئی ہو، اس کا جواب بھی لاجواب تھا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بنا کسی لغزش اور خوف کے فرمایا۔
’’ابّا جان! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے، اسے کر گزریے۔ انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔‘‘
مِنا کا میدان اور مچھری کا چلنا
باپ اور بیٹا دونوں اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر کے مِنا کے میدان کی طرف چل پڑے۔ راستے میں شیطان نے ۳ مختلف مقامات پر باپ، بیٹے اور ماں کو بہکانے کی کوشش کی کہ ایک خواب کی بنیاد پر اتنے پیارے بیٹے کو ذبح نہ کیا جائے، لیکن تینوں نے عزمِ صمیم کے ساتھ شیطان کو کنکریاں مار کر بھگا دیا۔ (یہی عمل حج میں ’’رمی جمار‘‘ یعنی شیطان کو کنکریاں مارنے کی شکل میں آج بھی زندہ ہے)۔جب مِنا کے میدان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا، اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی (تاکہ پدری محبت ہاتھ میں لرزش نہ پیدا کر دے) اور بیٹے کے حلقوم پر چھری چلا دی۔ انھوں نے اپنی طرف سے قربانی مکمل کر دی تھی، لیکن کائنات کے مالک کو اسماعیل کا خون بہانا مطلوب نہیں تھا، بلکہ ابراہیمؑ کا امتحان مقصود تھا۔
دنبے کا فدیہ
اللہ تعالیٰ نے چھری کو حکم دیا کہ وہ اپنا اثر کھو دے۔ اسی وقت جبرائیل ؑجنت سے ایک دنبہ لے کر حاضر ہوئے اور اسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ رکھ دیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آنکھوں سے پٹی ہٹائی، تو دیکھا کہ بیٹا مسکرا رہا ہے اور ایک دنبہ ذبح ہو چکا ہے۔ غیب سے آواز آئی(سورۃ الصافات: 104-106)۔
’’اے ابراہیم! یقیناً تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک یہ ایک کھلی آزمائش تھی۔‘‘
مسلمان قربانی کیوں کرتے ہیں؟ (حکمتیں اور مقاصد)
اس تاریخی واقعے کے بعد امتِ محمدیہ پر عید الاضحیٰ کے دن قربانی کو واجب یا سنتِ مؤکدہ قرار دیا گیا۔ مسلمان ہر سال لاکھوں کی تعداد میں جانور ذبح کرتے ہیں۔ اس عمل کے پیچھے چند اہم ترین مقاصد درج ذیل ہیں:۔
سنتِ ابراہیمی کی احیاء اور یادگار
سب سے پہلا مقصد اس عظیم تاریخی واقعے کی یاد کو تازہ رکھنا ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ مسلمان سیدنا ابراہیم ؑ کو اپنا پیشوا مانتے ہیں اور ان کے اس جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں جس میں انھوں نے خدا کے حکم کے سامنے کائنات کی سب سے قیمتی متاع کو ہیچ سمجھا۔
تقویٰ اور خلوص کا امتحان
اللہ تعالیٰ کو گوشت یا خون کی حاجت نہیں ہے۔ وہ تو غنی اور بے نیاز ہے۔ قربانی کا اصل مقصد انسان کے دل کی کیفیت کو پرکھنا ہے۔ قرآن مجید میں واضح طور پر ارشاد ہے:
’’اللہ کو ہرگز ان (جانوروں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اسے تو تمہارے دلوں کا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘ (سورہ الحج، ۳۷)
جب ایک مسلمان اپنے حلال مال سے ایک بہترین جانور خریدتا ہے، اسے پالتا ہے اور پھر اسے اللہ کے نام پر ذبح کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنے اندر کے تقویٰ کو جلا بخشتا ہے۔
جذبۂ ایثار اور قربانی کی تربیت
انسان فطرتاً مال و دولت اور دنیاوی آسائشوں سے محبت کرتا ہے۔ قربانی انسان کو سکھاتی ہے کہ اگر دین، ملک، قوم یا انسانیت کی خاطر جان، مال یا اولاد کی قربانی بھی دینا پڑے تو مومن کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ یہ محض جانور کے گلے پر چھری چلانا نہیں، بلکہ اپنی نفسانی خواہشات، انا، تکبر، حسد اور خود غرضی کے گلے پر چھری چلانے کا علامتی اظہار ہے۔
معاشی گردش اور سماجی ہمدردی
اسلامی قربانی کا ایک بہت بڑا حسن اس کا سماجی اور اقتصادی پہلو ہے۔ قربانی کے گوشت کو تین برابر حصوں میں تقسیم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے: ایک حصہ اپنے لیے، ایک رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے، اور ایک حصہ غریبوں اور مساکین کے لیے۔معاشرے کے وہ پسے ہوئے طبقات جنھیں سال بھر اچھا کھانا یا گوشت میسر نہیں ہوتا، عید کے دنوں میں وہ بھی عزتِ نفس کے ساتھ اچھے کھانے کا لطف اٹھاتے ہیں۔ اس سے امیر اور غریب کے مابین خلیج کم ہوتی ہے اور محبت کو فروغ ملتا ہے۔اسی طرح قربانی کے سیزن میں دیہی معیشت کو زبردست فروغ ملتا ہے۔ لاکھوں چرواہے، کسان اور تاجر جو سال بھر مویشی پالتے ہیں، انھیں اپنی محنت کا صلہ ملتا ہے۔ اس کے علاوہ چمڑے کی صنعت کو خام مال ملتا ہے، جس سے ملک کی معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔
قربانی کے احکام اور آداب
اسلام ایک ضابطۂ حیات ہے، اس لیے اس نے قربانی کے بھی مخصوص آداب اور شرائط مقرر کی ہیں، جو کہ درج ذیل ہیں:۔
جانور کا عیب سے پاک ہونا: قربانی کا جانور اندھا، کانا، لنگڑا، شدید بیمار یا انتہائی لاغر نہیں ہونا چاہیے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کی راہ میں ہمیشہ بہترین چیز پیش کرنی چاہیے۔
رحم دلی کا مظاہرہ: رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ چھری کو پہلے سے تیز کر لیا جائے تاکہ جانور کو زیادہ تکلیف نہ ہو، اور ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح نہ کیا جائے۔ اسلام ذبح کے وقت بھی جانور کے حقوق اور رحم دلی کا درس دیتا ہے۔
نمائش سے گریز: اگر قربانی میں خلوصِ دل کی بجائے سستی یا مہنگے جانور کی سستی واہ واہ (نمائش) شامل ہو جائے، تو وہ قربانی اللہ کے ہاں رد کر دی جاتی ہے۔
آخر میں بس یہ کہ مسلمانوں کی قربانی محض ایک سالانہ تہوار یا گوشت کھانے کا بہانہ نہیں ہے، بلکہ یہ توحید، اطاعت اور محبت کا ایک جامع مظاہرہ ہے۔ یہ ہر سال مسلمانوں کو یاد دلاتی ہے کہ ہماری زندگی، ہماری موت، ہماری نمازیں اور ہماری تمام قربانیاں صرف اور صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔جب تک مسلمان قربانی کی اس روح کو بیدار رکھیں گے کہ ’’حکمِ الٰہی کے سامنے سب کچھ قربان ہے‘‘، تب تک معاشرے میں امن، ایثار، ہمدردی اور تقویٰ کی فَضَا قائم رہے گی۔ عید الاضحیٰ کا اصل پیغام یہی ہے کہ انسان اپنی سب سے قیمتی اور پسند دیدہ چیز جو اللہ کے حکم کے آڑے آئے،کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے۔