جھوٹ: تمام برائیوں کی جڑ اور اس کے معاشرتی اثرات
انسانی معاشرہ اخلاقی اقدار، سچائی اور باہمی بھروسے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس بنیاد میں ’جھوٹ‘ جیسا گھن لگ جائے تو پورا سماجی ڈھانچہ بوسیدہ ہو کر گرنے لگتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بے شمار برائیاں پائی جاتی ہیں، لیکن اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ وہ بنیادی برائی ہے, جسے تمام برائیوں کی جڑتسلیم کیا جاتا ہے۔ اگر ہم صرف اپنی زندگیوں سے جھوٹ نکال دیں، تو دنیا کی اکثر برائیاں خود بخود دم توڑ دیں گی۔جھوٹ سے کیسے بچا جا سکتا آئیے ذیل میں اس پر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔
جھوٹ کا بڑھتا ہوا سیلاب اور ٹیکنالوجی کا دور
آج ہم ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے دور میں جی رہے ہیں۔ سوشل میڈیا جہاں معلومات کا تیز ترین ذریعہ ہے، وہیں یہ جھوٹ پھیلانے کا سب سے بڑا آلہ بھی بن چکا ہے۔ ہم بغیر کسی تحقیق اور سورس (مستند ذرائع) کو دیکھے، محض ایک کلک کے ذریعے جھوٹی خبریں، من گھڑت قصے اور یہاں تک کہ غلط مذہبی حوالہ جات بھی آگے پھیلا دیتے ہیں۔ یہ ’ڈیجیٹل جھوٹ‘ معاشرے میں ہیجان اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کر رہا ہے۔
تربیت کا فقدان: گھر سے شروع ہونے والا سفر
جھوٹ کی جڑیں اکثر ہمارے گھروں سے شروع ہوتی ہیں۔ جب ہم اپنے بچوں کے سامنے چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھوٹ بولتے ہیں یا انھیں کسی سے بچنے کے لیے جھوٹ بولنا سکھاتے ہیں، تو ہم نادانستہ طور پر ان کی شخصیت میں ایک ایسی بیماری منتقل کر رہے ہوتے ہیں، جو عمر بھر ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے انسان کو سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں، اور یوں ’جھوٹ پر جھوٹ‘ کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جو نوجوان نسل کی اخلاقی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
جھوٹ کی اقسام اور شرعی نقطہ نظر
جھوٹ صرف غلط بیانی کا نام نہیں، اس کی مختلف خطرناک صورتیں ہیں:۔
جھوٹ بولنا: عام گفت گو میں حقائق کو مسخ کرنا۔
جھوٹ پھیلانا: سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے دوسروں تک پہنچانا۔
جھوٹ باندھنا: یہ سب سے خطرناک صورت ہے۔ جب کوئی شخص اللہ یا اس کے رسول ﷺ کی ذات کے ساتھ کوئی غلط بات منسوب کرتا ہے، تو اسے ’جھوٹ باندھنا‘ کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ہم صحابہ کرام، اہل بیت اور صوفیاکرام یا پھر اہم شخصیت کسے ساتھ بھی باتیں منسوب کر دیتے ہیں، تاکہ کہ لوگ یقین کر لیں۔جو کہ انتہائی برا عمل ہے۔
قرآن مجید میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ “لعنت اللہ علی الکاذبین” (جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے)۔ جھوٹ بولنے والے کو ظالم، منافق اور ناانصاف قرار دیا گیا ہے۔ احادیث مبارکہ میں بھی اس شخص کے لیے سخت وعید ہے جو من گھڑت باتیں نبی کریم ﷺ سے منسوب کرتا ہے، ایسے شخص کا ٹھکانہ جہنم بتایا گیا ہے۔
معاشرتی رویے اور جھوٹ کی حوصلہ افزائی
افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں معیار بدل چکے ہیں۔ آج اگر کوئی شخص سچی اور کھری بات کرے تو اسے ’سادہ لوح‘ سمجھ کر اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص چرب زبانی اور جھوٹ کے سہارے دوسروں کو دھوکہ دینے میں ماہر ہو، اسے ’چالاک‘، ’ہوشیار‘ اور ’باشعور‘ سمجھ کر سراہا جاتا ہے۔ جب معاشرہ جھوٹے کی حوصلہ افزائی شروع کر دے، تو سچ بولنا ایک جرم بن جاتا ہے۔
سچائی کی برکتیں اور جھوٹ کے نقصانات
جھوٹے شخص کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ لوگوں کا اعتماد کھو دیتا ہے۔ جب بھروسہ ختم ہو جائے تو اخلاقی طور پر اس انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ کوئی اسے اپنا امانت دار نہیں بناتا اور نہ ہی کوئی اس کی بات پر یقین کرتا ہے۔ جب کہ سچ بولنے سے انسان کا معاشرتی قد بڑھتا ہے، اخلاقی اقدار مستحکم ہوتی ہیں اور سب سے بڑھ کر اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔
مرزا غالب نے کیا خوب کہا تھا۔
صادق ہوں اپنے قول کا غالب خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
سچائی کا راستہ: ایک کٹھن امتحان
سچ بولنا آسان نہیں ہے۔ حق بات کہنے پر آپ کو معاشرتی دباؤ، اپنوں کی ناراضی اور بعض اوقات ریاست کے جبر کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن یہی وہ امتحان ہے جہاں آپ کے ایمان کی پختگی ظاہر ہوتی ہے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ’’ سچوں کے ساتھ ہو جاؤ‘‘۔ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو حق پر قائم رہے، جب کہ جھوٹے اور منافق تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہو جاتے ہیں۔
عملی اقدام: آج سے عہد کریں
معاشرے کی اصلاح کا خواب تب تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ،جب تک ہم انفرادی سطح پر تبدیلی نہیں لاتے۔ یہ مت سوچیں کہ دوسرا جھوٹ بول رہا ہے یا حکمران جھوٹ بول رہے ہیں، بلکہ یہ سوچیں کہ ’’میں نے جھوٹ نہیں بولنا‘‘۔
آئیے آج ہم یہ عہد کریں کہ
ہم کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے، چاہے معاملہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو(مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولیں گے)۔
ہم بغیر تحقیق کیے کوئی خبر آگے نہیں پھیلائیں گے۔
ہم حق اور سچ کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔
جب ہم اپنی زندگیوں سے جھوٹ نکال دیں گے، تو ہمارا معاشرہ ایک پرامن، قابل بھروسہ اور ترقی یافتہ معاشرہ بن جائے گا۔ یاد رکھین سچائی ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت کی کامیابی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اگر آپ کو کہیں خوف ہو کہ آپ کے سچ بولنے سے کسی کو نقصان پہنچ سکتا تو وہاں خاموش ہو جانا بہتر ہے۔