تعلیم اور پیسہ:ایک بڑی غلط فہمی کا ازالہ
آج کے ڈیجیٹل دور میں، جہاں سوشل میڈیا پر کم عمر یوٹیوبرز اور آن لائن بزنس کرنے والے افراد لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔ طلبہ کے ذہنوں میں ایک سوال شدت سے ابھر رہا ہے کہ آخر پڑھائی کا کیا فائدہ؟ اکثر کلاس رومز میں بچے اپنے اساتذہ سے یہ تلخ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ “سر! آپ اتنے پڑھے لکھے ہو کر بھی ایک پرانی موٹر سائیکل پر اسکول آتے ہیں، جب کہ ایک ان پڑھ شخص بڑی گاڑی میں گھوم رہا ہے، تو پھر ہم کیوں پڑھیں؟
یہ سوال بظاہر بڑا تلخ اورمنطقی لگتا ہے، مگر یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد صرف نوٹ چھاپنا نہیں ہے، بلکہ انسان کی شخصیت کی تعمیر ہے۔ آئیے اس مضمون میں ان سات بنیادی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں، جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ تعلیم آج بھی کیوں ضروری ہے۔
شعور اور وسعتِ نظری
پڑھائی کا سب سے پہلا اور بڑا مقصد انسان کو “شعور” دینا ہے۔ شعور کا مطلب ہے اچھے اور برے، صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت۔ جب ایک طالب علم مختلف مضامین جیسے فزکس، کیمسٹری، ریاضی اور تاریخ پڑھتا ہے، تو اس کا مقصد صرف فارمولے یاد کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے دماغ کی ورزش ہوتی ہے۔ یہ مضامین انسانی سوچ میں وسعت پیدا کرتے ہیں، جس سے وہ دنیا کے پیچیدہ معاملات کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔ اسے اپنے فیلڈ کا انتخاب کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
ڈگری بطور ٹوکن
اگرچہ آج کل “اسکلز یا مہارتوں کا دور ہے، لیکن ڈگری کی اہمیت سے انکار ہر گزممکن نہیں۔ دنیا بھر کی بڑی کمپنیوں اور اداروں میں داخلے یا ملازمت کے لیے ڈگری ایک “ٹوکن” کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کے پاس جتنی بھی مہارت ہو، بعض مقامات پر اپنی قابلیت ثابت کرنے کے لیے آپ کو اس دستاویزی ثبوت کی ضرورت پڑتی ہے۔ ڈگری کے بغیر انسان کئی جگہوں پر اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ محسوس کرتا ہے۔
معاشرے میں عزت اور مقام
قرآنِ پاک میں بھی یہ واضح کیا گیا ہے کہ “پڑھے لکھے اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے”۔ ایک پڑھا لکھا انسان اور ایک جاہل شخص، چاہے وہ کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو، معاشرتی رتبے میں کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ تعلیم انسان کو وہ وقار اور گفت گو کا سلیقہ عطا کرتی ہے، جو دولت سے نہیں خریدا جا سکتا۔ ایک پی ایچ ڈی اسکالر کی معاشرے میں جو عزت ہے، وہ محض پیسہ رکھنے والے ان پڑھ شخص کی نہیں ہو سکتی۔
ایک بہتر بزنس مین بننا
یہ ایک عام مغالطہ ہے کہ بزنس کے لیے تعلیم کی ضرورت نہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایک پڑھا لکھا شخص جب کاروبار کرتا ہے، تو وہ مارکیٹ کا تجزیہ، لوگوں کی نفسیات اور مینجمنٹ کے اصولوں کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے۔ وہ اپنی تعلیم کی بدولت نقصانات کے خطرات کو کم کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک سافٹ ویئر انجینئر اپنا سافٹ ویئر ہاؤس کھولتا ہے، تو وہ اسے ایک غیر تکنیکی بزنس مین کے مقابلے میں زیادہ کامیابی سے چلا سکے گا۔
نسلوں کی بہترین تربیت
تعلیم کا اثر صرف فرد واحد تک محدود نہیں رہتا بلکہ نسلوں تک منتقل ہوتا ہے۔ ایک پڑھا لکھا باپ اور ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی تربیت ان اصولوں پر کرتے ہیں، جو ان پڑھ والدین کے لیے ممکن نہیں ہوتی۔ تعلیم یافتہ والدین بچوں کے نفسیاتی مسائل، ان کی تعلیمی ضروریات اور اخلاقی تربیت کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں، جس سے ایک مہذب معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
معاشرے کی ناگزیر ضرورت
کوئی بھی معاشرہ صرف تاجروں سے نہیں چل سکتا۔ ہمیں ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدانوں اور ماہرینِ تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہر بچہ یہ سوچ کر پڑھائی چھوڑ دے کہ وہ صرف بزنس کرے گا، تو انسانیت کی خدمت اور سائنسی ترقی رک جائے گی۔ نیوٹن، آئن سٹائن اور دورِ حاضر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس(اے۔ آئی) پر کام کرنے والے تمام افراد پڑھے لکھے لوگ تھے، جنھوں نے دنیا کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ یہ انقلاب کسی جاہل بزنس مین نے نہیں بلکہ علم والوں نے برپا کیا ہے۔
دنیا اور آخرت میں کامیابی
ایک پڑھا لکھا انسان اپنے حقوق اور فرائض سے واقف ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شہری کے طور پر اس کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور دوسروں کے حقوق کیا ہیں۔ وہ قوانین کی پاسداری کرتا ہے اور ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ یہی شعور اسے خالقِ حقیقی کی پہچان اور انسانیت کی خدمت کے ذریعے آخرت میں بھی سرخرو کرتا ہے۔
حاصل بحث
یہ سچ ہے کہ دنیا کا 80 فیصد سرمایہ شاید چند ایسے لوگوں کے پاس ہو جو رسمی طور پر زیادہ تعلیم یافتہ نہ ہوں، لیکن وہ لوگ بھی اپنے کاروبار چلانے کے لیے پڑھے لکھے ماہرین کے ہی محتاج ہوتے ہیں۔ اگر آپ صرف “رٹا” لگانے یا ڈگری کی دیوار سجانے کے لیے پڑھ رہے ہیں، تو شاید آپ کو وہ فائدہ نہ ملے، لیکن اگر آپ اپنے پسندیدہ شعبے میں مہارت حاصل کرنے اور شعور پانے کے لیے پڑھ رہے ہیں، تو تعلیم آپ کے لیے دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیوں کے دروازے کھول دے گی۔اس لیے کبھی یہ نہ سوچیں کہ پڑھائی کا فائدہ نہیں، بلکہ یہ سوچیں کہ آپ نے اپنی تعلیم کو انسانیت اور اپنی ذات کی بہتری کے لیے کیسے استعمال کرنا ہے