کیا یہ واقعی اقبال ہے؟ علامہ اقبال سے منسوب “جعلی” اشعار کا تحقیقی پوسٹ مارٹم

کیا یہ واقعی اقبال ہے؟ علامہ اقبال سے منسوب “جعلی” اشعار کا تحقیقی پوسٹ مارٹم

آج کے ڈیجیٹل دور میں علامہ اقبالؒ کے نام پر ایسی شاعری منسوب کر دی گئی ہے جس کا ان کے فلسفے، زبان و بیان اور معیار سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے۔ ہم جذبات میں آ کر ایسے اشعار شیئر تو کر دیتے ہیں، مگر یہ نہیں جانتے کہ ہم ایک عظیم مفکر کی علمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ذیل میں ان مشہور اشعار کی حقیقت درج ہے جو اقبال کے نہیں ہیں

عقاب اور بادِ مخالف

غلط منسوب کلام:

تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

حقیقت: یہ شعر سید صادق حسین شاہ کا ہے۔ اقبال نے شاہین کو اپنی شاعری میں بطور علامت استعمال کیا ہے، لیکن یہ مخصوص شعر ان کا نہیں ہے۔

شہادتِ حسینؑ اور بقائے اسلام

غلط منسوب کلام:

قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

حقیقت: یہ بے حد مقبول شعر مولانا محمد علی جوہر کا ہے۔ اقبال نے کربلا پر بہت لکھا، مگر ان کا انداز کچھ یوں تھا: “نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری”۔

ضربِ ید اللہ اور سجدۂ شبیری

غلط منسوب کلام:

اسلام کے دامن میں اور اِس کے سِوا کیا ہے

اک ضربِ یَد اللہ اک سجدہِ شبیری

حقیقت: یہ خوبصورت شعر وقار انبالوی کا ہے، علامہ اقبال کا نہیں۔

قوم کی حالت اور تبدیلی

غلط منسوب کلام:

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

حقیقت: یہ اشعار مولانا ظفر علی خان کے ہیں۔ لوگ اکثر قرآن کی آیت کے مفہوم کی وجہ سے اسے اقبال سے جوڑ دیتے ہیں۔

“پڑھا کر” والی طویل نظم

غلط منسوب کلام:

لکھنا نہیں آتا تو میری جان پڑھا کر

ہو جائے گی تیری مشکل آسان پڑھا کر

پڑھنے کے لئے تجھے اگر کچھ نہ ملے تو

چہروں پہ لکھے درد کے عنوان پڑھا کر

لا ریب تیری روح کو تسکین ملے گی

تو قرب کے لمحات میں قرآن پڑھا کر

آجائے گا اسی سے تجھے جینے کا قرینہ اقبال

تو سرورِ کونین کے فرمان پڑھا کر

بحث: یہ کلام فنی طور پر بہت کمزور ہے۔ اقبال کی زبان “بانگِ درا” یا “بالِ جبریل” میں اتنی سادہ اور نثری نہیں ہے۔ یہ کسی جدید شاعر کی تخلیق ہے جس میں اقبال کا تخلص زبردستی گھسیڑا گیا ہے۔

سجدوں کی بحث اور “کافر” ہونے کا خوف

غلط منسوب کلام:

سجدۂ عشق ہو تو عبادت میں مزہ آتا ہے

خالی سجدوں میں تو دنیا ہی بسا کرتی ہے

لوگ کہتے ہیں کہ بس فرض ادا کرنا ہے

ایسا لگتا ہے کوئی قرض لیا ہو رب سے

داغِ سجود اگر تیری پیشانی پر ہوا تو کیا

کوئی ایسا سجدہ بھی کر کہ زمیں پر نشان رہیں

تیرے سجدے کہیں تجھے کافر نہ کر دے اے اقبال

تو جھکتا کہیں اور ہے اور سوچتا کہیں اور ہے

حقیقت: اقبال کا فلسفہ سجدہ یہ ہے: “وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے / ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات”۔ مذکورہ بالا اشعار عوامی اور بازاری طرز کے ہیں، جو اقبال کے بلند پایہ کلام سے میل نہیں کھاتے۔

مزدوری اور عبادت

غلط منسوب کلام:

سجدوں کے عوض فردوس ملے یہ بات مجھے منظور نہیں

بے لوث عبادت کرتا ہوں بندہ ہوں تیرا مزدور نہیں

حقیقت: یہ شعر بھی اقبال کا نہیں ہے۔

پرندوں کی وفا

غلط منسوب کلام:

پرندے ہوا سے وفا کرتے ہیں زمیں سے نہیں اقبال

اگر پرندوں سے وفا چاہے تو آسماں میں اڑنا سیکھ

بحث: یہ شعر لسانی اعتبار سے انتہائی ناقص ہے۔ “آسماں میں اڑنا سیکھ” جیسے جملے اقبال کے ہاں نہیں ملتے۔

گونگی زبان اور اعترافِ گناہ

غلط منسوب کلام:

گونگی ہو گئی آج زباں کچھ کہتے کہتے
ہچکچا گیا میں خود کو مسلماں کہتے کہتے

یہ بات نہیں کہ مجھ کو اس ہر یقیں نہیں
بس ڈر گیا خود کو صاحب ایماں کہتے کہتے

توفیق نہ ہوئی مجھ کو اک وقت کی نماز کی
اور چپ ہوا موزن اذاں کہتے کہتے

کسی کافر نے جو پوچھا کہ یہ کیا ہے مہینہ
شرم سے پانی ہوا میں رمضاں کہتے کہتے

میرے شیلف میں جو گرد سے اٹی کتاب کا جو پوچھا
میں گڑھ کیا زمیں میں قرآں کہتے کہتے

یہ سن کہ چپ سادھ لی اقبال اس نے
یوں لگا جیسے رک گیا ہو مجھے حیواں کہتے کہتے

حقیقت: یہ ایک جذباتی نظم ہے جو انٹرنیٹ پر اقبال کے نام سے پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا کوئی مستند حوالہ موجود نہیں۔

جنت سے واپسی کا افسانہ

غلط منسوب کلام:

بہک کر باغِ جنت سے چلا آیا تھا دنیا میں

سنا ہے بعدِ محشر پھر اسی جنت کی تلاش ہے

چلا تو جاؤں جنت میں مگر یہ سوچ کر چپ ہوں

میں آدم زاد مجھ کو بہک جانے کی عادت ہے

بحث: اقبال کا “آدم” بہکنے والا نہیں بلکہ تسخیرِ کائنات کرنے والا ہے۔ یہ اشعار کسی ایسے شخص کے ہیں جو اپنی کمزوریوں کا دفاع کر رہا ہے، جبکہ اقبال خودی کا درس دیتے ہیں۔

جعلی شکوہ اور جوابِ شکوہ

غلط منسوب کلام:

(شکوہ): بروزِ حشر میں بے خوف گھس جاؤں گا جنت میں

وہاں سے آئے تھے آدم وہ میرے باپ کا گھر ہے

(جوابِ شکوہ): ان اعمال کے ساتھ جنت کا طلبگار ہے کیا

وہاں سے نکالے گئے آدم تو تیری اوقات ہے کیا

حقیقت: یہ دونوں اشعار انتہائی سطحی ہیں۔ اقبال کی شہرہ آفاق نظمیں “شکوہ” اور “جوابِ شکوہ” مسدس کی ہیئت میں ہیں، جبکہ یہ عام دو مصرعوں والے شعر ہیں۔

لوگ کیوں دھوکا کھاتے ہیں؟

تخلص کا استعمال: شاعر نے آخر میں “اقبال” لکھ دیا تو لوگوں نے اسے سچ مان لیا۔

مذہبی لگاؤ: چوں کہ ان اشعار میں نماز، سجدہ، کربلا اور قرآن کا ذکر ہے، اس لیے عقیدت مند اسے اقبال کا کلام سمجھ کر شیئر کرتے ہیں۔

سادگی: اقبال کا اصل کلام (فارسی و اردو) سمجھنے کے لیے علم کی ضرورت ہے، جبکہ یہ اشعار بہت سادہ ہیں۔

ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

کسی بھی شعر کو اقبال سے منسوب کرنے سے پہلے “کلیاتِ اقبال” میں تلاش کریں۔ اگر وہ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم یا ارمغانِ حجاز میں نہیں ہے، تو اسے شیئر نہ کریں۔

Leave a Comment