اقبال کا مردِ مومن اور نطشے کا سپرمین

 اقبال کا مردِ مومن اور نطشے کا سپرمین

علامہ محمد اقبالؒ کے فلسفۂ خودی میں ‘مردِ مومن’، ‘مردِ کامل’ یا ‘انسانِ کامل’ کا تصور ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اقبال کا یہ مثالی انسان محض ایک خیالی پیکر نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا نمونہ ہے،  جو انسانیت کی معراج اور خلافتِ الہیٰ کا سچا عَلم بردار ہے۔ اکثر مستشرقین اور ناقدین کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے، کہ اقبال نے مردِ مومن کا یہ تصور جرمن فلسفی فریڈرک نطشے کے ‘سپرمین’ یا ‘فوق البشر’  سے مستعار لیا ہے۔ تاہم گہرائی سے مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں تصورات میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

اقبال کا مردِ کامل: بندگی اور عشق کا پیکر

اقبالؒ  کے نزدیک انسانِ کامل وہ ہے ،جو اپنی ‘خودی’ کی پہچان کر لیتا ہے۔ جب انسان اطاعت، ضبطِ نفس اور نیابتِ الہیٰ  جیسے مراحل سے گزرتا ہے، تو وہ اس مقام پر فائز ہوتا ہے۔  جہاں وہ کائنات کی تسخیر کا اہل بنتا ہے۔ اقبال کے مردِ مومن کی بنیاد ‘عشقِ رسول ﷺ’ اور ‘قرآنی تعلیمات’ پر ہے۔

 اقبال ؒ کے مردِ مومن کی نمایاں صفات درج ذیل ہیں:۔

اطاعتِ الہیٰ: اقبال کا مردِ مومن صرف اللہ کے سامنے جھکتا ہے۔ وہ کسی دنیاوی طاقت، خواہش یا مصلحت کا غلام نہیں ہوتا۔ جس طرح اقبال ؒ فرماتے ہیں

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات

تو جھکا جب غیر کے آگے، نہ تن تیرا نہ من

اخلاقِ حسنہ: مردِ مومن کا نمونہ عمل حضور پاک ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ وہ اخلاقی طور پر بلندیوں پر فائز ہوتا ہے اور اس کی قوت دوسروں کو دبانے کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کے لیے ہوتی ہے۔

صبر و استقلال: وہ مشکل حالات میں گھبراتا نہیں بلکہ حق پر ڈٹ جاتا ہے۔ اس کی ایک نگاہ تقدیر بدلنے کی قوت رکھتی ہے کیوں کہ وہ رضائے الہیٰ میں ڈھل چکا ہوتا ہے۔

نطشے کا فوق البشر: انا اور طاقت کا مظہر

نطشے کا ‘سپرمین’ ایک ایسے انسان کا تصور ہے ،جو تمام روایتی اخلاقیات، مذہب اور خدا کے تصور کو رد کر دیتا ہے۔ نطشے کے مطابق “خدا (معاذ اللہ) مر چکا ہے” اور اب انسان کو خود اپنی اقدار تخلیق کرنی ہیں۔

نطشے کے سپرمین کی خصوصیات درج ذیل ہیں:۔

ارادۂ قوت(وِل پاور): نطشے کا فوق البشر صرف طاقت کا پجاری ہے۔ وہ دوسروں پر غلبہ پانے اور اپنی انا کی تسکین کو ہی ، اصل زندگی سمجھتا ہے۔

مذہب سے بیزاری: نطشے کا خیال تھا کہ مذہب انسان کو بزدل اور غلام بناتا ہے۔ اس لیے اس کا سپرمین کسی بھی مذہبی یا غیبی طاقت کو تسلیم نہیں کرتا۔

رحم کا فقدان: نطشے کے نزدیک کمزوروں پر رحم کرنا ایک اخلاقی برائی ہے۔ اس کا سپرمین صرف طاقتوروں کا ساتھ دیتا ہے اور معاشرے کے پست طبقے کے دکھ درد سے اسے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

اقبال اور نطشے: بنیادی اختلافات

اگرچہ دونوں فلسفی انسانی صلاحیتوں کی انتہا کی بات کرتے ہیں، مگر ان کے راستے بالکل جدا ہیں۔

ذریعہ و مآخذ: اقبال نے اپنے ایک خط (بنام نکلسن، 1920ء) میں واضح کیا کہ انھوں نے مردِ کامل کا تصور نطشے کو پڑھنے سے بہت پہلے پیش کر دیا تھا اور اس کا مآخذ صوفیانہ روایات (جیسے ابنِ عربی اور مولانا روم کا تصورِ انسانِ کامل) اور اسلامی تعلیمات ہیں۔

خدا سے تعلق: نطشے کا سپرمین ‘خدا’ کا منکر ہو کر اپنی طاقت منواتا ہے، جب کہ اقبال ؒ کا مردِ مومن ‘خدا’ کا سچا بندہ بن کر کائنات پر حکمرانی کرتا ہے۔ اقبال کے ہاں خودی کی معراج خدا میں گم ہونا نہیں، بلکہ خدا کو اپنے اندر جذب کر لینا ہے۔

معاشرتی ذمہ داری: نطشے کا فوق البشر معاشرے کو تباہ کر سکتا ہے کیوں کہ وہ کسی قانون کا پابند نہیں، جب کہ اقبال کا مردِ مومن معاشرے کا محسن ہوتا ہے۔ وہ قانونِ شریعت اور اخلاقی حدود کے اندر رہ کر انسانیت کی فلاح کا کام کرتا ہے۔

حاصلِ بحث

اقبال کا مردِ مومن ایک تعمیری اور روحانی وجود ہے، جو زمین پر اللہ کا نائب بن کر امن، محبت اور عدل قائم کرتا ہے۔ اس کے برعکس، نطشے کا سپرمین ایک تخریبی قوت بن سکتا ہے جو صرف اپنی ذات کے محور پر گھومتی ہے۔ اقبال نے نطشے کی ذہانت کا اعتراف تو کیا (اسے ‘مومنِ دماغ اور کافرِ دل’ کہا) مگر اس کے فلسفے کو انسانیت کے لیے خطرناک قرار دیا۔

آج کے دور میں، جہاں مادی طاقت کی ہوس نے انسان کو اندھا کر دیا ہے، اقبالؒ کے مردِ مومن کا تصور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت جسمانی غلبے میں نہیں بلکہ روحانی بیداری اور اخلاقی برتری میں ہے۔

Leave a Comment