مفاد پرستی: ایک سماجی کینسر اور اس کا اسلامی و اخلاقی حل

مفاد پرستی: ایک سماجی کینسر اور اس کا اسلامی و اخلاقی حل

تحریر: مبشر مغل

آج کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی اور مادی ترقی نے انسان کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے، وہیں اخلاقی پستی اور “نفسا نفسی” کے عالم نے انسانیت کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر شخص صرف اپنی ذات کے خول میں محصور ہو کر رہ گیا ہے۔ آج کے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ “مفاد پرستی” ہے، ایک ایسی بیماری جو خاموشی سے ہمارے سماجی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ یہ صرف ایک انفرادی برائی نہیں بلکہ ایک ایسی زہریلی سوچ ہے جو قوموں کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔

مفاد پرستی کیا ہے؟ ایک تعریف

مفاد پرستی یا خود پرستی سے مراد وہ طرزِ فکر ہے جس میں انسان صرف اپنے ذاتی فائدے کو مقدم رکھتا ہے، چاہے اس کے لیے اسے دوسروں کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ کرنا پڑے۔ جب کوئی شخص یا قوم اس حد تک خود غرض ہو جائے کہ اسے دوسروں کی تکلیف، حق تلفی یا معاشرتی بگاڑ کی کوئی پرواہ نہ رہے، تو سمجھ لیجیے کہ وہ مفاد پرستی کی مہلک بیماری میں مبتلا ہو چکا ہے۔ یہ بیماری بظاہر تو انسان کو فوری فائدہ پہنچاتی نظر آتی ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک ایسا “سماجی کینسر” ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی عزت، وقار اور رشتوں کو ختم کر دیتا ہے۔

مفاد پرستی کے سماجی نقصانات

 مفاد پرستی کا سب سے پہلا وار انسان کے قریبی رشتوں پر ہوتا ہے۔ ایک خود غرض انسان کبھی کسی کا مخلص دوست یا وفادار رشتہ دار نہیں ہو سکتا۔ جب لوگ یہ جان لیتے ہیں کہ فلاں شخص صرف اپنے مطلب کی حد تک ساتھ چلتا ہے، تو وہ اس سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان مادی طور پر تو شاید بہت کچھ حاصل کر لے، لیکن معنوی طور پر وہ تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ معاشرے میں اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل جاتا ہے اور باہمی اعتماد کی فضا ختم ہو جاتی ہے، جس سے پورے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

اسلام اور تصورِ اجتماعیت

دینِ اسلام مفاد پرستی کے اس نظریے کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ اسلام کی بنیاد ہی “ایثار” اور “اجتماعیت” پر ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

“نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ و زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔”

اسی طرح نبی کریم ﷺ کی ایک مشہور حدیث مبارکہ ہے کہ:

“تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔”

یہ تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ ایک مسلمان کی پہچان اپنی ذات سے باہر نکل کر دوسروں کے لیے سوچنا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ انفرادی مفاد سے زیادہ اجتماعی مفاد کی اہمیت ہے۔ جب ہم پورے معاشرے کی بھلائی کا سوچتے ہیں، تو ہماری اپنی ذات کی فلاح اس میں خود بخود شامل ہو جاتی ہے۔

انسانی بقا اور باہمی انحصار

انسان ایک سماجی حیوان ہے اور وہ کبھی بھی تنہا زندگی نہیں گزار سکتا۔ ویڈیو میں ایک بہت خوبصورت مثال دی گئی ہے کہ اگر دنیا کے تمام لوگ مر جائیں اور صرف آپ اکیلے زندہ بچیں، تو شاید آپ کو ایک گلاس پانی پینا بھی نصیب نہ ہو۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہ پانی کا گلاس جس راستے سے آپ تک پہنچتا ہے، اس کے پیچھے سینکڑوں انسانوں کی محنت شامل ہوتی ہے۔ ایک کسان جو اناج اگاتا ہے، ایک تاجر جو اسے بازار لاتا ہے، ایک کاریگر جو اوزار بناتا ہے—یہ سب ایک زنجیر کی کڑیاں ہیں۔

اگر ہر شخص صرف اپنا مفاد سوچے گا تو یہ زنجیر ٹوٹ جائے گی۔ ایک تاجر کو گاہک کی ضرورت ہے اور گاہک کو تاجر کی؛ ایک ڈاکٹر کو مریض کی ضرورت ہے اور مریض کو ڈاکٹر کی۔ یہ باہمی انحصار ہی انسانیت کی بقا کا ضامن ہے۔ مفاد پرستی اس فطری نظام کو درہم برہم کر دیتی ہے۔

تاریخ کے سنہری نقوش: قربانی کی مثالیں

تاریخِ اسلام ہمیں ایسی عظیم مثالوں سے بھری نظر آتی ہے جہاں مفاد پرستی کا نام و نشان نہیں تھا۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جب اپنا تمام مال اللہ کی راہ میں قربان کیا، تو انہوں نے اپنے ذاتی مفاد یا مستقبل کا نہیں سوچا بلکہ دین اور انسانیت کی اجتماعی فلاح کو مقدم رکھا۔

حضرت عمر فاروقؓ، حضرت علیؓ اور دیگر صحابہ کرام کی زندگیاں عدل و انصاف اور دوسروں کی خدمت سے عبارت تھیں۔

سب سے عظیم مثال حضرت امام حسینؑ کی ہے، جنہوں نے میدانِ کربلا میں اپنے پورے خاندان کی قربانی دے دی۔ یہ قربانی کسی ذاتی اقتدار یا مفاد کے لیے نہیں تھی، بلکہ انسانی حقوق کی پامالی اور یزیدی مفاد پرستی کے خلاف ایک اصولی موقف تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اصولوں اور انسانیت کی بقا کے لیے اپنی ذات کی قربانی دینا ہی اصل کامیابی ہے۔

مفاد پرستی کا خاتمہ: ہم کیا کر سکتے ہیں؟

اس زہریلے رویے سے چھٹکارا پانے کے لیے ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارا حقیقی فائدہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے میں ہے۔

بچوں کی تربیت: ہمیں اپنے بچوں کو “میرا” کی جگہ “ہمارا” کا تصور دینا ہوگا۔ انہیں سکھانا ہوگا کہ بانٹنے میں جو لذت ہے وہ چھیننے میں نہیں ہے۔

ایثار کی عادت: روزمرہ کی زندگی میں چھوٹے چھوٹے کاموں سے دوسروں کی مدد کرنے کی عادت ڈالیں۔

اخلاقی محاسبہ: کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ کیا اس سے کسی کا حق تو نہیں مارا جا رہا؟

خلاصہ کلام

مفاد پرستی ایک عارضی فائدہ تو دے سکتی ہے لیکن یہ طویل مدت میں تباہی کا راستہ ہے۔ ایک روشن اور مستحکم معاشرے کی بنیاد صرف اسی صورت میں رکھی جا سکتی ہے جب ہم “خود پرستی” کے بت کو توڑ کر “خلقِ خدا” کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کی عظمت اس کے بینک بیلنس سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور دوسروں کے کام آنے کی صلاحیت سے ناپی جاتی ہے۔

آئیے عہد کریں کہ ہم مفاد پرستی کی اس زنجیر کو توڑیں گے اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کریں گے جہاں ہر فرد دوسرے کا محافظ اور خیر خواہ ہو۔

Leave a Comment