نیک اعمال بمقابلہ محنت : قوانینِ قدرت اور انسان کی خود فریبیاں
انسانی زندگی میں اکثر ایک بڑا فکری مغالطہ یہ جنم لیتا ہے کہ جب انسان نماز و روزے کا پابند ہو جاتا ہے، تہجد گزار بنتا ہے، تلاوتِ قرآن اور دیگر اخلاقی و اجتماعی نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے، تو وہ خود کو ایک ”نیکوکار“ انسان تصور کرنے لگتا ہے۔ اس نیکوکاری کے احساس کے ساتھ ہی غیر محسوس طریقے سے انسان کے اندر ایک خود فریبی اور خود پرستی پیدا ہو جاتی ہے کہ اب شاید دنیا کے تمام طبیعی اور فطرتی قوانین اس کے لیے بدل جائیں گے۔ وہ یہ سوچنے لگتا ہے کہ اب اسے بغیر پڑھے امتحان میں کامیابی مل جائے گی، بغیر محنت اور ہنر کے اعلیٰ عہدے حاصل ہو جائیں گے، یا بے احتیاطی، تیز رفتاری اور خطرات کے باوجود بھی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیوں کہ وہ خدا کا پیارا اور نیکی کے راستے پر گامزن ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نیکی، عبادت اور خدا سے تعلق کا اپنا مقام اور اجر ہے، لیکن اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے کائنات کے طبیعی قوانین معطل نہیں ہوتے۔ اگر ایک شخص آگ کو ہاتھ لگائے گا تو آگ اس کا ہاتھ جلائے گی، خواہ وہ کتنا ہی بڑا عابد و زاہد کیوں نہ ہو۔ اسی طرح اگر کوئی طالب علم رات دن تہجد اور دعائیں تو مانگے لیکن نصابی کتاب نہ کھولے اور محنت نہ کرے، تو وہ امتحان میں ناکام ہی ہوگا۔ اس کے برعکس اگر ایک غیر مسلم یا ملحد شخص، جو خدا پر یقین بھی نہیں رکھتا، لیکن وہ محنت، تحقیق اور کوشش کے تمام اصولوں پر عمل کرتا ہے، تو دنیاوی قانونِ قدرت کے تحت فتح اور کامیابی اسی کا مقدر بنے گی۔
معاشرتی اور عالمی سطح پر بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ اگر آج مغربی ممالک ٹیکنالوجی، سائنس، معیشت اور دنیاوی اقتدار پر غالب ہیں، تو اس کی بنیادی وجہ ان کی مسلسل محنت، تحقیق اور کوشش ہے۔ محض دعاؤں اور نیکی کے زعم میں عمل اور محنت کو ترک کر دینا ، اسلامی تعلیمات کی روح کے بالکل منافی ہے۔ دینِ اسلام جہاں روحانی بالیدگی، تزکیۂ نفس اور خدا کی قربت کا درس دیتا ہے، وہاں عملِ پیہم، محنت اور اسباب کے درست استعمال کی بھی تاکید بھی کرتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ نیکی اور تقویٰ انسان کے آخرت کے درجات اور روحانی سکون کی ضمانت ہیں، لیکن دنیاوی کامیابی، نظامِ زندگی کی بہتری اور ارتقاء صرف اور صرف محنت، ہنر اور قوانینِ فطرت کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔ نیکی کے گھمنڈ میں عمل کو چھوڑ دینا اور یہ توقع رکھنا کہ معجزانہ طور پر دنیا کے اصول بدل جائیں گے، ایک سائنسی و فکری باطل خیال کے سوا کچھ نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ دین اور دنیا، توکل اور محنت کے درمیان صحیح توازن قائم رکھے تاکہ حقیقی کامیابی حاصل ہو سکے۔