بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق اشعارِ اقبال کی غلط تشریح کا تجزیہ اور حقیقی فکری مفہوم
علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری کی خوب صورتی اور اس کی گہرائی اس بات میں پنہاں ہے کہ وہ محض ظاہری الفاظ کا مجموعہ نہیں، بل کہ ان میں عقل و عشق، توکل اور ایمانی جرات کے عمیق فلسفے پوشیدہ ہوتے ہیں۔ تاہم، بعض اوقات ادب و فکر سے عدم واقفیت کی بناء پر علامہ اقبالؒ کے اشعار کی نہایت سطحی اور غلط تشریحات سامنے آتی ہیں۔ حال ہی میں ایک صاحبِ علم (انجیئنر محمد علی مرزا صاحب) کی جانب سے اقبالؒ کے مشہورِ زمانہ شعر کے حوالے سے ایک اعتراض سامنے آیا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تو خود آگ میں نہیں کودے تھے، بل کہ انھیں تو دھکا دے کر آگ میں پھینکا گیا تھا، لہٰذا شعر کا مصرع تاریخی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اس قسم کا اعتراض بنیادی طور پر شعری اسلوب، استعارے اور مفہومِ عشق سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ شاعر جب اپنے اعلیٰ فکری و روحانی نقطہٴ نظر سے بات کرتا ہے تو وہ الفاظ کے لغوی معنی کی حد تک محدود نہیں رہتا بل کہ وہ بات کی گہرائی اور اس کے پیچھے موجود جذباتی و ایمانی روح کو بیان کرتا ہے۔ علامہ اقبال نے جب فرمایا کہ ”بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق“ تو یہاں لفظِ ”عشق“ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا استعارہ اور ان کے بے مثال ایمانی توکل کی علامت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ یہاں کودنے سے مراد جسمانی طور پر چھلانگ لگانا نہیں، بل کہ آگ کے دہکتے ہوئے شعلوں اور نمرود کے تمام تر خوف کے مقابلے میں اپنے ایمان و توکل پر قائم رہنا ہے۔
اگر ہم واقعے کے پس منظر کو دیکھیں تو نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سامنے دو واضح راستے رکھے تھے: پہلا راستہ یہ تھا کہ وہ نمرود کی خدائی کو تسلیم کر لیں اور دوسرا راستہ یہ تھا کہ وہ آگ کا عذاب قبول کر لیں۔ اللہ کے جلیل القدر نبیؑ کے پاس نمرود کی بات ماننے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، لہٰذا انھوں نے نمرود کی باطل خدائی کے آگے جھکنے کے بجائے آگ میں جانا اور اللہ کی رضا پر ثابت قدم رہنا پسند فرمایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تمام تر دنیاوی خطرات سے بے نیاز ہو کر حق کے راستے پر قائم رہنا ہی دراصل ”بے خطر آگ میں کودنا“ ہے، کیوں کہ عشق کو نتائج کا کوئی خوف نہیں ہوتا بل کہ اسے صرف اپنے رب کی ذات پر کامل یقین ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، شعر کا دوسرا مصرع ”عقل ہے محوِ تماشاۓ لبِ بام ابھی“ یہ واضح کرتا ہے کہ مادی عقل ہمیشہ نفع و نقصان، سوچ بچار اور ظاہری خطرات کا محاسبہ کرتی رہ جاتی ہے، جب کہ عشقِ الٰہی بغیر کسی خوف کے حق کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہو جاتا ہے۔ چناں چہ اشعارِ اقبال کو لفظی برتنے یا سطحی تاریخی اعتراضات کی نذر کرنے کی بجائے ان کے بنیادی مقصد اور فلسفیانہ گہرائی کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔